بن شعبہ بن ابی عامر بن مسعود بن معتب بن مالک بن کعب بن عمرو بن سعد بن عوف بن قیس: ان کا تعلق بنو ثقیف سے تھا اور ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ ایک روایت میں ابو عیسیٰ بھی آئی ہے۔ ان کی والدہ امامہ بنتِ افقم بن عمرو تھیں۔ جو بنو نصر میں معاویہ سے تھیں۔ مغیرہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایمان لائے تھے اور صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ اس موقعہ پر انہوں نے عروہ بن مسعود سے مذاکرے میں حصّہ لیا تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ابو عیسیٰ کی کنیت عطا کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ابو عبد اللہ کہنا شروع کر دیا تھا۔ جناب مغیرہ اپنی عقل رسا کی وجہ سے مشہور تھے۔ شعبی کہتے ہیں، عرب کے دانشور چار تھے۔ ۱۔ معاویہ بن ابو سفیان ۲۔ عمرو بن عاص ۳۔ مغیرہ بن شعبہ ۴۔ زیاد: اول الذّکر وسیع الظرفی اور حکم کی وجہ سے، عمرو بن عاص حل مشکلات کی بنا پر، مغیرہ بن شعبہ عقلِ رسا اور جودتِ فکر ک۔۔۔
مزید
بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم قرشی ہاشمی۔ مکے میں قبل از ہجرت پیدا ہوئے اور ایک روایت میں ہے کہ اُنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے صرف چھ برس نصیب ہُوئے۔ ان کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور ام یحییٰ کا نام امامہ بنت ابو العاص تھا اور جناب امامہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا بنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ امامہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بعد از وفاتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا شادی کی تھی۔جب حضرت علی ملجم کے ہاتھوں زخمی ہوئے تو وصیت کی کہ ان کے بعد مغیرہ بن نوفل امامہ سے نکاح کر لیں۔ بروایتے ان کی کنیت ابو حلیمہ تھی۔ یہ وہی شخص ہیں، جنہوں نے ابنِ ملجم پر کھیس ڈالا تھا۔ جب اس نے حضرت علی کو زخمی کردیا تھا۔ جب لوگوں نے ابنِ ملجم کو پکڑنے کی کوشش کی، تو وہ ان پر تلوار سے حملہ آور ہوا، لوگ آگے سے ہٹ گئے۔ اب مغیرہ سے آمنا سامنا تھا۔ انہوں نے کھیس اس پر ڈال کر اسے زمین پ۔۔۔
مزید
بن اوس بن حرثان بن حارث بن عوف بن ربیعہ بن یربوع بن واثلہ بن وہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر بن ہوازن ابوسعید۔ بعض نے ابوسعید نصری لکھا ہے۔ ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی، محمد بن اسحاق بن خزیمہ اور احمد بن صالح المصری نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ انس بن عیاض نے سلمہ بن وردان سے اور اس نے مالک بن اوس سے روایت کی ہے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ضروری ہوگیا‘‘ لیکن یہ وہم ہے اور صحیح نام انس بن مالک ہے۔ ابن ابی فدیک نے سلمہ سے اس نے انس بن مالک سے روایت کی۔ واقدی لکھتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں مالک بن اوس شاہ سواروں میں شمار ہوتے تھے۔ سلمہ بن وردان راوی ہے کہ میں نے انس بن مالک بن اوس، سلمہ بن اکوع اور عبدالرحمٰن بن اثیم کی زیارت کی اور یہ سب حضرات صحابی تھے۔ انھوں نے کبھی اپنے بڑھاپے کو نہ چھپایا اور ن۔۔۔
مزید
بن اوس بن عبداللہ بن حجر الاسلمی: انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہجرت کی اور جحفہ کے مقام سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کس کا ہے یہ اونٹ، انھوں نے عرض کیا، بنو اسلم کے ایک شخص کا ہے، فرمایا سَلَّمْتَ: بچ گئے تم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے مالک سے اس کا نام پوچھا، اس نے عرض کیا: مسعود، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حضرت ابوبکر کو مخاطب ہوکر فرمایا: سَعَدْتَ ان شاء اللہ: اگر خدا نے چاہا تو خوش بختی تمہارا ساتھ دے گی، میرا والد حضور اکرم کے قریب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اونٹ پر بٹھالیا، ابوعمر، ابونعیم اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن اوس بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی۔ زعوراء عبدالاشہل کا بھائی تھا اور یہ دونوں مدینے کے پاس ایک ٹیلے پر رہتے تھے۔ جناب مالک غزوۂ احد، خندق اور بعد کے غزوات میں شریک رہے تھے۔ بعد میں دونوں بھائی جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ابوعمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
: یہ صحابی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں البتہ ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ہے، ہمیں ابو الفرح یحییٰ بن محمود نے بہ اسناد خود مسلم بن حجاج سے، اس نے عبداللہ بن مسلمہ القعبت۔۔۔
مزید
بن برھ بن نہثل المجاشعی: ابن شاہین نے انھیں صحابی میں شمار کیا ہے۔ ابو معشر نجیح نے یزید بن رومان اور محمد بن کعب القرظی سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مالک بن برھ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ کیا میں اپنے قبیلے کا بہترین فرد نہیں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم میں عقل ہے، تو بلاشبہ یہ خوبی وجہ فضیلت ہوگی، اگر تم میں اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہوں، تو با مروت ہو گے اور اگر تم مالدار ہو تو با حیثیت شمار ہوگے اور اگر تم دین دار ہو تو متقی اور پرہیزگار ہوگے۔ اک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم متقی ہو تو لازماً دین دار ہوگے۔ ایک اور روایت کے مطابق جناب مالک رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف ہے! مالک بن عمرو بن مالک بن برھ۔ یعنی سلسلۂ نسب میں بعض نام رہ گئے ہیں۔ جس کا ذکر آتا ہے۔۔۔۔
مزید
بن ثابت الانصاری: ان کا تعلق بنو النبیت یعنی عمرو بن مالک بن اوس سے تھا، جناب مالک اور ان کے بھائی ان لوگوں میں شامل تھے، جنھیں وعر کے سے بئر معونہ کے مقام پر شہید کردیا گیا تھا۔ واقدی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ: ابوموسیٰ کا بیان ہے کہ میں نے ابوعبداللہ بن مندہ کی تحریروں کے ایک جزو پر لکھا دیکھا اس میں مقاتل بن سلیمان نے ضحاک سے اور اس نے جابر بن عبداللہ سے یہ روایت درج تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مالک بن ثعلبہ کے ایک امیر کبیر نوجوان تھا۔ ایک دن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مجلس کے قریب سے گزرا آپ اس وقت وَالَّذِیْنَ یَکْنِزون الذہب والفضۃ والی آیتِ مبارکہ پڑھ رہے تھے ، اس نوجوان کے کان میں یہ الفاظ پڑھے تو وہ بے ہوش ہوکر گر پڑا، جب ہوش میں آیا تو دربار رسالت میں حاضر ہوکر گزارش کی یارسول اللہ! جو آیت آپ تلاوت فرما رہے تھے آیا وہ ا س آدمی کے بارے میں ہے جس میں سونے چاندی کے خزانے جمع کیے ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں مالک! بات تو یہی ہے۔‘‘ اس پر اس جوان نے کہا یارسول اللہ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو نبوت عطا کی، شام کے آنے سے پہلے میں اپنا سار مال و۔۔۔
مزید