حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان کے نام کے متعلق کئی روایات ہیں: کیسان، طہمان، ذکوان، میمون، ہرمز۔ اس اختلاف کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ روایت ہے کہ آلِ ابی طالب کے مولی تھے۔ عبد الواہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ، عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے وکیع سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے سائب سے روایت کی، ان کا بیان ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم کے پاس صدقہ لے کر گئے۔ انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور وجہ یہ بیان کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام مہران نے انہیں بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت کے لیے صدقہ حرام قرار دیا ہے اور قبیلے کا غلام ان ہی سے شمار کیا جائے گا۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن علاط سلمی: حجاج بن علاط کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان ہوچکا ہے۔ ان کی والدہ ام شیبہ بنتِ طلحہ تھیں۔ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے: ابو عمر کی یہی رائے ہے ارباب سیرو تاریخ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن مبارک نے بھی ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ معرض معرکۂ جمل میں مارے گئے تھے۔ ان کے بھائی حجاج نے ان کی موت پر ذیل کا شعر کہا۔ وَلَمْ اَوَیَوْمَا کَانَ اکثر سَاعِیْاً بِکَفِّ شِمَالٍ فَارَقتھا یَمْنُھَا ترجمہ: مَیں نے کوئی ایسا دن نہیں دیکھا۔ جِس میں اس نے بائیں ہاتھ سے، بغیر دائیں کے اتنی محنت کی ہو۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیاہے۔ جناب حجاج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدح میں کئی اشعار کہے ہیں۔۔۔۔
مزید
بن معیقیب یمامی: شاصویہ بن عبید ابو محمد یمامی نے ان سے حدیث روایت کی ہے، شاصویہ نے معرض بن عبد اللہ بن معرض بن معیقیب سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ حجتہ الوداع میں شامل تھے۔ مکہ میں ایک مکان میں داخل ہوئے۔ وہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اور آپ کا چہرہ مبارک چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اس سے عجیب تر جو چیز مشاہدہ کی وہ یہ تھی کہ اہلِ یمامہ کا ایک آدمی ایک بچے کو کپڑے میں لپیٹے ہوئے لایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے دریافت کیا۔ کیا تم[۱] جانتے ہو کہ مَیں کون ہوں۔ بچّے نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حضور نے فرمایا، تو نے درست کہا۔ اللہ تجھے برکت دے اس کے بعد وہ بچہ جوانی تک خاموش رہا۔ لوگ اسے مبارک الیمامہ کہتے تھے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ [۱۔ حدیث اس بے مخدوش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچے سے پوچھنے کی کیا ضرورت ۔۔۔
مزید
الحضرمی ابو الفتح ازدی نے ان کا ذکر اسمائے مفردہ میں کیا ہے اور باسنادہ جریر بن عثمان رحسبی سے انہوں نے شرجیل بن شفع سے انہوں نے نا سچ حضرمی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کی خرید و فروخت میں مصروف تھے اور قسمیں کھا رہے تھے۔ ایک کہتا کہ میں اتنے روپوں سے کم نہیں لوں گا دوسرا کہتا کہ میں اتنے سے زیادہ نہ دوں گا آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی نے خرید لیا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں میں سے ایک نے گناہ بھی کمایا ہے اور کفارہ قسم بھی ادا کرنا ہوگا۔ ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے ان کا ذکر باب النون میں کیا ہے لیکن میرے والد نے اس روایت کو عبد اللہ بن ناسچ سے منسوب کیا ہے ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سوید الجہنی ان سے ان کے بیٹے مریح اور علی بن ریاح نے روایت کی ان سے ان کے بیٹے مریح نے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد نا شرہ کو کسی جنگی مہم پر روانہ فرمایا اور میں اپنی والدہ کے پیٹ میں تھا اس اثنا میں میری ولادت ہوگئی اور مجھے میری والدہ اٹھا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک مجھ پر پھیرا میری والدہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! بچے کا نام تجویز فرمادیجے ارشاد ہوا چونکہ اس نے داخلہ اسلام میں جلدی کی ہے اس لیے اس کا نام مریح ہوگا ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
یہ میمون کے والد تھے۔ میمون نے اپنے والد سے روایت کی۔ عمرو بن میمون بن مہزان نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز میں سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص رہی۔ ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن بدیل بن ورقاء ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں نافع خود ان کے بھائی اور والد جلیل القدر صحابہ میں سے تھے بروایت ابن اسحاق نافع منذر بن عمرو اور عامر بن فہیرہ چالیس اور صحابہ کے ساتھ بڑمعونہ پر دھوکے سے قتل کردیئے تھے عبد اللہ بن رواحہ نے ان کی شہادت پر ذیل کے دو اشعار کہے۔ رَحِمَ اللہُ نَافِعَ بنَ بَدَیل رَحْمَۃ المبتِغیْ ثوابَ الجَہَادٖ ترجمہ: نافع بن بدیل پر خدا کی رحمت ہو، ایسی رحمت جو ثواب جہاد کی خواہش مند ہو۔ صَابِراً صادِق الْوعُدِ اِذَا مَا اَکْثَرالْقوْمِ قَالَ قوْلَ السِّدادٍ ترجمہ: وہ بڑا صابر اور صادق الوعد تھا جس مقام پر کہ زیادہ تر لوگ ڈھیلی بات کہتے تھے۔ ابو عمر ابو نعیم اور ابو موسی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
p> بن یزید: ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ اہل کوفہ سے تھے۔ انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ حضرت عثمان کے عہد میں آذر بائیجان میں مارے گئے تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن وہب الکندی ان سے سعید بن جبیر نے روایت کی انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ مَیں اس امر کو جائز قرار نہیں دوں گا کہ تم سبز، سفید یا سیاہ رنگ کے برتن میں نبیذ تیار کرو۔ ہاں اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گلاس یا پینے کے برتن میں نبیذ تیار کرو اور جب اس کا ذائقہ ٹھیک ہوجائے۔ تو پی لو۔ ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
یہ نام ہے، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدِ شمس کا۔ ان کے نام کے بارے میں اور بھی کئی روایات ہیں۔ اس کا ذکر گزر چکا ہے اور کنیتوں کے عنوان کے تحت ہم ذرا تفصیل سے ان کا ذکر کریں گے۔ کیونکہ وہ اپنی کنیّت کی وجہ سے زیادہ مشہور ہیں۔۔۔۔
مزید