بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار ابو الروم العبدری: یہ مصعب بن عمیر کے بھائی تھے، ابو بکر بن درید نے اسی طرح ان کا نام لکھا ہے۔ ابو الروم کا لقب انہیں مہاجرین حبش نے دیا تھا۔ غزوۂ اُحد میں موجود تھے۔ حافظ ابو القاسم و مشقی نے اِن کا ذکر کیا ہے۔ ہم کنیتوں کے تحت ذرا تفصیل سے پھر انکا ذکر کریں گے۔۔۔۔
مزید
بن زبان سیار بن عمرو اور وہ عشراء بن جابر بن عقیل بن ہلال بن سمی بن مازن بن فزارۃ الفزاری ہیں اور یہ وہ آدمی ہے جس نے اپنی سوتیلی ماں سے شادی کی تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے براء کے ماموں کو حکم دیا کہ وہ اسے قتل کردیں۔ اور وہ حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب کی ماں کے دادا تھے۔ اور ان کے والدہ خولہ بنت منظور تھیں۔ اور وہ ابراہیم بن طلحہ کی ماں بھی تھیں۔ ابنِ ماکو لانے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو حضور اکرم اس جرم میں اس کے قتل کا حکم نہ دیتے۔ وہ بحالت کفر مارا گیا۔۔۔۔
مزید
بن عمرو اسلمی: ابو مروان ان کی کنیت تھی۔ ان سے ان کے بیٹے عطا نے روایت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ماعز وہاں آگئے۔ اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ۔ یہ امیر کا قول ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کے بیٹے کا نام الحکم تھا اور ہ عنہ وہ ابو عامر راہب کے آزاد کردہ غلام تھے۔ بقول مصعب زبیری جناب مینا غزوۂ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان کے بیٹے الحکم نے ابنِ عمر اور ابو ہریرہ سے روایت کی ہے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن لبابتہ الاسدی: بنو اسد بن خزیمہ سے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے، جو بنو غنم بن دودان بن اسد سے ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ لبابہ لام سے لکھا جاتا ہے، لیکن ابو موسیٰ نے نباتہ نون سے لکھا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ دونوں نام ایک دوسرے کی تصحیف ہیں۔ ان کے سلسلۂ نسب میں جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں معبد کا نام بھی آتا ہے۔ ابو نعیم اور ابن مندہ دونوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور بناتہ نام لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
بن حمراء: ان کا سلسلۂ نسب یوں ہے: معتب بن عوف بن عامر بن فضل بن عفیف بن کلیب بن حبشیہ بن سلول بن کعب بن عمر و الخزاعی السلولی: بنو مخزوم کے حلیف تھے اور عرف ابن الحمراء تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے، (بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از حلفائے۔ بنو مخزوم) انہوں نے معتب بن عوف بن عامر بن عامر بن فضل بن عفیف سے (اور یہ وہ آدمی ہے جسے عیہامہ بن کلیب بن سلول بن کعب از بنو خزاعہ کہا جاتا ہے) اسی اسناد سے از ابن اسحاق مروی ہے کہ یہ بنو مخزوم بن نقط و معتب بن عدف بن عامر سے تھے جو بنو خزاعہ سے ان کے حلیف تھے، ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے رسول اکرم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور ثعلبہ بن حاطب الانصاری کے درمیان مواخات قائم کردی تھی۔ انہوں نے ۵۷ ہجری میں وفات پائی۔ ایک روایت میں ان کی عمر اس وقت ۷۸ برس تھی۔ طبری کی ر۔۔۔
مزید
بن عبید بن ایاس البلوی: یہ انصار کے بنو ظفر کے حلیف تھے۔ ابن اسحاق اور ابن عقبہ نے انہیں غزوۂ بدر کے شرکاء میں شامل کیا ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا شمار صحابہ میں ہوتا ہے۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور خود ان سے ان کے بیٹے کلیب بن منفعہ نے روایت کی۔ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! مَیں کس سے بھلائی کروں۔ فرمایا، اپنی ماں سے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن قشیر: ایک روایت میں معتب بن بشیر بن ملیل بن زید بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی آیا ہے۔ بیعت عقبہ میں اور بدر اور اُحد میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ انصار کے بنو ضبیعہ بن زید اور معتب بن فلاں بن ملیل غزوہ بدر میں موجود تھے۔ یہ لاولد تھے۔ یونس کی روایت میں اسی طرح ہے۔ اس نے ان کے والد کا نام نہیں لکھا۔ بکائی اور سلمہ نے ابن اسحاق سے روایت کی اور ان کے والد کا نام قشیر لکھا ہے۔ اسی اسناد سے ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ان سے یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے اپنے والد سے اُنہوں نے اپنے دادا سے اُنہوں نے زبیر سے روایت کی۔ بخدا مَیں نے ایسا محسوس کیا۔ گویا مجھ پر نیند نے غلبہ پالیا ہے۔ مَیں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اور معتب بن قشیر کو یہ کہتے سن رہا ہوں: ’’لَوْکَانَ لَنَا مِنَ اللہِ شیْیٌ مَا ق۔۔۔
مزید
بن ابی لہب بن عبد المطلب بن ہاشم، قرشی ہاشمی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمزاد تھے اور ان کی والدہ ام جمیل بنتِ حرب بن اُمیّہ تھی۔ جسے قرآن نے حمالۃ الحطب کہا ہے جو ابو سفیان کی بہن تھی۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے دریافت فرمایا، کہ آپ کے بھتیجے عتبہ اور معتب دکھائی نہیں دیے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! مشرکین قریش کی طرح وہ بھی آگے پیچھے ہوگئے ہیں۔ فرمایا۔ آپ انہیں بلا لائیں۔ حضرت عباس سوار ہوکر گئے اور انہیں عرفہ سے بلا لائے۔ حضور نے انہیں دعوتِ اسلام دی، جو انہوں نے قبول کرلی۔ یہ ابو موسیٰ کا قول ہے۔ ابو عمر لکھتے ہیں: کہ عتبہ اور معتب دونوں غزوۂ حنین میں شریک تھے، چنانچہ معرکۂ حنین میں معتب کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔ یہ اسلام میں ثابت قدم رہے۔ ان کی اولاد سے قاسم بن عباس بن محمد بن معتب تھے۔ ان سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے اور ان کے بیٹے عباس ب۔۔۔
مزید