حضرت مولانا شاہ عبد الحامد بد ایونی علیہ الرحمۃ حضرت مولانا حکیم شاہ عبد القیوم شہید کےچھوٹے صاحبزادے، ۱۳۱۸ھ میں دہلی میں اپنی نانہال میں پیدا ہوئے، ‘‘محمد ذوالفقار حق’’ تاریخی نام، والدہ ماجدہ کا سلسلۂ نسب حضرت غوث اعظم سےہے، حضرت مولانا شاہ عبدالقدیر بد ایونی اور اساتذہ مدرسہ خانقاہ قادریہ سے تعلیم پائی، وعظ وتقریر خصوصی ملکہ تھا، کبھی نامور بزرگ بھائی کے ساتھ اور کبھی تنہا ہندوستان کے بلادو امصار میں مجالس میلاد، سیاسی کانفرنسوں میں شریک ہوتے، انتظامی صلاحیتوں سے آراستہ تھے، برادر بزرگ کی زندگی میں جامعہ شمس العلوم کے نائب مہتمم اور اُن کے معاون وسکریٹری رہے، بعد میں جامعہ شمس العلوم کے مہتمم ہوگئے، تحریک مسلم لیگ اور پاکستان کے قیام کےمطالبہ میں آپ کا ممتاز کردار رہا، تقسیم کے بعد کراچی تشریف لے گئے، کراچی میں مقیم تھے، ایک عرصہ تک ریڈیو پاکستان سے تفس۔۔۔
مزید
شیخ عبد الکریم بنشیخ عبداللہ ساکن محلہ بزریہ قصبہ آنولہ ضلع بریلیکے صاحبزادے حضرت مولانا عبد المجید ۱۸۷۲ھ میں اپنےوطن میں پیدا ہوئے، حافظ محمد عوض سےحفظ قرآن کےبعد مولوی بابرکت اللہ امر وہی اور حکیم محبوب علی خاں رئیس آنولہ سےابتدائی کتابیں پڑھیں، درس نظامی کی تکمیل کےلیے مدرسہ قادریہ بد ایوں میں داخل ہوئے اور حضرت مولانا شاہ مطیع الرسول محمد عبد المقتدر، مولانا مفتی حافظ بخش سے تکمیل کی، اور حضرت مطیع الرسول سے مرید ہوئے، حکیم احسان غنی بد ایونی سے طب پڑھی۔۔۔۔۔ کوچ بہار میں جہاں آپ کے والد اور چچا شیخ عبد الرحیم دریوں کی تجارت کرتےتھے بیس برس مقیم رہے، ایک بار وہیں سے وطن آتے ہوئے ٹانڈہ میں آپ کا قیام ہوا، اور کئی جلسوں میں آپ کی تقریریں ہوئیں جس کو لوگوں نے بہت پسند کیا، ٹانڈہ کی علمی پسماندگی کو دور کرنے لیےلیے اہل قصبہ نے مستقل قیام کی دعوت پیش کی، مقصد کی پاکیزگی اور بلندی کے پیش نظ۔۔۔
مزید
والد کا نام حافظ عبد المجید، ۱۳۱۴ھ کےکسی دو شنبہ کو اپنےقصبہ بھوج پور ضلع مراد آباد میں میں پیدا ہوئے آپ کےداد مُلا عبد الرحیم صاحب نے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہٗ کے نا پر نام رکھا اور کہا، میری آرزو ہے کہ یہ پڑھ کر عالم دین ہو، خدا کا کرنا کہ حضرت دہلوی کی طرح آپ بھی مرجع طلبہ ہوئے، حافظ قرآن ہونے کےسالہا سال بعد جامعہ نعیمیہ مراد آباد پہونچے، راقم اور اُق کےاستاذ حضرت مولانا عبد العزیز خاں اشرفی فتح پوری مدظلہٗ العالی سے جو اُن دنوں منتہی کتابوں کے طالب علم تھے فارسی وعربی شروع کی، اور حضرت استادی مولانا غلام جیلانی میرٹھی مدظلہٗ العالی سے کافیہ کا درس لیا، یہاں سے ۱۳۴۱ھ کے بعد حضرت صدر الشریعۃ کی ہمراہی میں بریلی آئے، شعبان ۱۳۵۲ھ میں مدرسہ منظر اسلام میں دورۂ حدیث کا تکملہ کر کے فراغت پاکر سند اجازت حاصل کی، اسی سنہ میں اپنے پیر ومرشد قطب المشائخ مخدوم شاہ علی حسین اشرفی ۔۔۔
مزید
مولانا فیض احمدعثمانی، حضرت مولانا حکیم غلام احمد عثمانی کے بڑے صاحبزادے ۱۲۲۳ھ میں پیدا ہوئے، انہوں نےاپنے ماموں حضرت مولانا شاہ فضل رسول بد ایونی سے علوم و فنون کی تکمیل کی، اپنے نانا حضرت شاہ عین الحق عبدالمجید قدس سرہٗ سے مرید ہوئے،۔۔۔ مولانا فیض احمد نہایت ذہین وذکی تھے، مولانا شاہ فضل رسول صاحب فرماتے تھے کہ فیض احمد ہمشیرہ زادہ کمالات انسانی کے جامع اور علوم مروجہ میں اپنے معاصرین پر فائق تھے، مولانا آگرہ میں سر رشتہ ار تھے، سلسلۂ ملازمت کے ساتھ درس و تدریس کا مشغلہ بھی تھا، اکمل التاریخ میں مذکور ہے، اہل حاجت کی دستگیری کےلیے، وطن کے اہل غرض مطلب بر آری کے لیے روزانہ حاضر خدمت ہوتے، ہر وقت مطیخ گرم رہتا، فقراء سے محبت، غرباء سے الفت، طلبہ کے شیدائی، شائقین علم کے فدائی تھے، شاگردوں کی تمام ضروریات کے خود متکفل ہوتے تھے، شاعری کا مذاق سلیم تھا، کلام میں حسنِ نصاحت اورنگِ بلاغت دونوں۔۔۔
مزید
حضرت مولانا فقیر محمد اعظمی کانپوری رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا فقیر محمد اعظمی قریش برادری کے بے مثل عالم و عارف تھے، تحصیل علم کے لیے حضرت اُستاذ زمن مولانا شاہ احمد حسن کانپوری کی خدمت میں کانپور آئے، اور تکمیل کے بعد کانپور کو وطن بنالیا، مدرسہ احسنالمدارس قدیم میں درس دیتے تھے، نہایت قانع، متورع اور زاہد تھے حق گوئی اور بے باکی آپ کےخصوصی اوصاف تھے، بروز یکشنبہ ۵؍ذی قعدہ ۱۳۵۳ کو انتقال ہوا، تکیہ بساطیان میں مولانا احمد حسن صاحب کے مزار سے چند قدم کے فاصلہ جانب جنوب مغرب دفن کیے گئے۔۔۔۔
مزید
والد ماجد حقائق آگاہ شاہ عبداللہ فاروقی بد ایونی حضرت شاہ عین الحق عبدالمجید بد ایونی کے مرید تھے، پیر ومرشد کے نام کی رعایت اور حصول برکت کے لیے لڑکے کا نام فضل مجید رکھا۔ سلسلۂ نسب سولہ۱۶، واسطوں سے گنج شکر کانِ نمک حضرت فرید الملۃ مسعود قدس سرہٗ تک پہنچتا ہے، ۱۲۶۸ھ میں پیدا ہوئے، حضرت تاج الفحول مولانا شاہ محب رسول عبدالقادر قدس سرہٗ استاذ العلماء مولانانور احمد قدس سرہٗ سےتکمیل کر کےفارغ ہوئے، نامور اور متبحر علماء میں آپ کا ممتاز مقام تھا، ۔۔۔۔ حضرت سیف اللہ المسلول کے مرید اور حضرت تاج الفحول کے شیدائی اور دارفتۂ کمال، خلوق وجلوت میں، سفر وحضر میں ہمرکاب رہتے، اخلاق، تدبر، اصابت رائے، تقدس وتورع آپ کے اوصاف خصوصی تھے، حضرت تاج الفحول کے بعد حضرت مطیع الرسول شاہ عبدالمقتدر کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہتے، حضرت مطیع الرسول کی معیت میں ۱۳۲۵ھ میں حج کے لیے گئے، مدینہ منورہ میں حضرت مطیع ۔۔۔
مزید
صاحب گنج گیا کے رہنے والے، حضرت مولانا مفتی لطف اللہ علی گڈھی کے ممتاز تلمیذ رشید، بہار کےمشاہیر علماء میں تھے، مفاسد ندوۃ العلماء کے کے دور کرنے والوں میں تھے، وعظ و تدریس اور رشدو ہدایت میں عمر گذری، سال وفات معلوم نہ ہوسکا۔۔۔۔
مزید
بد ایوں کے باشندہ ، مولوی غلام جیلانی کے فرزند، بد ایوں میں ولادت ہوئی، مدرسہ عالیہ قادریہ کے اساتذہ سے کسب علوم کیا، تاج الفھول مولانا شاہ عبد القادر محب رسول کے شاگر خاص، دیوبندیوں وہابیوں کے رد سے شغف خاص تھا، ضلع علی گڈھ حبیب گنج کے قرب و جوار میں ایک حادثہ میں جاں بحق ہوئے، ۱۳۳۴ھ شوال کا مہینہ تھا ۱۹۱۶ء تھی۔ ۔۔۔
مزید
۱۲۳۴ھ سال ولادت، تاریخی نام سید ریاض الحسن، تحصیل علم اپنے چچا مولوی سراج الدین اور مولانامعین الدین کڑوی اور مولانا محمد حسین لکھنوی سے کی، صحاح ستہ کی حضرت شاہ عبد الغنی مجددی دہلوی سے سندلی، ۱۲۶۱ھ میں تحصیل علم سے فارغ ہوئے، حضرت قطب العالم مولانا شاہ احمد سعید مجددی دہلوی سے نقش بندی سلسلہ میں مرید ہوکر خلافت واجازت سے سرفراز ہوئے، ۱۲۸۲ھ میں حج وزیارت کا شرف حاصل کیا، مکہ مکرمہ میں حضرت شیخ الاسلام سید احمد وحلان مکی قدس سرہٗ سے تکمیل حدیث کی، ساری زندگی تبلیغ وارشاد میں گذری، شوال ۲۲۹۲ھ میں اپنے وطن فتح پور ہسوہ میں انتقال کیا،شیخ محمد علی طلیق، ہسوی نے ‘‘نور اللہ مرتتبہٗ’’ فقرۂ تاریخ کہا۔ (تذکرہ علمائے ہند) ۔۔۔
مزید
والد ماجد کا نام سید عبداللہ عرف ننھے میاں، تاج العراق حضرت سید عبد الرزاق خلف اکبر غوث الثقلین شیخ عبد القادر حسنی الحسینی الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد امجاد سے تھے،محلہ غلزئی شاہ جہاں پور میں ولادت ہوئی،بعہد نواب احمد علی خاں رام پور جاکر مفتی شرف الدین رامپوری علیہ الرحمۃ سے درسیات پڑھی،مذہباً شافعی تھے،حضرت شاہ مشیر علی خلف سید شاہ غلام علی مالوی قادری رزاقی کے مرید ہوئے،ریاست رام پور میں مفتئ عدالت و فواجداری تھے،ربیع الآخر،یا جمادی الاولیٰ کو فوت ہوئے سرائے دروازہ کے باہر مناشاہ کے تکیہ میں دفن کیے گئے۔ (تذکرۂ کاملان رامپور) ۔۔۔
مزید