اُنیسہ دخترِ رہم انصاریہ از بنو خطمہ ، بقولِ ابنِ حبیب ،حضور ِاکرم کی بیعت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
اُنہیں حضور اکرم کی صحبت میسر آئی۔ ان کی حدیث کبیر بن زید نے ام ولد محرز سے اس نے محرز سے روایت کی۔ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاموشی عالم کی زینت ہے، ان کی بیٹی نے ان سے روایت کی کہ میرے ابا اکثر کہا کرتے تھے۔ اے اللہ میں جھوٹوں کے زمانے سے پناہ مانگتا ہوں۔ بیٹی نے پوچھا، ابا، وہ کیسا زمانہ ہوگا؟ باپ نے جواب دیا، اس زمانے میں جھوٹ الم نشرح ہوچکا ہوگا۔ پھر ایک آدمی ان میں آشریک ہوگا۔ لیکن جب موضوع زیرِ بحث آئے گا، تو وہ بھی اپنی ٹانگ اُڑا کر گناہ میں شریک ہوجائے گا۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے اور بیان کیا ہے کہ ابو نعیم نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ابن مندہ کو اس باب میں وہم ہوا ہے اور اس نے ان کی ولدیت ابنِ زہر لکھی ہے۔ جعفر نے ابن زہیر اور ابن زہر کو دو مختلف آدمی قرار دیا ہے۔ امام بخاری نے اپنی ت۔۔۔
مزید
اُنہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا۔ امام بخاری نے ان کا تذکرہ موسیٰ بن اسماعیل سے، اس نے اسحاق بن عثمان سے، اُس نے اپنی دادی ام موسیٰ سے سُنا کہ ابو موسیٰ اشعری نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے جانور ذبح کرنے کی اجازت صرف اسے دی جائے گی، جسے سورۂ فاتحہ آتی ہے اور سوائے جناب محرز کے اور کسی کو سورۂ فاتحہ نہیں آتی تھی۔ اس لیے یہ خدمت ان سے لی جاتی تھی۔ یہ بنو عدی کے آزاد کردہ غلام تھے اور زمانۂ جاہلیت میں جنگی قیدی رہے تھے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابن ماکو لانے حرف اول پر پیش (ضمہ) اور حرف ثالث راکو مشدد کر کے کسرہ پڑھا ہے۔ ابو عمر نے بہ کسر میم و سکون حا بیان کیا ہے۔ علی بن مدینی آخر الذکر کو درست کہتا ہے۔ ابو عمر نے اسماعیل بن امیّہ سے اس نے مزاحم سے، اُس نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید سے اس نے مخرش الکعبی سے روایت کی۔ کہ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکلے اور پھر اس نے حدیث نقل کی۔ ابن المدائنی کہتا ہے۔ کہ مزاحم سے مراد مزاحم بن ابی مزاحم ہے اس سے ابن جریج وغیرہ نے روایت کی ہے اور اس سے مراد مزاحم بن زفر نہیں ہے۔ ابو حفص القلاس کا بیان ہے کہ مَیں مکہ کے ایک شیخ کو جس کا نام سالم تھا ملا۔ اور منی تک اس سے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اُس نے مجھ سے یہ حدیث سنانے کی خواہش کی۔ کہنے لگا۔ محرش بن عبد اللہ میرا دادا تھا۔ پھر اُس نے وہ حدیث بیان کی اور نیز بتایا کہ کس طرح حضور اکرم صلی ۔۔۔
مزید
یہ جعفر کا قول ہے اور اُس نے مروان بن معاویہ سے، اُس نے عبد الرحمٰن بن ابی شمیلۃ الانصاری سے جو اہلِ قبا سے تھا۔ اس نے سلمہ بن محصن الانصاری سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص صبح کو اپنی جماعت میں امن و امان میں بیدار ہو اور اس کا جسم بہ خیر و عافیت ہو، اور اس دن کے کھانے کا معقول بندوبست ہو۔ یوں سمجھے، گویا تمام دُنیا اسے عطا کردی گئی ہے۔ جعفر نے اسی طرح روایت کی ہے اور اس کا ترجمہ بیان کیا ہے۔ راویوں میں تھوڑا سا فرق ہے: سلمہ بن عبد اللہ محصن نے اپنے باپ سے روایت کی ہے۔ کئی راویوں نے اس روایت کو مروان سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ہم اس کا ذکر عبید اللہ کے ترجمے میں کر چکے ہیں۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً ابن ابی عاصم سے۔ اس نے کثیر بن عبید اللہ الخداء سے، اس نے مروان بن معاویہ سے اس نے عبد الرحمان بن شمیلۃ الانصاری سے۔ اس ۔۔۔
مزید
یہ صاحب اپنے بھائی حصن کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ہم ان کا نسب اِن کے باپ کے ترجمے میں بیان کریں گے دونوں بھائی لاولد مرے۔ ابن الکلبی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حریش بن جحجبا بن عوف بن کلفہ بن عوف بن عمرو بن اوس الانصاری الاوسی: انہیں صحابہ میں شمار کیا گیا ہے عبدان کا قول ہے، مجھے معلوم ہُوا ہے کہ سب سے پہلے اس شخص کا نام محمد رکھا گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ یہ صاحب ان لوگوں میں سے نہیں۔ جن کا محمد بن عدی کی حدیث میں ذکر ہے کہ جب لوگوں کے کانوں میں یہ بات پڑی کہ عنقریب جس نبی کا ظہور متوقع ہے ان کا نام نامی محمد ہوگا، تو لوگوں نے اپنے بچوں کا نام محمد رکھنا شروع کردیا۔ ان میں محمد بن سفیان بن مجاشع، محمد بن براء، محمد بن اُحیحہ، محمد بن مالک، محمد بن خزاعی بن علقمہ، محمد بن عدی بن ربیعہ بن جشم بن سعد شامل ہیں۔ اس کی تخریج ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے کی ہے۔ لیکن مجھے اس پر اعتراض ہے کہ یہ سب لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہ حیثیت زمانہ سابق ہیں۔ انہیں اس نام کا کیسے علم ہوگیا تھا۔ مثلاً احیحہ بن جلاح نے عبد المطلب ک۔۔۔
مزید
بنو حارث بن خزرج کے بھائی تھے اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اُن کے والد کو حضور کی صحبت میّسر آئی۔ محمد بن اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اسنے محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری سے، جو بنو حارث بن خزرج کا بھائی تھا اور کافی بوڑھا ہو چُکا تھا۔ روایت کی کہ وہ جب بھی شہر میں آتا اور بازار میں خرید و فروخت کرچکتا اور واپس گھر کو لوٹتا اور چادر اُتار کر رکھتا تو اسے یاد آجاتا کہ اس نے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا نہیں کی، تو اسے اس فرو گزاشت پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص اس شہر(مدینے) میں وارد ہو، اسے چاہیے کہ میری مسجد میں دو رکعت ادا کرے چنانچہ وہ پھر گھر سے لوٹ کر مدینۃ النبی میں آتا دو رکعت نماز ادا کرتا اور واپس چلا جاتا۔ ابن مندہ اور ابع نعیم نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے ابو عمر کا۔۔۔
مزید
بن اسعد بن بیاضہ ب بسیع بن خلف بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعۃ الخزاعی اور وہ طلحہ الطلحات بن عبد اللہ بن خلف کا عمزاد تھا۔ اس کا نسب شباب العصفری بن خیاط نے بیان کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی کہ ہر اونٹ کے کوہان پر شیطان ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے یہی روایت کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ایک روایت میں الدوسی ہے: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی تھی اور ان کا ذکر حضرت انس کی حدیث میں ہے حماد نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسولِ کریم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی اس وقت آپ کے پاس انصار کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جس کا نام محمّد تھا حضور اکرم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے قیامت آجائے گی۔[۱] اس حدیث کو حماد بن زید نے معبد بن ہلال سے اور اُس نے حضرت انس سے روایت کی لیکن انھوں نے لڑکے کا نام نہیں لیا۔ روایت ہے کہ اس کا نام سعد تھا اسی روایت کو ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی لیکن لڑکے کے نام نہیں لیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ [۱۔ حیرت ہے کہ ابن اثیر نے اسے حدیث کیسے جانا اسے کون حضور سے منسوب کرسکتا ہے۔ مترجم] ۔۔۔
مزید