جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مخارق بن عبد اللہ شیبانی رضی اللہ عنہ

ابو احمد عسکری نے جو قابوس کے والد ہیں بتایا کہ مخارق کا شمار کوفیوں میں ہوتا ہے۔ اِن سے ان کے والد کے بغیر اور کسی نے کوئی روایت بیان نہیں کی۔ سمال بن حرب نے قابوس بن مخارق سے اور انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ام الفضل جناب حسن کو اُٹھائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں۔ انہوں نے حضور کے کپڑوں پر پیشاب کردیا۔ ام الفضل نے حضور کے کپڑوں کو دھونا چاہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکی کا پیشاب دھو دینا چاہیے مگر لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دینا چاہیے۔ یہی کافی ہے۔ اس روایت کے اسناد میں بڑا اختلاف ہے بعض لوگوں نے اسی طرح روایت کی ہے۔ بعض نے قابوس سے اور انہوں نے ام الفضل سے روایت کی ہے اور درمیان میں مخارق کا نام نہیں لیا۔ سمال کے متعلق بھی کافی اختلاف ہے۔ ان سے یہ حدیث ثابت نہ ہوسکی۔ اس کے علاوہ بھی احادیث ان سے مروی ہیں۔ ان میں بھی کافی گڑ۔۔۔

مزید

سیّدنا مخارق الہلالی رضی اللہ عنہ

عسکری نے ان کا ذکر کیا ہے۔ حرب بن قبیصہ بن مخارق الہلالی نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ ایک بار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے۔ انہوں نے اپنی ران ننگی کی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا۔ اسے ڈھانپ لو کہ یہ بھی شرمگاہ کا حکم رکھتی ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مخاشن الحمیری رضی اللہ عنہ

جو انصار کے حلیف تھے۔ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا تذکرہ کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مخبر بن معاویہ رضی اللہ عنہ

جعفر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ہشام بن عمار نے اسماعیل بن عیاش سے، انہوں نے یحییٰ بن جابر الخصرمی سے انہوں نے اپنے چچا مخبر بن معاویہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ نحوست کوئی چیز نہیں۔ ہاں البتہ کبھی کوئی گھوڑا، عورت اور مکان مبارک نکل آتا ہے۔ علی بن حجر اور حسن بن عرفہ نے اسماعیل سے روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا حکیم بن معاویہ نمیری سے نقل کی۔ ابو موسیٰ نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مختار بن حارثہ رضی اللہ عنہ

ابو بکر بن ابی علی نے ان کا ذکر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ مغازی ابن اسحاق میں ان کا تذکرہ آیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اسی طرح مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر ابو سفیان بن حرب قرشیہ امویہ،عروہ بن مسعود ثقفی کی زوجہ تھیں،محمد بن عبیداللہ ثقفی نے عروہ بن مسعود سے رایت کی کہ جب میں ایمان لایا،تو میری کئی بیویاں تھیں،جن میں چار کاتعلق قریش سے تھا،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا،ان میں سے چار کا انتخاب کرلو،میں نے جو انتخاب کیا،اس میں زینب دختر ابو سفیان شامل تھی،ابن مندہ اور ابو نعیم مؤنے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر عوّام ہمشیرۂ زبیر،وہ عبداللہ بن حکیم بن حزام کی والدہ تھیں،وہ اسلام لائیں اور جب ان کا بیٹا عبداللہ اور بھائی زبیر جنگ جمل میں مارے گئے،وہ زندہ تھیں،چنانچہ انہوں نے بیٹے اور بھائی کا مرثیہ لکھا۔ اَعِینِیَّ جُودابالدُّمُوعِ وَاَسَرَّعَا عَلٰی رَجُلٍ طَلقَ الیَدَینِ کَرِیمِ (ترجمہ)اے میری آنکھو!جلدی کرو،اور خوب دل کھول کر آنسو بہاؤ،اس آدمی کی موت پر جو بڑا کشادہ دوست اور سخی تھا۔ (۲)زَبَیروَعَبدِاللہِ یُدعٰی لَحادثٍ وَذِی خُلَّۃٍ مِنَّا وَحَملٍ یَتِیمٖ (ترجمہ)زبیر اور عبداللہ پر آنسو بہاؤ،جنہیں مصیبت کے وقت بلایا جاتاہے،جو ہم میں دوستی اور پاسداری کرتے ہیں اور یتیم کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ (۳)قَتَلتُم حَوَارِیٌ النَّبِیَّ وَمِھرَہ وَصَاحِبَہٗ فابتَشِرُوابِجَحِیمٖ (ترجمہ)تم نے حضورِاکرم کے جان نثار اور قرابتدار اور صحابی کو قتل کیاہے،میں۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر اسعد بن زرارہ انصاریہ،اسعد کی کنیت ابو امامہ تھی،زینب اور ان کی دو بہنیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کے دامن تربیت سے وابستہ تھیں،کیونکہ ان کے والد نے اس کی وصیت کی تھی،اور عروسی کے موقع پر انہیں سونے کی بالیاں پہنائی گئی تھیں،ان کی بہنوں کے نام حبیبہ اور کبشہ تھے،اور فریعہ ان کی والدہ کا نام تھا، ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر عوّام ہمشیرۂ زبیر،وہ عبداللہ بن حکیم بن حزام کی والدہ تھیں،وہ اسلام لائیں اور جب ان کا بیٹا عبداللہ اور بھائی زبیر جنگ جمل میں مارے گئے،وہ زندہ تھیں،چنانچہ انہوں نے بیٹے اور بھائی کا مرثیہ لکھا۔ اَعِینِیَّ جُودابالدُّمُوعِ وَاَسَرَّعَا عَلٰی رَجُلٍ طَلقَ الیَدَینِ کَرِیمِ (ترجمہ)اے میری آنکھو!جلدی کرو،اور خوب دل کھول کر آنسو بہاؤ،اس آدمی کی موت پر جو بڑا کشادہ دوست اور سخی تھا۔ (۲)زَبَیروَعَبدِاللہِ یُدعٰی لَحادثٍ وَذِی خُلَّۃٍ مِنَّا وَحَملٍ یَتِیمٖ (ترجمہ)زبیر اور عبداللہ پر آنسو بہاؤ،جنہیں مصیبت کے وقت بلایا جاتاہے،جو ہم میں دوستی اور پاسداری کرتے ہیں اور یتیم کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ (۳)قَتَلتُم حَوَارِیٌ النَّبِیَّ وَمِھرَہ وَصَاحِبَہٗ فابتَشِرُوابِجَحِیمٖ (ترجمہ)تم نے حضورِاکرم کے جان نثار اور قرابتدار اور صحابی کو قتل کیاہے،میں۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن زید الانصاری رضی اللہ عنہ

ان سے ابو حاتم الرازی نے تخریج کی عمرو بن قیس نے ابن ابی لیلیٰ سے، اُس نے عطا سے اُس نے محمد بن زید سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت لایا گیا آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں نے احرام باندھا ہوا ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید