جمعرات , 28 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 16 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت میثم بن یحی

حضرت میثم بن یحیٰ  رضی اللہ عنہ آپ حضرت میثم تماراور میثم بن یحیٰ کے نام سے مشہور ہیں۔کوفہ کے رہنے والے تھے۔ آپ مولا علی کے جید  رفقاء اور مصاحبین میں سے ہیں۔سن 61 ہجری میں واقعہ کربلا کے بعد آپ کو حق گوئی کے جرم میں یزید کے کارندے ابن سعد کے حکم پر بے دردی سے قتل کردیا گیا۔اس سے قبل آپ کو قید میں رکھا گیا جہاں آپ پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی تاہم آپ نے حق کا ساتھ نہ چھوڑا۔ منقول ہے کہ حضرت مولا  علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے متعلق شہادت سے کئی برس پہلے فرما دیا تھا کہ اے میثم تمھیں میری محبت میں دار پر چڑھا دیا جائے گا اور اس سے قبل تمھاری زبان کاٹ دی جائے گی۔ اس وقت حضرت میثم نے کہا تھا کہ میری زبان بھی کاٹ دی جائے تو میں حق بات اور آپ کی محبت سے دست بردار نہیں ہوں گا۔حضرت میثم ایک غریب کھجور فروش تھے۔مگر پروردگار کی عبادت میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔آپ کامزار کوفہ میں ہ۔۔۔

مزید

شیخ عبد الجبار

شیخ عبد الجبار رحمۃ اللہ علیہ        فقہ کی تعلیم والد گرامی سے حاصل کی۔اعلٰی درجہ کے خوشنویس تھے. اتباعِ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بے مثال تھے۔آپ کی والدہ ماجدہ ایک مینارہ نور تھیں۔جن کی صحبت نے آپ کو بہت فائدہ پہنچایا۔؁ ۱۱۷۹ء میں بغداد شریف میں وفات پائی اور والد بزرگوار کے مسافر میں مدفون ہوئے مجاہدات۔و ریاضت میں مشہور زمانہ تھے۔نیز شرع کے سختی سے پابند تھے۔۔۔۔

مزید

حضرت حر

حضرت حر رحمۃ اللہ علیہ بنو تمیم کا ایک فوجی سردار تھے۔ ابن زیاد نے امام حسین کے آنے کی خبر سن کر سب سے پہلے اسی کی سرکردگی میں ایک ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ روانہ کیا وہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے دائیں بائیں لگا رہے اور انھیں میدان کربلا میں لے آئے ۔ اس وقت اسے یہ خیال نہیں تھا کہ معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ ابن زیاد بالکل سمجھوتے پر نہیں آتا تو اپنے سابقہ رویے پر متاسف ہوا اور تلافی مافات کے طور پر جنگ شروع ہونے سے قبل اپنے بھائی ، بیٹے اور غلام سمیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مل گیا اور انہی کے ہمراہ بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کی دولت پائی۔ حر نے شب عاشور ساری رات جاگنے کے بعد فیصلہ کیا کہ حق یقیناً آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہے اس لیے انھوں نے جا کر امام حسین علیہ السلام سے معافی مانگی۔ امام حسین علیہ السلام نے انھیں معاف کر دیا اور حر ک۔۔۔

مزید

حضرت ابوبکر بن امام حسن مجتبی

حضرت ابوبکر بن امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنھما آپ کی والدہ ماجدہ امِ ولد تھیں ۔بعض نے لکھا ہے کی ان کانام "رملہ "تھا۔ابولفرح نے لکھا ہے کہ عبد اللہ بن عقبہ الغنوی نے میدانِ کربلا میں آپ کو شہید کیا۔ ان کے اسمِ گرامی سے معلوم ہوا،کہ خاندانِ نبوت کو حضورﷺ کے یاروں سے کتنی محبت تھی۔ان کے ناموں پر اپنی اولاد کا نام رکھتے تھے۔اہلِ بیت ِ اطہار کی محبت کے جھوٹے دعویدار،رافضیوں کو یہ "نام"گوار نہیں ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی

حضرت ابو حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ اللہ علیہ           جماعتِ اولیاء میں سے امیر الاولیاء فقیر بے ریا ابو حلیم حضرت حبیب بن سلیم الراعی رحمۃ  اللہ علیہ ہیں۔مشائخ کرام میں آپ کی بہت زیادہ قدر و منزلت ہے۔آپ دلائل اور آیات  کےبیان فرمانےمیں خاص مہارت رکھتے تھے ،اور آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے خاص مصاحب تھے اور آپ کے حالات اصحابِ حال کے سے تھے۔آپ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا:        نیت المومن خیرٌ من عملہٖ۔    ‘‘ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے’’           آپ بکریاں چراتے اور کنارہ فرات پر تشریف رکھتے ۔آپ کا طریقہ زیادہ تر عزلت نشینی تھا۔ ایک مشائخ کرام میں سے راوی۔۔۔

مزید

حبیب ابن مظاہر

حضرت حبیب ابن مظاہر حضرت حبیب ابن مظاہر﷜ صحابی رسول کی شہادت (نماز کے لیے حضرت ابوثمامہ صیداوی﷜ نے عرض کیا) امام نے نماز کے لیے قوم اشقیاء کو جنگ بند کرنے کا کہا تو حصین بن تمیم نمیر نے گستاخی کی ’’لاتقبل الصلوٰۃ‘‘ (یعنی تمہاری نماز مقبول نہیں) حضرت حبیب ابن مظاہر نے جواباً کہا ’’لاتقبل زعمت الصلوٰۃ من اٰل رسول اللہ وانصارھم وتقبل منک یا خمار‘‘ (یعنی تمہاری نماز مقبول نہیں کیا تیرا زعم ہے کہ آل رسول اور ان کے انصار کی نماز مقبول نہیں ہے، تو نشے میں ہے)اس پر پھر جنگ چھڑ گئی۔ حضرت حبیب سخت زخمی ہوئے۔ بدیل بن حریم نے سرقلم کردیا۔ امام قریب آئے اور فرمایا ’’للہ درک یا حبیب کنت فاضلا تختم القرآن فی لیلۃ واحدۃ‘‘ (یعنی اے حبیب آپ ایسے فاضل تھے جو ایک رات میں پورا قرآن تلاوت کرلیا کرتے تھے)۔    (اسمائے شرکائے ۔۔۔

مزید

حضرت بہلول دانا

حضرت بہلول دانا  رحمۃ اللہ علیہ امام ِ اعظم علیہ الرحمہ حضرت بہلول کی حکمت بھری باتوں سے  کبھی کبھار محظوظ ہواکرتے تھے۔عام لوگ انہیں ایک دیوانہ اور مستانہ تصور کرتے تھے۔کیونکہ وہ  دنیاوی آلائشوں  سے دور رہتے تھے۔ ہارون الرشید  بھی ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ  حضرت بہلول ہارون الرشید کے پاس پہنچے ۔ ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھاکردی۔ مزاحا کہا کہ بہلول یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں۔ جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا۔ بہلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی۔ اور واپس چلے آئے۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہوں گے۔ ایک  عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی۔ بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ اطباء نے جواب دیدیا ۔ بہلول مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اورسلام کے بعد پوچھا۔ امیر المومنین کیا ۔۔۔

مزید

امام مہدی بن حسن عسکری

امام مہدی بن حسن عسکری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نام ونسب:اسمِ گرامی:محمد۔لقب:مہدی۔کنیت:ابوالقاسم۔ سلسلہ نسب اسطرح ہے:امام محمد مہدی بن حسن عسکری بن علی نقی  بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن امام حسین بن امیرالمؤمنین  حجرت مولاعلی ۔(رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین)  تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 13 رمضان المبارک  258 ھ میں ہوئی۔ خلافت: آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد امام حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد کے خلیفہ وجانشین مقرر ہوئے۔ سیرت وخصائص: حجۃ اللہ ، صاحب الزماں، خاتم الائمہ، صاحب الکرامات  حضرت ابوالقاسم امام مہدی رحمۃ اللہ علیہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح کامل ہستی تھے۔ عبادت وریاضت کی ادائیگی میں اور عالمِ شریعت وطریقت ہونے میں آپ اپنی مثال آپ تھے،کیونکہ آپ کی ولادت ہی غیرمعمولی طریقے سے ہوئی چنانچہ جب آپ کی ولادت کا وق۔۔۔

مزید

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

ابوموسیٰ اشعری ان کا نام عبداللہ بن قیس ہے،ہم ان کا نسب اورکچھ حالات ان کے نام کے ترجمے میں اس سے پہلے بیان کرآئے ہیں،ان کی والدہ بنوعک سے تھیں،اسلام قبول کیا،اورمدینے میں فوت ہوگئیں ایک گروہ نے جن میں واقدی بھی شامل ہیں لکھاہےکہ ابوموسیٰ سعید بن عاص کے حلیف تھے،مکے میں اسلام قبول کیا،اورہجرت کرکے حبشہ چلے گئے،وہاں سے انہوں نے دو کشتیوں میں اس وقت مراجعت کی جب حضورِ اکرم خیبر میں تھے،واقدی نے خالد بن ایا س سے، انہوں نے ابوبکربن عبداللہ بن جہیم سے روایت کی کہ ابوموسیٰ بہت بڑے نساب تھے،نیزوہ کہتے ہیں،ابوموسیٰ نے حبشہ کو ہجرت نہیں کی اور نہ وہ قریش میں کسی کے حلیف تھے،بلکہ وہ قدیم الاسلام ہیں،مکے میں اسلام قبول کیا،اور اپنے اہلِ قبائل میں چلے گئے،اوراشعریوں کا وفد لے کر اس موقعے پردوبارہ درباررسالت میں حاضرہوئے،جب حضرت جعفراپنے ساتھیوں کے ساتھ دو کشتیوں میں سوارہوکرحبشہ سے واپس آئے تھےاورآ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ غلام سدیدالدین تونسوی

حضرت خواجہ غلام سدیدالدین تونسوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید