ام عبد دختر سود بن قویم بن صاہلہ ہذلیہ،یہ خاتون بقولِ ابوعمر عبداللہ بن مسعود کی والدہ تھیں اور ان کا نام اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف مضاف نہیں تھا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ام عبداللہ بن مسعود لِکھا ہے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کی،یہ دونوں ایک ہیں اور ابوعمرکا قول صحیح ہے،کیونکہ حضور اکرم عبداللہ بن مسعود کو ابن ام عبدکہتے ہیں۔ ام عبد نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے روایت کی،کہ آپ دعائے قنوت قبل از رکوع پڑھتے تھے اور ابو اسحاق بیعی نے مصعب بن سعد سے روایت کی،کہ حضرت عمر نے جن مہاجر عورتوں کو دو دو ہزار درہم دیئے تھے ان میں ام عبد بھی تھیں،اور ابو اسحاق نے روایت کی کہ حضرت عمر نے ام عبد کا انتظار کیا،تاکہ وہ اپنے بیٹے عتبہ بن عبداللہ کی نماز جنازہ ادا کریں،تینوں نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
رائطہ دختر حارث بن حبیلہ بن عامر بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ،انہوں نے اپنے خاوند حارث بن خالد بن صخر بن عامر بن کعب کےساتھ حبشہ کو ہجرت کی ،جہاں عائشہ اور زینب پیدا ہوئیں اور وفات پا گئیں۔ ابو جعفر نے باسنادہ تا یونس محمد بن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجر بن حبشہ،بنو تمیم سے حاث بن خالد بن صخر اور ان کی زوجہ رائطہ دختر حارث کا نام لیا ہے،ابو موسیٰ نے ان کا نام رائطہ اور ابو عمر نے ریطہ لِکھا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبدالحمید،رافع بن خدیج کی زوجہ تھیں،ان سے یحییٰ بن عبدالحمید بن رافع بن خدیج نے روایت کی،کہ رافع غزوہ احد یا خیبر میں ایک تِیر سے زخمی ہو گئے،وہ رسولِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ وہ تیر ان کے سینے سے کھینچ کر نکال دیں،آپ نے فرمایا،صرف تیر ہی نکالوں یا روئی بھی،اگر تو چاہے تو تیر نکال لیتاہوں اور روئی کو رہنے دیتا ہوں،اور میں قیامت کے دن شہادت دونگا،کہ تم شہید ہو،جناب رافع نے اس مشورے سے اتفاق کیا اور آپ نے ان کا تیر کھینچ کر نکال دیا،ان کا زخم مندمل ہوگیا،اور وہ امیر معاویہ کے عہد تک زندہ رہے،پھر وہ زخم کُھل گیا،اور اسی وجہ سے فوت ہوگئے،ابن مندہ اور ابونعیم نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبید دختر سراقہ بن حارث بن عدی انصاریہ،بقول ابنِ حبیب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام عبدالرحمٰن دختر ابوسعید خدری،عبدالعزیز بن محمد بن محمد بن ابو حمید سے،انہوں نے دختر سعد بن ابراہیم بن ابوسعید خدری سے،انہوں نے اپنی پھوپھی یعنی ام عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضورِ اکرم ابوسعید کی عیادت کے لئے ہمارے گھر تشریف لائے،ہم نے بکری کا بازو کھانے کو پیش کیا،آپ نے اس سے تناول فرمایا،پھر آپ نے نماز ادا فرمائی،اور کلی نہیں کی،ان کا ذکر ابن مندہ اور ابونعیم نے کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
رائطہ دخترثابت بن فاکہہ بن ثعلب انصاریہ از بنو خطمہ،بقول ابن حبیب حضور اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
رائطہ دختر سفیان بن حارث خزاعیہ،جو قدامہ بن مظعون کی بیوی تھیں،ان سے ان کی بیٹی عائشہ نے روایت کی،کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ تھیں،جب خواتین نے آپ سے بیعت کی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
رجاءعنویہ،بصرے میں سکونت اختیار کرلی تھی،ان سے محمد بن سیرین نے روایت کی،ابو یاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبدالرزاق سے،انہوں نے ہشام سے،انہوں نے ابن سیرین سے، انہوں رجاء سے روایت کی،کہ میں حضورِاکرم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی،کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو لئیے آئی،اس نے گزارش کی ،یارسول اللہ ،اس کے لئے برکت کی دعا فرمائیے،کہ اس سے پہلے میرے تین بچے مر چکے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا،قبول اسلام کے بعد،اس نے کہا ،ہاں یا رسول اللہ،فرمایا تجھے جنت مبارک ہو،اس پر ایک آدمی جو وہاں موجود تھا،کہا ،اے رجاء تو نے سُنا،حضورِاکرم نے کیا فرمایا ہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام العلاء انصاریہ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی،عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابوکامل سے،انہوں نے ابراہیم بن سعد سے ،انہوں نے ابنِ شہاب اور(ح)یعقوب سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابن شہاب سے،انہوں نے خارجہ بن یزید بن ثابت سے،انہوں نے ام العلاء سے یہ خاتون ان کے قبیلے سے تھی،یعقوب کہتے ہیں کہ انہیں اس خاتون نے بتایا،کہ انہوں نے رسولِ کریم سے بیعت کی اور جس زمانے میں کہ مہاجرین کے لئے انصار کے گھروں پر قرعہ ڈالا گیا،توعثمان بن مظعون ان کے گھروں میں در آیا تھا،ام العلاء کہتی ہیں کہ عثمان بن مظعون بیمار پڑگیا،ہم نے اس کی تیمارداری کی،اور جب وہ فوت ہوگیا،تو ہم نے اسے اس کے ان کپڑوں ہی میں دفن کردیا،جو اس نے پہن رکھے تھے۔ اتنے میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے۔۔۔
مزید
ام عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک،جعفر نے ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے،اور ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی،اگر یہ خاتون کعب بن مالک کی بیٹی نہیں ہیں تو پھر یہ کوئی اور خاتون ہیں،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید