ام عبداللہ بن عامر بن ربیعہ،ان کا ذکر پہلے ہوچکاہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے اسی طرح اختصار سے ان کا ذکر کیا ہےاور ابو موسیٰ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے،اور ان کا نام ام عبداللہ دختر ابی حثمہ لکھا ہے،اور یہی خاتون ام عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ہیں،ابن مندہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے ان کا ذکر کیا ان کے بیٹے یا ان کے شوہر کے ترجمے میں بیان کیا ہے،یہ گفتگو ابو موسیٰ کی ہے،لیکن ان کا استدراک بلاوجہ ہے،کیونکہ ابن مندہ نے ان کا ترجمہ علیحدہ لکھا ہے،اور ان کے بیٹےیا شوہر کے تراجم میں انہیں شامل نہیں کیا۔ ۔۔۔
مزید
رمیثہ دختر عمرو بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف،یہ خاتون عاصم بن عمر بن قتادہ کی دادی تھیں اور بقول ابوعمر حکیم والدِقعقاع کی والدہ،ابونعیم نے انہیں انصاریہ لکھاہے۔ حسین بن یوحن بن اتوبہ بن نعمان باوردی اور عثمان بن علی نے ابوالفضل محمد بن عبدالواحد نیلی اصفہانی سے،انہوں نے ابوالقاسم احمد بن منصور خیلی سے،انہوں نے ابوالقاسم علی بن احمد الخزاعی سے،انہوں نے ابوسعید ہیثم بن کلیب سے ،انہوں نے محمد بن عیسیٰ بن سورہ سے،انہوں نے ابو مصعب مدنی سے،انہوں نے یوسف بن ماحبشون سے، انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے،انہوں نے اپنی دادی رمیثہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ اکرم سے حدیث سنی،اور وہ حضورِاکرم کے اتنا قریب تھیں کہ اگر چاہتی توآپ کے کندھوں کے درمیان مُہر نبوّت کا بوسہ لے لیتیں،جس دن سعد بن معاذ فوت ہوئے تھے،حضورِاکرم نے فرمایا تھا،اس صدمے سے عرش مجید ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ بن اوس جوشداد بن اوس انصاریہ کی ہمشیرہ تھیں،ابو منصور بن مکارم المٔودب نے باسنادہ معافی بن عمر ان سے ،انہوں نے ابوبکر غسانی سے،انہوں نے ضمرہ دختر حبیب سے،انہوں نے ام عبداللہ ہمشیرۂ شداد بن اوس سے روایت کی کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افطار کے وقت دودھ بھیجا،یہ سخت گرمی کا زمانہ اوربہت لمبے دن تھے،آپ نے ام عبداللہ کے قاصد کو واپس کردیا،اور دریافت فرمایا کہ ام عبداللہ سے پوچھو کہ اس نے دودھ کہاں سے لیا،ام عبداللہ نے جواب دیا،کہ یہ دودھ ان کی بکری کا ہے،آپ نے دودھ لانے والے کو پھر واپس کردیا،اور فرمایا،کہ ام عبداللہ سے پوچھ کر بتاؤ ،کہ بکری کہاں سے آئی تھی،انہوں نے کہلا بھیجا کہ میں نے اپنے روپوں سے خریدی تھی،جب آپ کو اطمینان ہو گیا تو دودھ لے لیا۔ دسرے دن ام عبداللہ نے دربار رسالت میں حاضر ہو کر التماس کی،یارسول اللہ،کل کی گرمی اور د۔۔۔
مزید
رملہ دختر عبداللہ بن ابی سلول انصاریہ،از بنوحبلی،ان کا والد راس المنافقین تھا،بہ قول ابن حبیب اس خاتون نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ بن بشر،ان سے ان کے بیٹے عبداللہ بن بشر نے روایت کیابوالفضل عبداللہ بن احمد طوسی نے ابو داؤد طیالسی سے،انہوں نے شعبہ سے،انہوں نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے عبداللہ بن بشر سے روایت کی،کہ ایک بار حضورِ اکرم ہمارے گھر تشریف لائے،میری ماں نے ایک دری بچھائی،آپ اس پر بیٹھ گئے،پھر میری ماں کھجوریں لائی،آپ تناول فرمارہے تھے اور گٹھلیاں انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھ کر پھینک رہے تھے،پھر آپ نے پانی طلب فرمایا،اور پی کر اس شخص کو دیا،جو دائیں جانب بیٹھا تھا،اس کے بعد میری ماں نے گزارش کی، یارسول اللہ !ہمارے لئے دعا فرمائیے،حضورِ اکرم نے دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا،"اے اللہ،جو رزق تو نے انہیں دیا ہے،اس میں برکت فرما،ان کے گناہ معاف کر اور ان پر رحم کر"،اس کے بعد ہم ہمیشہ ہی اس دعاکا اثر محسوس کرتے رہے،ابومندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ دختر نبیہ بن حجاج سہمیہ جو عمرو بن عاص کی زوجہ تھیں،اور ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرو کی والدہ تھیں،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک بار فرمایا،کیا اچھا خاندان ہے،جو ابوعبداللہ ،ام عبداللہ اور عبداللہ پر مشتمل ہے،اس خاتون سے ان کے بیٹے عبداللہ نے روایت کی، اور عبدالملک بن قدامہ نے عمرو بن شعیب سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے دادا سے روایت کی،اور عبدالملک بن قدامہ نے عمرو بن شعیب سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی،کہ ام عبداللہ بن عمرو نبیہ بن حجاج کی دختر تھیں،اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دل وجان سے چاہتی تھیں،ایک دن حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،تو آپ نے پوچھا،ام عبداللہ !کہو،کیا حال ہے،انہوں نے جواب دیا،یا رسول اللہ ،بہ خیرو عافیت ہوں،لیکن میرا بیٹا عبداللہ تو تارک دنیا ہوگیا ہے،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ذکرکیا۔۔۔
مزید
رملہ دختر ابو عوف بن سبرہ بن سعید بن سہم،یہ خاتون وداعہ بن حبیرہ سہمی کے بھائی کی بیٹی تھیں،اور زیاد بن عبداللہ بکائی نے محمد بن اسحاق سے بہ سلسلۂ اسمائے مسلمین بہ مکہ،مطلب بن ازہر بن عوف زہری،اور ان کی بیوی رملہ کا نام لیا ہے،میاں بیوی دونوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی،اور وہاں ان کے یہاں عبداللہ نامی بیٹا پیداہوا تھا،اور کہتے ہیں کہ عبداللہ پہلے آدمی ہیں جو اسلام میں اپنے والد کے وارث ہوئے،ابو نعیم،ابو عمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ بن عمر خطاب،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،اور لکھا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی،ایک روایت میں ہے کہ ان کی والدہ کا نام زینب دختر مظعون تھا۔ ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ دوسیہ،انہیں حضورِ اکرم کی زیارت نصیب ہوئی،زہری نے ان کی حدیث روایت کی کہ انہیں حضورِاکرم کی صحبت نصیب ہوئی،آپ نے فرمایا،ہر اس بستی میں جہاں ایک امام اور چار آدمی موجود ہوں جمعہ فرض ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
رملہ دختر ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس،ام حبیبہ قرشیہ امویہ ازواج مطہرات میں شامل تھیں انہوں نے نکاح سے پہلے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا،ان کی والدہ کا نام صفیہ دختر ابوالعاص تھا،جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی چچی تھیں،ایک روایت میں ان کا نام ہندہ بھی آیاہے،قدیم الاسلام ہیں،اور اپنے خاوند عبداللہ بن حجش کے ساتھ حبشہ چلی گئی تھیں،ان کا شوہر تو عیسائی ہوگیا تھا،لیکن رملہ ثابت قدم رہیں،جب عبداللہ مرگیا،تو حضرت عثمان نے یا بروایتے خالد بن سعید بن عاص بن امیہ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغام بھیجا،نجاشی نے چار سو دینار مہر ادا کیا،اور حضرت عثمان (بروایتے نجاشی) نے دعوت ولیمہ دی،اور شرحبیل بن حسنہ انہیں حضورِ اکرم کے پاس مدینے لے گئے یہ نکاح اس وقت ہوا تھا جب حضورِ نبیٔ کریم ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے۔ مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح ۔۔۔
مزید