رملہ دختر ابو سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس،ام حبیبہ قرشیہ امویہ ازواج مطہرات میں شامل تھیں انہوں نے نکاح سے پہلے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا،ان کی والدہ کا نام صفیہ دختر ابوالعاص تھا،جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی چچی تھیں،ایک روایت میں ان کا نام ہندہ بھی آیاہے،قدیم الاسلام ہیں،اور اپنے خاوند عبداللہ بن حجش کے ساتھ حبشہ چلی گئی تھیں،ان کا شوہر تو عیسائی ہوگیا تھا،لیکن رملہ ثابت قدم رہیں،جب عبداللہ مرگیا،تو حضرت عثمان نے یا بروایتے خالد بن سعید بن عاص بن امیہ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے نکاح کا پیغام بھیجا،نجاشی نے چار سو دینار مہر ادا کیا،اور حضرت عثمان (بروایتے نجاشی) نے دعوت ولیمہ دی،اور شرحبیل بن حسنہ انہیں حضورِ اکرم کے پاس مدینے لے گئے یہ نکاح اس وقت ہوا تھا جب حضورِ نبیٔ کریم ہجرت کر کے مدینے آگئے تھے۔ مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح م۔۔۔
مزید
ام عبداللہ زوجہ ابوموسیٰ اشعری،عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابومعاویہ سے،انہوں نے اعمش سے،انہوں نے ابراہیم سے،انہوں نے سہم بن منجاب سے،انہوں نے قرنع سے روایت کی،کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو کہتے سنا اور انکی بیوی خاموش تھیں،کیا تم نے سُنا تھا،جو کچھ رسولِ کریم نے فرمایا تھا،بیوی نے جواب دیا،ہاں میں نے سُناتھا،پھر وہ خاموش رہیں،جب ابوموسیٰ فوت ہوگئے ،تو ان کی بیوی سے پوچھا گیا،حضورِ اکرم نے کیا فرمایا تھا،انہوں نے جواب دیا،آپ نے اس شخص پر لعنت بھیجی تھی،جس نے سر مونڈا،کپڑا پھاڑا یا منہ نوچا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عمر دختر محمود بن مسلمہ بن سلمہ بن خالد بن عدی بن مجدعہ ،یہ خاتون محمد بن مسلمہ کی بھتیجی ہیں، ان کے والد خیبر میں قتل ہوگئے تھے،بقول ابنِ حبیب انہوں نے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام عبداللہ،نعیم بن نحام کی زوجہ تھیں،عروہ بن زبیر نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی کہ وہ اپنے والد حضرت عمر کے پاس گئے اور کہا ،کہ میں نے نعیم بن نحام کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے،میں چاہتا ہوں،کہ آپ میرے ساتھ چلیں اور اس سے میرےنکاح کے بارے میں گفتگوکریں،حضرت عمرنے کہا،میں نعیم کو تم سے بہتر جانتاہوں،اس کا ایک یتیم بھتیجا ہےاور میں باور نہیں کرسکتا کہ وہ اپنا گوشت(رشتہ)چھوڑدے گا،اگر یہ کام کرنا چاہتے ہو تو اپنے چچا زید بن خطاب کو لے جاؤ، ہم وہاں گئے اور میرے چچا نے ان سے بات کی،مجھے ایسا معلوم ہوا کہ نعیم نے حضرت عمر کی بات سُن لی تھی،انہوں نے ہمیں بہ طیب خاطر خوش آمدید کہا اور حضرت عمر کے مقام اور شرف کا ذکر کیا،اس کے بعد نعیم نے کہا،کہ میرا ایک یتیم بھتیجا ہے،یہ تو نہیں ہوسکتا،کہ میں غیروں کے گوشت کو اپنے ساتھ ملالوں اور اپنے گوشت کو چھوڑدُوں،اس موقعہ پر اس کی ۔۔۔
مزید
رملہ دختر دقیعہ بن حرام بن غفار غفاریہ،بقول خلیفہ بن خیاط،یہ خاتون ابوذر کی والدہ ہیں،ابو نعیم اور جعفر وغیرہ نے ان کا نام لیا ہے،اور ان کے اسلام کا ذکر ہم ابوذر کے اسلام میں کرآئے ہیں،لیکن حدیث میں ان کا نام مذکور نہیں ہے،اور ایک روایت میں انہیں ام عمر بن عبہ لکھاہے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ام عبداللہ بن انس از اولاد عبداللہ بن انیس،یہ خاتون کعب بن مالک کی زوجہ تھیں،ان کی حدیث کو وہب نے عمرو بن حارث سے،انہوں نے یحییٰ بن سعید سے،انہوں نے عبداللہ بن انیس سے،انہوں نے اپنی والدہ سے(جو کعب بن مالک کے پاس تھیں)روایت کی کہ کعب مسجد نبوی میں بیٹھے اشعارپڑھ رہے تھے کہ حضورِ اکرم تشریف لائے ،اور کعب نے ایسی چُپ سادھ لی گویا ان کی رُوح قبض ہوگئی،فرمایا پڑھتے جاؤ،چپ کیوں ہوگئے ہو،چنانچہ انہوں نے پڑھنا شروع کردیا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عبیس،بقول زبیر ان کا تعلق بنوتیم بن مرہ سے تھا،یہ کنیز تھیں،جب اسلام قبول کیا ،تو مشرکین مکہ نے انہیں سخت تکالیف دیں،حضرت ابوبکر صدیق نے خرید کر آزاد کردیا،ان کی کنیت ان کے بیٹے عمیس بن کریز کے نام پر ہےابوجعفر نے باسنادہ یونس بن بکیر سے،انہوں نے ہشام بن عروہ سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ ابوبکر نے سات ایسے غلاموں اور لونڈیوں کو جنہیں کفار تکلیفیں دیتے تھے،خریدکر آزاد کیا،بلال، عامر بن فہیرہ،زنیرہ،بنومؤمل کی ایک کنیز نہدیہ،ان کی لڑکی اورام عبیس ،ابوعمر ،ابونعیم اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ابی ہریرہ انہوں نے اسلام قبول کیا،اور ابوہریرہ نے ان کے اسلام کے بارے میں روایت بیان کی،ابوالفرج بن محمود اور ابویاسر نے باسنادہما تا ابوالحسین مسلم عمروالناقد سے،انہوں نے عمر بن یونس ہمانی سے،انہوں نے عکرمہ بن عمارسے،انہوں نے ابوبشر یزید بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی کہ میں اپنی ماں کو اسلام قبول کرنے پر مائل کرتا رہتا،ایک دن مجھے اس سے حضوراکرم کے بارے میں ایسی گفتگو سنناپڑی جسے میں نے سخت ناپسند کیا،میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا،اور رورہا تھا،آپ کو میں نے ساری بات بتائی اور درخواست کی کہ دربارِ خداوندی میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے قبولِ اسلام کی توفیق عطافرمائے،حضورِ اکرم نے دعافرمائی۔ اے اللہ تو ابوہریرہ کی ماں کو قبول اسلام کی توفیق ارزانی فرما۔ میں درباررسالت سے اٹھا،اور خوشی خوشی گھر چلا،جب دروازے کے قریب پہنچا تو مجھے محسو۔۔۔
مزید
ام ابی امامہ بن سہل بن حنیف ،جعفر مستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے،مگر اور کوئی بات نہیں لکھی،ابو موسیٰ نے بھی مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام ابی امامہ بن ثعلبہ بن حارث،جب حضورِ اکرم نے بدر کو کوچ فرمایا،تو ابو امامہ کی والدہ لبِ مرگ تھیں،تو ان کے بیٹے ابو امامہ نے اپنے ماموں ابوبردہ بن سار کو کہا،کہ آپ اپنی بہن کی تیمارداری کے لئے رک جائیں، ابو بردہ نے کہا ، میری بہن تمہاری ماں ہے،اس لئے تمہیں رُکنا چاہئیے،معاملہ حضورِ اکرم کے علم میں لایاگیا،تو آپ نے ابوامامہ کو رک جانے کا حکم دیا،حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر سے واپس تشریف لائے،تو ام ابی امامہ وفات پا چکی تھیں،ا ٓپ نے ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔ یہ خاتون ام ابی امامہ دختر سہل بن حنیف سے مختلف ہیں،کیونکہ ان کی ولادت بعداز ہجرت ہوئی، اوس سے تھے،اور ابو امامہ بن ثعلبہ ہجرت کے وقت جوان تھے،اور ان کا تعلق بنو حارثہ بن حارث سے تھا،جو خزرجی تھے،واللہ اعلم،ہم ابوامامہ کے ترجمے میں ان کا ذکر کرآئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید