ام ابی ذر،انہوں نے اسلام قبول کیا اور ہم ان کا ذکر(ایک طویل حدیث میں جو ابوذر کے اسلام کے بارے میں ہے) کرآئے ہیں۔ ۔۔۔
مزید
رملہ دختر حارث بن ثعلبہ بن حارث بن زید انصاریہ نجاریہ،ابو جعفر نے باسنادہ یونس بن کبیر سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی،کہ جب سعد بن معاذ نے بنو قریظہ کے بارے میں اپنا فیصلہ سنایا تو وہ گھبرا گئے،اور رملہ دخترِ حارث کے مکان میں جا چھپے،اور ابن حبیب نے انہیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ۔۔۔
مزید
>\ رملہ دختر شیبہ بن ربیعہ بن عبد شمس قرشیہ عبثیمہ،یہ خاتون ہندہ دختر عتبہ بن ربیعہ اور ابو حذیفہ بن عتبہ کی عمزاد تھیں،قدیم الاسلام ہیں،اور اپنے شوہر عثمان بن عفان کے ساتھ مدینے کو ہجرت کی ،ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن ابن اثیر کے نزدیک یہ غلط ہے،کیونکہ حضرت عثمان نے اول مکے سے مدینے کو اور پھر مکے سے مدینے کو ہجرت کی،اور جناب رقیہ انکے ساتھ تھیں،ان کی وفات کے بعد ام کلثوم سے ان کا نکاح ہوا،اگر ابوعمر یہ فقرہ نہ لکھتے،تو بلاشبہ بہتر ہوتا،کیونکہ حضرت عثمان ذدالنورین سے نکاح ہجرت کے بعد ہواتھا،(واللہ اعلم)۔ ایک روایت میں بقول زبیر انکا نام رمیلہ ہے،جب وہ اسلام لائیں،تو ان کی عمزاد ہندہ دختر عتبہ نے ان کے اسلام لانے کا برا مانا،اور انہیں شیبہ کے بدر میں قتل ہوجاے پر عار دلائی۔ (۱)لحاالرحمَان ضائِبۃً بوج ومکّہ اوباطراف الحجون (ترجمہ)اس عورت پر اللہ ۔۔۔
مزید
رقیقہ دخترِ صیفی بن ہاشم بن مناف،طبرانی اور جعفر مستغفری نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہے،بقول ابو نعیم اس خاتون کو زمانۂ بعثت نصیب نہیں ہوا،٘٘٘٘٘ ابو موسیٰ نے اذناً کوشیدی سے ،انہوں نے ابوبکر بن ریدہ سے ، انہوں نے سلیمان بن احمد سے ،انہوں نے محمد بن موسیٰ بربری سے،انہوں نے زکریا بن یحییٰ طائی سے،انہوں نے عمِ ابوزجربن حصن سے،انہوں نے اپنے دادا حمید بن منہب سے،انہوں نے عروہ بن مضرس سے،انہوں نے محزمہ بن نوفل سے،انہوں نے اپنی والدہ رقیعہ سے،جو عبدالمطلب بن ہاشم کی ہم عمر تھیں،بیان کیا کہ قریش قحط میں پھنس گئے،جو کئی سال طاری رہا،تھنوں میں دُودھ خشک ہو گیا،اور ہڈیاں کمزور ہو گئیں،ایک رات میں سوئی ہوئی تھی یا ابھی ابھی آنکھ لگی تھی،کہ میں نے ایک ہاتف کو گلوگیر آواز میں چیختے سنا،کہہ رہاتھا،اے قریش!نبی آخر الزمان مبعوث ہونے کو ہیں،اور تم پر اس نبی کے عہد کا سایہ ہے،۔۔۔
مزید
ام ایمن جو حضورِاکرم کی آزاد کردہ کنیز تھیں اور جنہوں نے حضور نبی کریم کو دُودھ پلایا تھا،ان کا نام برکت تھا،اور یہ حبشیہ تھیں،انہیں حضور کے والد ماجد نے آزاد کیا تھا،قدیم الاسلام تھی،حبشہ اور مدینہ ہر دو مقامات کو ہجرت کی تھی اور انہوں نے حضورِ اکرم سے بیعت کی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ ام ایمن جناب خدیجہ کی ہمشیرہ کی کنیز تھیں،جنہیں انہوں نے حضور کو ہبہ کردیا تھا،ایک اور روایت میں ہے کہ ام ایمن حضورِ اکر م کی والدہ ماجدہ کی کنیز تھیں اور انہوں نے ہی آپ کا پیشاب پی لیا تھا،اور آپ نے فرمایا تھاکہ اس کے بعد تیرے پیٹ میں درد نہ ہوگا،اور وہ ام حبیبہ کی کنیز تھیں،اور ان کے بیٹے کا نام ایمن تھا،جوعبید کے بیٹے تھے،اور جن سے عبید حبشی کے بعد زید بن حارثہ نے نکاح کرلیا تھا،اور حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے کہ ام ایمن میری ماں ہے اور اکثر ان کے ملاقات کو جایا کرتے۔ عبدالوہاب نے باسن۔۔۔
مزید
روضتہ مدینے میں اسلام لائیں،جہاں وہ ایک مدنی خاتون کی آزاد کردہ کنیز تھیں،جب حضورِ اکر م صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینے میں تشریف لائے،تو یہ دونوں اسلام لائیں۔ یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے عبدالجلیل بن حارث بن عبداللہ بن عبیداللہ انصاری ابو صالح سے،انہوں نے شیبہ بن اسود سے روایت کی،کہ مدینے میں ایک خاتون کی ایک لونڈی تھی،جب حضورِاکرم واردِمدینہ ہوئے،تو ایک دن اس کی مالکہ نے اسے کہا،اے روضہ!تواس دروازے پر کھڑی رہ،اور جب حضورِاکرم وہاں سے گزریں،تو مجھے بتانا،اس اثنا میں حضورِاکرم چند صحابہ کے ساتھ وہاں سے گزرے،اس نے آپ کی چادر کا ایک حصہ ہاتھ میں تھام لیا،آپ نے تبسم فرمایااور اسکے سر پر ہاتھ پھیرا،میں نے اپنی مالکہ کو آوازدی کہ حضور تشریف لائے ہیں،گھر کے سب لوگ آگئے،اور اسلام قبول کرلیا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
امِ عیاش حضورِ اکرم کی خدمت گزار یا آزاد کردہ کنیز یا جناب رقیہ کی آزاد کردہ کنیز تھیں،یحییٰ بن ابوالرجاء نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے عبدالواحد بن صفوان سے،انہوں نے والد سے ،انہوں نے والدہ سے،انہوں نے اپنی دادی ام عیاش سے روایت کی،کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی صاحبزادی کے ساتھ حضرت عثمان کے پاس بھیجا،ان کا بیان ہے،کہ میں عثمان کے لئے کھجوریں پانی میں بھگو رکھتی،چنانچہ صبح کی بھگوئی ہو ئی کھجورو ں کا پانی شام کو اور شام کی بھگوئی ہوئی کھجوروں کاپانے صبح کوپی لیتے،ایک دن مجھ سے پوچھا،کیا تم اسے ہلایا کرتی ہو،میں نے اثبات میں جواب دیا،تو فرمایا،پھر ایسا نہ کرنا۔ عبدالکریم بن روح نے عنبہ بن بزاز سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے اپنی دادی ام عیاش سےجو جناب رقیہ کی لونڈی تھیں،روایت کی،کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کراتی ت۔۔۔
مزید
رزینہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خادمہ تھیں اور جناب صفیہ کی آزا د کردہ کنیز،ان سے ان کی بیٹی امتہ اللہ نے روایت کی اور انہیں حضور اکرم کی صحبت نصیب ہوئی،جب حضورِاکرم نے جناب صفیہ دختر حییّ سے نکاح کیا،تو آپ نے انہیں ایک کنیز عطاکی جس کا نام رزینہ تھا،اور علیلہ دختر کمیت عتکیہ نے اپنی والدہ امینہ سے انہوں نے امتہ اللہ سے روایت کی،کہ میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا کہ حضور ِ اکرم نے عاشورے کے روزے کے بارے میں کیا فرمایا تھا،انہوں نے جواب دیا،کہ حضورِاکرم خود روزہ رکھتے اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے،ان کی حدیث کے راوی اہل بصرہ ہیں،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام عجرہ خزاعیہ،ان کا ذکر مثنیٰ بن مصباح کی حدیث میں ہے،جو انہوں نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نےوالد سے،انہوں نے دادا سے روایت کی،کہ انہوں نے ام عجر وخزاعیہ کو حضورِ اکرم سے یہ بات دریافت کرتے سُنا انہوں نے کہا،یا رسول اللہ!زمانہ جاہلیت میں جو باتیں ہم کیا کرتے تھے،کیا وہ زمانۂ اسلام میں کی جاسکتی ہیں؟ آپ نے پوچھا،کوئی چیزبتاؤ،انہوں نے گزارش کی،مثلاً عقیقہ،آپ نے فرمایا،ہاں اس رسم کی اجازت ہے،لڑکے کے لئےدو جوان بکریاں اور لڑکی کے لئے ایک،یہ حدیث ام کرزکی حدیث کی طرح ہے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابنِ مندہ اور ابونعیم نے حدیث کےالفاظ نہیں لکھے،انہوں نے صرف اتنا لکھا ہے،کہ عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے دادا سے روایت کی،اور بس، ہاں البتہ ابوعمر نے حدیث نقل کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
امِ علی دختر خالد بن تیم بن بیاضہ بن خضاف،یہ وہ خاتون ہیں کہ بقول ابن کلبی انکے گھر میں اذان کا حکم نازل ہوا،عدوی کہتےہیں کہ اہل ِحجاز میں اس کا کوئی قائل نہیں اور نہ ابن ِقداح اور نہ ابن مزروع اس کے قائل ہیں،ابنِ دباغ نے انہیں ابو علی سے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید