ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )نسکیہ( رضی اللہ عنہا)

نسکیہ ام عمرو بن جلاس،ان سے حبیبہ دختر سمعان نے روایت کی،ابوموسیٰ نے اذناً احمد بن عباس سے، انہوں نے محمد بن عبداللہ (ح) ابوموسیٰ نے حسن بن احمدسے،انہوں نے احمد بن عبداللہ سے، انہوں نےسلیمان بن احمد سے،انہوں نے محمد بن عبداللہ حضرمی سے،انہوں نے عبداللہ بن حکم بن ابی زیاد قطوانی سے،انہوں نے عبداللہ بن موسیٰ سے،انہوں نے ابراہیم بن اسماعیل سے،انہوں نے حبیبہ دختر سمعان سے،انہوں نے نسکیہ امِ عمرو سے روایت کی کہ حضرت عائشہ نے غلام کو کہا کہ ان کے لئے ایک بکری ذبح کرےا تنے میں حضور تشریف لے آئے،آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی،جو آپ نے پھینک دی اور مسجد کو چلے گئے اور دو رکعت نمازاداکرکے واپس آئے اور بستر پر لیٹ گئے،دریافت فرمایا،کیا کھانے کو کچھ ہے،ہم نے ایک چنگیر میں جَو کی روٹی گوشت کا ایک ٹکڑا،اوجھڑی کا ایک ٹکڑااور بکری کا بازو پیش کیا،اس کھانے میں سے جناب عائشہ نے او۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دختر حکیم انصاریہ اوسیہ،یہ وہ خاتون ہے جس نے اپنا نفس حضورِ اکرم کو ہبہ کردیاتھا،چنانچہ احمد بن صالح مصری نے انہیں ازواج النبی میں شمار کیاہے،لیکن اور کسی نے ایسا نہیں کیا،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن میں اسے تصحیف شمارکرتاہوں،کیونکہ جس خاتون نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کردیاتھا، وہ انصاریہ اوسیہ تھیں اور ان کے والد کانام خطیم تھاا،حکیم اور خطیم کی تجنیس لفظی سے ابوعمر کو غلطی لگی،اور خطیم کو حکیم سمجھ بیٹھے،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دختر عبادہ انصاریہ ساعدیہ جو عبادہ بن عبادہ کی ہمشیرہ تھیں،بقولِ ابنِ حبیب حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلہ دختر خطیم بن عد ی بن عمروبن سواد بن ظفر بن خزرج بن عمرو انصاریہ ظفریہ قیس بن خطیم کی ہمشیرہ تھیں،یہ خاتون حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور گزارش کی،اے ہَوا سے زیادہ سخی میں لیلی دختر خطیم ہوں،میں اپنا نفس پیش کرتی ہوں،آپ مجھ سے نکاح کرلیں،فرمایا،مجھے منظور ہے اس پروہ اپنے قبیلےمیں واپس گئیں،اور بتایا،کہ انہوں نے آپ سے نکاح کرلیا ہے،انہوں نے کہا،تونے کیاکیا؟ تُو تو ایک دوسر ے آدمی کی بیوی ہےکہااور آپ کی اور کئی بیویاں ہیں،جاؤ ،اور آپ سے علیحدگی کی اجازت لے لو،لیلی نے حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوکر علیحدگی کی درخواست کی جو آپ نے قبول کرلی،یہ ابن ابی خثیمہ کی روایت ہے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے،اور ابوعلی اور ابوعمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )نتیلہ( رضی اللہ عنہا)

نتیلہ دختر قیس بن جریر بن عمرو بن عوف بن مبذول انصاریہ از بنو مازن بقول ابن حبیب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دخترنہیک بن اساف بن عدی بن جثم بن مخدعہ،یہ خاتون براء کی ہمشیرہ تھیں بقولِ ابن حبیب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دختر قانف ثقفیہ،ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے یعقوب بن ابراہیم سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے بن حکیم ثقفی سے (جوقرآن کے قاری تھے)انہوں نے ایک آدمی سے،جوعروہ بن مسعود کی اولاد سے تھااور جس کا نام داؤد تھااور جسے ام حبیبہ دختر ابوسفیان نے جنا تھا،انہوں نے لیلی دخترِ قانف سے روایت کی،کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھیں،جو حضورِ اکرم کی صاحبزادی ام کلثو م کے غسل کےوقت موجود تھیں، سب سے پہلے آپ نے ازار،پھر اوڑھنی پھر قمیض پھر چادر دی،پھر انہیں آخری کپڑے میں لپیٹا، حضورِ اکرم دروازے کے پاس کھڑے تھے،اور کفن کے کپڑے ایک ایک دے رہے تھے، تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )نوار( رضی اللہ عنہا)

نوار دختر مالک بن صرمہ از بنوعدی بن نجار،یہ خاتون زید بن ثابت کی والدہ تھیں جو فقیہ اور کاتبِ وحی تھے،انہوں نے حضورِ اکرم سے روایت کی اور ان سے ام سعد دختر اسعد بن زرارہ نے روایت کی،تینو نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دختر ربعی بن عامر بن خلدہ انصاریہ از بنو بیاضہ،بقول ابن حبیب انہوں نے حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )لیلی( رضی اللہ عنہا)

لیلی دختر رباب بن حنیف انصاریہ،از بنوعوف بن خرزج بقول ابنِ حبیب حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید