لبابہ دختر حارث بن حزن بن بجیربن ہُزَم بن دویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہلالیہ ان کی کنیت ام الفضل تھی اور عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں،انہوں نے چھ بیٹے جنے،فضل، عبداللہ،معبد،عبیداللہ،قثم اورعبدالرحمٰن ،یہ خاتون لبابتہ الکبریٰ کہلاتی تھیں،اور ام المومنین میمونہ کی بہن تھیں اور خالد بن ولید کی خالہ تھیں،براویتے خدیجتہ اکبریٰ کے بعد یہ دوسری خاتون تھیں،جو ایمان لائیں حضورِاکرم ان کے یہاں تشریف لاتے،اور دن کو قیلولہ فرماتے،یہ نجیب خواتین میں شمار ہوتی ہیں،جنہوں نے چھ بیٹوں کو جنم دیا،اس عہد میں یہ شرف صرف انہیں کو حاصل ہوا،عبداللہ بن یزید ہلالی کہتاہے۔ (۱)مَاوَلَدَت نَجِیبَۃٌمِن فَحلٍ کِشَۃٍمِن بَطنِ اُمّ الفضلٖ (ترجمہ)کسی نجیب عورت نے ایک جوانمرد سے،اس طرح چھ لڑکے نہیں جنے،جس طرح کہ ام الفضل کے بطن سے چھ بیٹے تولد ہوئے۔ (۲)اَکرِم بِھَا مِن کَھ۔۔۔
مزید
تملک الشیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،از بنو عبدالدار بعد ہٗ اس بنو شیبہ بن عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ عبدری ابوالفرح بن ابو الرجأ نے اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے ،انہوں نے یوسف بن موسیٰ سے ،انہوں نے مہران بن ابی عمر سے ،انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے مثنی بن صباح سے، انہوں نے مغیرہ بن حکیم سے،انہوں نے صفیہ دختر شیبہ سے،انہوں نے تملک سے روایت کی کہ وہ اپنے ایک بالا خانے میں جو مروہ اور صفا کے درمیان تھا،بیٹھی تھیں کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے سُنا،اے لوگو،خدا نے سعی بین الصفأ والمروۃ کو تم پر فرض کیا ہے،اس لئے اس کی تعمیل کرو۔ اس حدیث کو صفیہ نے اپنی والدہ سے ،جیسا کہ گزر چکا ہے،روایت کیا ہے،اسی طرح اسے عطا نے صفیہ سے،انہوں نے حبیبہ سے روایت کیا جس کا بعد میں آئے گا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
طریہ،حسان بن ثابت کی کنیز تھیں،عبداللہ بن عباس نے ان کا ذکر کیا ہے،ابن وہب نے ابوبکر بن ابواویس سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے حسین بن عبداللہ سے،انہوں نے عکرم سے، انہوں نے ابن عباس سے روایت کی کہ حسان بن ثابت نے اپنی گانے والی لونڈی کا گانے کا حکم دیا، اس وقت ان کے پاس کچھ آدمی تھے،اور اس کے مکان میں جو اونچی جگہ واقع تھی،وہ دالان تھے، حضورِ اکرم کا وہاں سے گزر ہوا،مگر آپ نے ان کے اس مشغلے کوئی دخل نہ دیا،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ابونعیم لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیاہے،اور ابن اویس کی یہ حدیث بیان کی ہے،اور ابونعیم نے یونس بن محمد بن ابو اویس سے،انہوں نے حسین سے،انہوں نے عکرمہ سے،انہوں نے ابنِ عباس سےروایت کی،کہ حضورِاکرم حسان کے پاس سے گزرے،ان کے پاس دودالانوں میں کچھ آدمی تھے،اور لونڈیا تھی،جس کانام سیرین تھا،اور وہ دالانوں میں آتی ج۔۔۔
مزید
توامہ دخترِ امیہ بن خلف الجمحی،ان کا ذکر تو صحابیات میں آیا ہے،مگر روایت کو ئی مذکور نہیں،بروایتے انہوں نے آپ سے بیعت کی،اورانہیں توامہ اس لئے کہتے ہیں،کہ ان کی جڑواں بہن بھی تھی،اور وہ صالح کی آزاد کردہ کنیز تھیں،بروایت صالح اس خاتون نے حضور سے بیعت کی تھی،دونوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
تویلہ دخترِ اسلم انصاریہ،انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی،یحییٰ نے اجازۃً باسنادہ تاقاضی ابوبکر احمد بن عمرو،محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے ابراہیم بن حمزہ سے،انہوں نے ابراہیم بن جعف بن محمود بن حارثی سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے اپنی دادی تویلہ سے روایت کی،کہ ایک موقعہ پر حضور بنو حارثہ میں نماز ادا کررہے تھے کہ عباد بن بشر نے ہمیں بتایا،کہ تحویل قبلہ کا حکم آگیا ہے،اور آپ نے بیت المقدس سے کعبے کی طرف منہ پھیر لیا،مردوں کی جگہ عورتیں آگئیں اور عورتوں کی جگہ مردوں نے لے لی،چونکہ یہ حکم دورانِ نماز میں نازل ہو ا تھا،اس لئے باقی دو سجدے کعبے کی طرف ادا کئے گئے۔ ایک روایت میں ان کا نام، بدیلہ اور ایک میں نویلہ (بنون) مذکور ہے،بعد میں پھر ان کا ذکر کیا جائے گا،دونوں نے ان کاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اختِ معقل بن یسار،متعدد راویوں نے باسنادہم ابوعیسیٰ سے،انہوں نے عبد بن حمید سے،انہوں نے ھاشم بن قاسم سے،انہوں نے مبارک بن فضالہ سے،انہوں نے حسن سے ،انہوں نے معقل بن یسار سےروایت کی کہ عہدِ رسالت میں ایک شخص نے ان کی بہن سے نکاح کیا،کچھ عرصے بعد اس نے اسے ایک طلاق دے دی،اور انقطاع عدت تک رجوع نہ کیا،بعد از عدت اس نے نکاح کی پھر خواہش کی،لیکن عورت کے بھائی نے مزاحمت کی،اس پر ذیل کی آیت نازل ہوئی۔ " اِذَاطَلَّقتُمُ النِّسَاءَفَبَلَغنَ اَجَلَھُنَّ فَلَاتَعضُلُوھُنَّ"اس خاتون کا نام جمیل تھا،پیشترازیں ہم باب جیم میں ان کا ذکر کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
اختِ نعمان بن بشیر،محمد بن اسحاق نے سعید بن مینا سےروایت کی ،کہ بشیر کی بیٹی کو اس کی ماں عمرہ دختر رواحہ نے بلایا اور کھجوروں کی ایک لپ کپڑے میں لپیٹ کر دی،کہ اسے اپنے والداور ماموں عبداللہ بن رواحہ کے پاس کھانے کیلئے لے جاؤ،میں والد اور ماموں کی تلاش میں حضورِ اکرم کے پاس سے گزری،دریافت فرمایا،یہ کیا ہے،عرض کیا یا رسول اللہ یہ کھجوریں ہیں،جو میں اپنے والد اور ماموں کے لئے لے جارہی ہوں،فرمایا،ادھر لاؤ،میں نے حضورِ اکرم کے دونوں ہاتھوں میں انڈیل دیں،پھر فرمایا،کپڑے کو زمین پر بچھادو،پھر آپ نے کھجوریں اس کپڑے پر ڈال دیں،اور انہیں بکھیر دیا پھر ایک آدمی کو کہا،کہ تمام اہلِ خندق کو کھانے کے لئے آواز دو،سب لوگ جن کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ تھی،آگئے،وہ کھارہے تھے ،اور کھجوریں بڑھتی جارہی تھیں،تا آنکہ کپڑے کے کنارے سے باہر گرنے لگیں،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ چند لڑ۔۔۔
مزید
قارعہ دختر ابوالصلت ثقفیہ جو امیہ بن صلت کی ہمشیرہ تھیں،ان سے ابن عباس نے ذکرکیا کہ قارعہ فتح طائف کے بعد حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،یہ خاتون بڑی عقل مند اور خوبصورت تھیں،آپ انہیں دیکھ کر حیران ہوئے،دریافت فرمایا،کیا تمہیں اپنے بھائی کے کچھ اشعار یادہیں،خاتون کا بیان ہے،میں نے عرض کیا،ہاں یا رسول اللہ!آپ نے وہ اشعارپسند فرمائے، میں نے حضورِاکرم کو اپنے بھائی کا ایک طویل قصہ سُنایا،جو رات کو اسے پیش آیا،ایک بار میرابھائی سفر سے لوٹا،تو میرے گھر آیا ،اور میرے بستر پر سوگیا،اتنے میں دوپرندے اُڑتے آئے،ان میں سے ایک اس کے سینے پر گر گیا،اس نے میرے بھائی کا سینہ ناف تک چیرکراس کادل نکالا،اورپھر اپنی جگہ پر رکھ دیا،اور وہ سویا رہا،پھر میں نے آپ کو ذیل کے اشعار سُنائے۔ (۱)باتت ھمومی،تسری طواقھا اَتُفُ عینی والدمع سابِقھا (ترجمہ)میرے ۔۔۔
مزید
اخت عقبہ بن عامر،ابواحمد نے باسنادہ ابوداؤد سے،انہوں نے مخلد بن خالد سے،انہوں نے عبدالرزاق سے،انہوں نے ابنِ جریج سے،انہوں نے سعید بن ابوایوب سے،انہوں نے یزید بن ابو خبیب سے،انہوں نے ابوالخیر سے،انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی سے روایت کی،کہ میری بہن نے نذر مانی،کہ وہ بیت اللہ تک چل کر جائے گی،اس نے مجھے کہا،کہ میں اس سلسلے میں حضورِ اکرم کا فتویٰ دریافت کروں،آپ نے فرمایاکبھی چل لے اور کبھی سوار ہولے،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
عُلیّہ دختر شریح حضرمی جو سائب بن یزید بن اخت التمر کی ہمشیرہ تھیں اور محزمہ بھی ان کا بھائی ہے، جس کے بارے میں حضورِاکرم نے فرمایا تھا کہ یہ شخص قرآن کو تکیہ نہیں بناتا،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید