اُمیمہ دختر نجارا نصاریہ ، ان کی حدیث ابن جریج نے حکیمہ دختر ابو حکم سے ، انہوں نے اپنی والدہ امیمہ سے روایت کی،کہ ازواج مطہرات کے پاس روما ل تھے،جن میں انہوں نے کلف اور زعفران باندھ کر رکھا تھا احرام باندھنے سے پہلے انہوں نے اس مرکب کو اپنے بالوں کی جڑوں میں لگا لیا،پھر احرام باندھا۔ ابو عمر کا قول ہے،کہ عقیلی نے یہ حدیث امیمہ دختر نجار سے منسوب کی ہے،لیکن میرے خیال میں یہ حدیث امیمہ دختر رقیقہ سے مروی ہے،بایں دلیل کہ حجاج نے اپنے جریج سے،انہوں نے حکیمہ دخترِ امیمہ دختر رقیقہ سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی ،کہ رسولِ کریم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا،جس میں آپ پیشاب کیا کرتے تھے،اس حدیث کو ابو داؤد نے محمدبن عیسٰی سے،انہوں نے حجاج سے روایت کی،ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
قریبہ دختر حارث عتواریہ،یہ ان خواتین میں تھیں،جو حضورِاکرم سے بیعت کرنے کو اس وقت گئیں جب آپ نے ابطح میں خیمہ لگایاہواتھا،آپ نے خواتین سے عہد لیا،کہ وہ شرک نہیں کریں گی،خواتین نے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھائے،تو فرمایا میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا،پھر ہماری مغفرت کی دعافرمائی،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
اُمیہ دختر قیس بن ابی الصلت انصاریہ،ان کی حدیث کے بارے میں اختلاف ہے،ابو موسٰی نے ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ خاتون مجھے امہ دختر ابو الحکم معلوم ہوتی ہیں، ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے،لیکن علمأ کی ایک جماعت نے ان میں اور اول الذکر میں فرق بیان کیا ہے،اور خطیب ابوبکر نے اس نام کو ان ناموں میں شمار کیا ہے،جو دونوں صنفوں کے لئے استعما ل کئے جاتے ہیں۔ واقدی نے ابن ابی سبرہ سے،انہوں نے سلیمان بن سحیم سے،انہوں نے ام علی دختر ابو الحکم سے،انہوں نے امیہ دختر قیس بن ابو الصلت سے روایت کی،کہ وہ بنو غفار کی چند خواتین کے ساتھ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور گزارش کی ،یا رسول اللہ! ہم چاہتی ہیں کہ ا س مہم خیبر میں آپ کے ساتھ ہم بھی نکلیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کریں گی،اور جو کچھ بن پڑے گا،مسلمانوں کے لشکر کے لئے سر انجام دیں گی،حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر رقیقہ ، ان کی والدہ رقیقہ ام لمو منین خدیجتہ الکبرٰی رضی اللہ عنہا کی بہن اور ان کی اولاد کی خالہ تھیں،جناب امیمہ کے والد عبد بن بناد بن عمیر بن حارث بن حارثہ بن سعد بن تیم بن مرہ تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے بیعت کی تھی،بقول ابو عمر ان سے محمد بن منکدر اور ان کی بیٹی حکیمہ نے روایت کی٘٘٘٘٘ابن مندہ اور ابو نعیم نے انہیں امیمہ دختر رقیقہ تمیمہ لکھا ہے،اور جناب خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ماں جائی بہن قرار دیا ہے، ابو نعیم نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے،کہ وہ خاتونِ جنت کی خالہ تھیں،لیکن یہ دونوں باتیں بہ قولِ ابن اثیر غلط ہیں،کیونکہ ان کی نسبت تیمہ ہے،اور بنو تیم بن مرہ سے تعلق رکھتی ہیں،نہ کہ بنو تمیم سے،نیز جناب امیمہ،ام المو مومنین خدیجہ کی بھانجی ہیں،نہ کہ بہن،اور ابو نعیم نے ان کا سلسلہ نسب تیم تک بیان کیا ہے۔ کثیر التعداد راویوں نے باسنادہم تا بو عیسٰی،انہوں نے قت۔۔۔
مزید
اُمیمہ دختر رقیقہ کی دختر ابو صیفی بن ہاشم بن عبد مناف،زبیر بن بکار کا قول ہے، کہ ابو صیفی کی نسل (ما سوائے رقیقہ کی اولاد کے) ختم ہوگئی،او ررقیقہ محزمہ بن نوفل کی ماں ہیں، جنہوں نے جناب عبدالمطلب کی دعائے استسقأ کا خواب دیکھا تھا،ان سے ان کی بیٹی حکیمہ نے روایت کی۔ طبرانی اور ابو نعیم نے اس امیمہ اور امیمہ دختر رقیقہ تیمیہ میں فرق بیان کیاہے لیکن ابو نعیم نے دونوں تراجم میں لکھا ہے،کہ امیمہ کی بیٹی حکیمہ نے اپنی والدہ سے روایت کی،کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے،کہ دونوں ایک دوسرے کے نام سے موسوم ہوں،اور اسی طرح ان کی لڑکیوں کے نام ایک جیسے ہوں،اور وہ اپنی اپنی ماؤں سے روایت کریں٘٘٘٘٘جعفر مستغفری کا قول ہے کہ وہ جنابِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پھوپھی تھیں، قاضی ابو احمد العسال کے مطابق سوائے محمد بن منکدر کے اور کسی نے ان سے روایت نہیں کی،امیمہ تیم بن مرہ سے تھیں،ب۔۔۔
مزید
> قریرہ دختر حارث عتواریہ،ایک روایت میں قریبہ سے پہلے ان کا ذکر آچکا ہے،طبرانی وغیرہ نے ان کاذکر کیا ہے،ان سے ان کی بیٹی عقیلہ دختر عبید بن حارث نے روایت کی۔ ابو موسیٰ نے کتابتہً ابوغالب سے، انہوں نے ابوبکرسے(ح)ابوموسیٰ نے ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے،انہوں نے محمد بن علی صائع سے،انہوں نے حفص بن عمرجدی سے ،انہوں نے بکار بن عبداللہ بن برادر موسیٰ بن عبیدہ ریدی سے،انہوں نےموسیٰ سے (ح)ابنِ زیدہ نے طبرانی سے،انہوں نے معاذبن مثنی سے،انہوں نے علی بن مدینی سے،انہوں نے زید بن حباب سے ،انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے،انہوں نے زید بن عبدالرحمٰن سے اور ایک روایت میں علی بن زید بن عبداللہ بن ابوسلامہ سے ،انہوں نے اپنی والدہ حجہ دختر قریظ سے،انہوں نے اپنی والدہ عقیلہ دخترعبید بن حارث سے روایت کی،انہوں نے کہا،کہ میری ماں قریرہ دختر حارث ،مہاجر خواتی۔۔۔
مزید
سدوس دختر قطبہ بن عبد عمر بن مسعود از بنو دینار،بقول ابنِ حبیب انہوں نے حضورِاکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر معد یکرب کندبہ جو معاویہ بن خدیج کی والدہ تھیں،دوادیہ بن خدیج سے مروی ہے،کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے،جو اشعث بن قیس کی پھوپھی تھیں، انہوں نے عرض کیا،یارسول اللہ،میں نے نذر مانی ہے،کہ میں کعبتہ الحرام کے صحن کا طواف کروں گی،فرمایا،تم اپنے دونو ں پاؤں سے سات سات بار طواف کرو،سات بار ہاتھوں کے لئے اور سات بار پاؤں کے لئے طواف کرو،ابن دباغ اندلسی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر رافع بن عبدبن ثعلبہ بن عبید بن ابجر(جو خدرہ بن عوف بن خزرج ہے)انصاریہ بن خدریہ،یہ خاتون سعد بن اشہلی کی والدہ تھیں،ان کا بیٹا فوت ہوا،تو آہ وزاری کی،عبیداللہ بن احمد نے یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی،کہ جب کبشہ کے بیٹے سعد کی نعش اٹھا ئی گئی،تو بایں انداز ندبہ کیا، وَیل ام سَعد سعداً،صَرَامۃَ وجداً (ام سعد اپنے بیٹے سعد پر رورہی ہے،اس کی دلیری اور استقلال پر)جب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا،ہر نوحہ کرنے والی عورت جھوٹ بولتی ہے،سوائے ام سعد کے،ابو عمرنے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سنبلہ دختر ماعز بن قیس بن خلدہ انصاریہ از بنوزریق ،بہ قول ابن حبیب انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید