r مریم دخترایاس انصاریہ مدینہ،ان سے عمرو بن یحییٰ مازنی نے روایت کی،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر ثابت بن حارثہ بن ثعلبہ بن جلاس انصاریہ از بنو خدارہ،بقولِ ابن حبیب حضورِاکرم صلی علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
کبشہ دختر واقدبن عمرو بن اطنابہ بن عمرو انصاریہ از بنو حارث بن خزرج،یہ خاتون عبداللہ بن رواحہ کی والدہ تھیں،بقول ِابن حبیب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید
سُرّی دختر نبہان غنویہ،یہ ابن مندہ اور ابو نعیم کا قول ہے،ابو عمر نے ان کی نسبت عنبریہ لکھی ہے، مگراول اذکر درست ہے۔ جناب سُرّی سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن اور ساکنہ دختر جعد نے روایت کی،کہ ہمیں ابو احمد عبدالوہاب بن علی نے باسنادہ تا ابو داؤد،محمد بن بشار سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے سری دختر نبہان غنویہ سے،جو زمانۂ جاہلیت میں ایک گھر کی مالک تھیں، بیان کیا کہ،رسولِ کریم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا،اور دریافت فرمایا،آج کونسا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا،اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا کیا یہ کعبتہ الحرام نہیں ہے،پھر خود ہی فرمایا شاید میں آج کے بعد تم سے اس مقام پر پھر نہ مل سکوں،یاد رکھو کہ تمہارے خون،مال اور عزتیں اسی طرح ایک دوسرے پر حرام اور قابل احترام ہیں،جس طرح آج کا دن اس شہر میں تمہارے لئے حرام اور قابل احترام ہے۔۔۔
مزید