ابوخنیس الغفاری کابیان ہے ک وہ ایک دفعہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی معیت میں غزوہ کے لئے نکلے جب وہ عفان کے مقام پر پہنچے،تو حضورِ اکرم کے صحابہ بھی پہنچ گئے اور گزارش کی ،یارسول اللہ!ہم بھوک سے لاچارہوگئے ہمیں اجازت دیجئے،تاکہ ہم اپنی سواریاں ذبح کر کے اپنے پیٹ بھریں،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست کی،یارسول اللہ ،اگر آپ راشن میں برکت کے لئے دعافرماتے تو بہترہوتا،پھر راوی نے اکی عمدہ حدیث جس کا تعلق نبوّ ت کی نشانیوں سے تھا، بیان کی، ان کی یہ حدیث ابوبکر بن عمر بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عمر نے (جوامام مالک کے شیخ ہیں) ابراہیم بن عبداللہ سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابوربیعہ سے روایت کی اور انہوں نے ابوخنیسہ سے سنی او رپھرحدیث بیان کی،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالخطاب،انہیں صحبت میسر آئی،لیکن انکا نام معلوم نہیں ہوسکا،ان سے تویر بن ابی فاختہ نے روایت کی،کوفی تھے،ابواحمد زبیری نے اسرائیل سے،انہوں نے ثور سے،انہوں نے ایک صحابی سے جس کانام ابوالخطاب تھا،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سےدربارۂ وترسوال کیا ،حضوراکرم نے فرمایا،میں آدھی رات کے وقت وتر پڑھنا بہتر خیال کرتاہوں،کیونکہ اس وقت خدا آسمان دنیا پراُترآتاہے،اور کہتاہے،کیاکوئی توبہ کرنے والاہے،معافی مانگنے والا،یا دعاکرنے والا ہے،جب صبح نمودارہوتی ہے،تواوپر چلاجاتاہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوخیثمہ انصاری سالمی ،ان کانام عبداللہ بن خثیمہ تھا،ابن کلبی کے مطابق ان کا نسب حسب ذیل ہے،مالک بن قیس بن ثعلبہ بن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عوف بن عمرو بن خزرج الاکبر،یہ وہ صاحب ہیں جو تبوک میں حضورِاکرم سے جاملے تھے،اور حضورِاکرم نے انہیں آتادیکھ کر فرمایا تھا،ہونہ ہو یہ ابوخیثمہ ہے۔ ابوجعفر بن سمیین نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابراہیم بن اسماعیل انصاری سے،انہوں نے زہری سے روایت کی کہ میرے چچا حسین نے جو بنوکعب کے قائد تھے،انہیں بتایا کہ مجھے کعب نے وہ واقعہ سنایا،جب وہ غزوۂ تبوک کے موقعہ پر حضوراکرم سے پیچھے رہ گئے تھے،انہوں نے بتایا کہ حضورِ اکرم نے ایک سخت گرم دوپہر کو تبوک میں دورایک سوار کو سراب میں تیز تیز قدم اُٹھاتے دیکھا،اورفرمایا،ہونہ ہو،یہ ابوخیثمہ ہے،چنانچہ بنوعوف کے ایک آدمی نے اس کی تصدیق کی،اور کہا، ۔۔۔
مزید
ابوالکنود رضی اللہ عنہ:ان کے نام میں اختلاف ہے،انہوں نے جاہلیت کو پایا،محمدبن ابی لیلی نے ہنیدہ بن خالدسے،انہوں نےابوالکنودسےروایت کی کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے تلوارمانگی،آپ نے فرمایا،غالباًتوچاہتاہےکہ تلوارلے کرسب کے پیچھےجاکرکھڑا ہوجائے،اس نے کہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،میراایساارادہ نہیں ہے،چنانچہ تلوارلے کر صفوں میں گھس گیا،لڑتاتھااوریہ اشعارپڑھتاتھا۔ ۱۔اناامراءٌعاھدنی خلیلی ونحن تحت اسفل النخیل (ترجمہ)میں وہ آدمی ہوں کہ میرے دوست نے مجھ سے اس وقت عہد لیا،جب ہم کھجور کے ایک پست قامت درخت کے نیچے تھے۔ ۲۔ان لااقوم الدھرفی کبول اضرب بسیف اللہ والرسول (ترجمہ)میں نے وعدہ کیاتھاکہ میں ایک کنارے پرنہیں کھڑاہوں گااوراللہ اوررسول کی تلوار سے جہاد کروں گا۔ اورجس نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔۔۔
مزید
ابوالمہلب غیرمنسوب ہیں اورحضرمی نے انہیں "الوحدان"میں صحابہ میں شمارکیاہے،ابوموسیٰ بن ابوبکرمدینی نے اذناً حسن بن احمدسے،انہوں نے احمدبن عبداللہ سے،انہوں نے محمدبن محمد المقری سے،انہوں نے محمدبن عبداللہ بن سلیمان سے(ح)احمدنے محمد بن احمدبن حسن سے،انہوں نے محمد بن عثمان بن ابی شیبہ سے،انہوں نے ضراد بن صردسے،انہوں نے محمد بن اسماعیل بن ابوفدیک سے،انہوں نے عبدالعزیز بن مہلب سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے داداسے روایت کی،کہ حضورِاکرم نے ابوبکراورعمرکے بارے میں ارشاد فرمایا،کہ یہ میرے کان اورآنکھ ہیں،احمد کا قول ہے کہ ان کی کتاب میں اسی طرح مذکورہے۔ ان کا نام عبدالعزیز بن مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے،احتمال ہے کہ ابومہلب ان کی کنیت ہو،اور اس کا احتمال بھی ہے کہ مطلب کو کسی نے مہلب پڑھ لیاہو،واللہ اعلم،ابونعیم اورابوموسیٰ نے ان۔۔۔
مزید
ابوالمجیر،حضرمی اورطبرانی نے انہیں صحابہ میں شمارکیاہے،ابوموسیٰ حسن نے ابونعیم سے،انہوں نے حبیب بن حسن سے،انہوں نے موسیٰ بن اسحاق سے(ح)ابونعیم نے محمدبن محمدسے،انہوں نےمحمدبن عبداللہ حضرمی سے(ح)ابوموسیٰ نے کوشیدی سے،انہوں نے ابنِ ریدہ سے،انہوں نے ابوالقاسم طبرانی سے،انہوں نے ابوحصین محمدبن حصین القاضی سے،وہ کہتے ہیں انہوں نے یحییٰ حمانی،انہوں نے مبارک بن سعیدسےجوسفیان بن سعیدثوری کے بھائی ہیں،انہوں نے ابوالمجیرسے روایت کی،حضورِاکرم نےفرمایا،جس نے دولڑکیوں،دوبہنوں یادوخالاؤں یادوپھپھیوں یادودادیوں کی پرورش کی،وہ میرے ساتھ جنت میں اس طرح ہوگا،جس طرح یہ دوانگلیاں باہم جڑی ہوئی ہیں، آپ نے انگشتِ شہادت کو ساتھ والی انگلی سے ملادیاتھا۔ ابوموسیٰ نے اذناً ابوالرجأ احمدبن محمدالقاری سے انہوں نے ابوالعلاء عبدالصمد بن محمدالکرجی سے ،۔۔۔
مزید
ابوالملیح ہذلی،اپنےوالدسےروایت کی،کثیرالتعدادلوگوں نےباسنادہم ابوعیسیٰ محمدبن عیسیٰ سے،انہوں نے ابوکریب سے،انہوں نے ابن المبارک محمدبن بشراورعبداللہ بن اسماعیل سے، انہوں نےسعیدبن ابوعروبہ سے،انہوں نےقتادہ سے،انہوں نے ابوالملیح سے،انہوں نے اپنے والد سےروایت کی،کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلّم نےدرندوں کے چمڑے کوبطورِفرش استعمال کرنے سے منع کیا،ابوعیسیٰ کہتےہیں کہ ہم سعیدبن ابوعروبہ کے سوااورکسی کونہیں جانتے،جس نے "عن ابوالملیح عن ابیہ"کہاہو،ابوموسیٰ کوچاہیئے تھاکہ وہ ان کاذکرکرتے،حالانکہ انہوں نے ایسے لوگوں کاذکربھی کیاہے،جوابوالملیح سے ضعیف ترہیں۔ ۔۔۔
مزید
ابومجن ثقفی،ان کانام عمروبن حبیب بن عمروبن عمیربن عوف بن عقدہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف التقفی تھا،ایک روایت میں مالک بن حبیب اوردوسری میں عبداللہ بن حبیب آیاہے،ایک اورروایت کی رُوسےان کی کنیت ہی ان کا نام ہے،جب نویں ہجری کے ماہِ رمضان میں بنوثقیف نے اسلام قبول کیا،تویہ بھی مسلمان ہوگئے تھے،ان سے ابوسعیدبقال نے روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،مجھے اپنی امت سے تین باتوں کاخطرہ ہے،ستاروں پر ایمان لانا،تقدیرکی تکذیب اورسلاطین کا ظلم۔ ابومجن جاہلیت میں اوراسی طرح بعدازقبولِ اسلام بڑے دلیراوربہادرسپاہی تھے،شاعرتھےاور اچھےشعرکہتے تھے،مزیدبرآں بڑے سخی اورکریم النفس آدمی تھے،لیکن شراب کا ایسا چسکاتھا،کہ کسی طرح بھی رُ ک نہیں سکتےتھے،حضرت عمر نے انہیں سات آٹھ دفعہ حد لگائی ،آخرجلاوطن کرکےایک جزیرے میں قیدکردیا،اورحفاظت کے لئے ایک آدم۔۔۔
مزید
ابومجن ثقفی،ان کانام عمروبن حبیب بن عمروبن عمیربن عوف بن عقدہ بن غیرہ بن عوف بن ثقیف التقفی تھا،ایک روایت میں مالک بن حبیب اوردوسری میں عبداللہ بن حبیب آیاہے،ایک اورروایت کی رُوسےان کی کنیت ہی ان کا نام ہے،جب نویں ہجری کے ماہِ رمضان میں بنوثقیف نے اسلام قبول کیا،تویہ بھی مسلمان ہوگئے تھے،ان سے ابوسعیدبقال نے روایت کی،حضورِاکرم نے فرمایا،مجھے اپنی امت سے تین باتوں کاخطرہ ہے،ستاروں پر ایمان لانا،تقدیرکی تکذیب اورسلاطین کا ظلم۔ ابومجن جاہلیت میں اوراسی طرح بعدازقبولِ اسلام بڑے دلیراوربہادرسپاہی تھے،شاعرتھےاور اچھےشعرکہتے تھے،مزیدبرآں بڑے سخی اورکریم النفس آدمی تھے،لیکن شراب کا ایسا چسکاتھا،کہ کسی طرح بھی رُ ک نہیں سکتےتھے،حضرت عمر نے انہیں سات آٹھ دفعہ حد لگائی ،آخرجلاوطن کرکےایک جزیرے میں قیدکردیا،اورحفاظت کے لئے ایک آدم۔۔۔
مزید
ابومجیبہ الباہلی،ایک روایت میں عمِ مجیبہ ہے،ابوموسیٰ کے مطابق یہ ان لوگوں میں ہیں،جن کانام معلوم نہیں ہوسکا،ابوعمرکہتے ہیں،میں انہیں نہیں جانتا،ابوعمراورابوموسیٰ نے انہیں ان لوگوں میں شمارکیاہے،جنہوں نے اپنے والد سے روایت کی۔ ۔۔۔
مزید