پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ

ابوعبیدہ،ان کا نام عبدالقیوم تھا،حضورکی خدمت میں اپنے مولیٰ کے ساتھ جس کا تعلق بنوازدسے تھا، حاضرہوئے،حضوراکرم نے دریافت فرمایا،تمہاراکیانام ہے؟انہوں نے جواب دیا،قیوم یارسول اللہ!فرمایاعبدالقیوم،انکے مولیٰ کا نام عبدالعزیٰ ابومغویہ تھا،حضورِاکرم نے فرمایا،تم آج سے عبدالرحمٰن ابوراشدہو،ابوعمرنے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعبیدہ الدیلی رضی اللہ عنہ

ابوعبیدہ الدیلی،حجازی تھے،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،ان کی حدیث انکی اولاد سے مروی ہے،یحییٰ بن محمودنے باسنادہ تاابن ابی عاصم،ابراہیم بن منذرالخرامی سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعدالمؤذن سے،انہوں نے مالک بن عبیدۃ الدیلی سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے داداسےروایت کی،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اگراللہ کے عبادت گزار بندے،دودھ پیتے بچےاورگھاس چرنے والے مویشی دنیا میں نے ہوتے تو خداتم پرعذاب انڈیل دیتا،اورپھرطلب رضاپرراضی ہوجاتا،تینوں نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعبیدہ بن عمارہ رضی اللہ عنہ

ابوعبیدہ بن عمارہ بن ولیدبن مغیرہ بن عبداللہ بن عمربن مخزوم،قرشی مخزومی،آپ کی خدمت میں حاضررہےاوراپنے چچا خالدبن ولید کے ساتھ معرکۂ اجنادین میں موجودتھے،اورعمارہ ان کاوالد وہی آدمی ہے،جسے قریش مکہ نے مہاجرین کی واپسی کے لئے عمروبن عاص کے ساتھ نجاشی کے دربار میں روانہ کیاتھااورعمارہ وہیں مرگیاتھا،اس سے لازم آتا ہے کہ اس کا بیٹا حضورِاکرم کے وصال کے وقت جوان ہوچکاہوگا،کیونکہ حبشہ کا واقعہ ابتدائے اسلام میں پیش آیاتھا،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ابوعبیدہ بن جراح،ان کا نام عامربن عبداللہ بن جراح تھا،ایک روایت میں عبداللہ بن عامر مذکور ہے،لیکن پہلی روایت اصح ہے،ان کا نسب عامربن عبداللہ بن جراح بن ہلال بن اہیب بن ضبہ بن حارث بن فہربن مالک بن نضرالقرشی الفہری ہے،عشرہ مبشرہ سے تھے،تمام غزوات میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے،اسی طرح حبشہ کی ہجرت ثانیہ میں شامل تھے۔ عبیداللہ بن احمد نے باسنادۃ تایونس بن بکیرابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ ازبنوحارث بن فہر ابوعبیدہ بن جراح کا ذکرکیاہے،اورابن اسحاق سے بہ سلسلہ ٔشرکائے بدرابوعبیدہ کا نام لیا ہے۔ جب حضرت عمرشام میں آئے اور حضرت ابوعبیدہ کے اطوارزندگی کودیکھا،کیونکہ وہ حد درجہ عشرت سے گزربسرکرتے تھے،توکہنے لگے،اے ابوعبیدہ،ہم سب کودنیانے تیرے سوابدل دیا۔ ابوعبیدہ کی وفات عمواس کے طاعون کی وجہ سے ۱۸ہجری میں ہوئی تھی،اورمعاذ بن جبل نے ان کی نمازجنازہ پڑھائی تھی،سعیدبن عبدا۔۔۔

مزید

ابوعبیدہ بن عمرو رضی اللہ عنہ

ابوعبیدہ بن عمروبن محصن بن عتیک بن عمروبن مبذول بن عمرو،بن غنم بن مالک بن نجار،بئر معونہ کے حادثے میں شہید ہوئے،ابوعمرنے مختصراً ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعبیداللہ رضی اللہ عنہ

ابوعبیداللہ،حرب بن عبداللہ کے داداتھے،ابوعمرنے مختصراً ان کا ذکرکیاہے،وہ ان کی صحبت کے قائل ہیں،لیکن مجھے ان سے کوئی حدیث یادنہیں۔ ۔۔۔

مزید

ابوعَمیرہ رضی اللہ عنہ

ابوعَمیرہ رشیدبن مالک،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نصیب ہوا،ہم ان کا ذکررشید کے ترجمے میں کرآئے ہیں،ابونعیم اور ابوعمرنے مختصراً ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعَمیرہ رضی اللہ عنہ

ابوعَمیرہ رشیدبن مالک،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نصیب ہوا،ہم ان کا ذکررشید کے ترجمے میں کرآئے ہیں،ابونعیم اور ابوعمرنے مختصراً ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوامیہ ازدی رضی اللہ عنہ

ابوامیہ ازدی،جنادہ کے والد تھے اور کانام کثیر تھا،یہ امام بخاری اور ابوحاتم کی روایت ہے،خلیفہ نے ان کا نام مالک بیان کیا ہے،ابن ابی حاتم نے جنادہ بن ابی امیہ لکھاہے،ابوامیہ کو حضورِ اکرم کی صحبت میسر آئی،جنادہ نے ان سے روایت کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذِکر کیا ہے،اور ابوعمر نے جنادہ کے ترجمے میں ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ

ابوامیہ ضمری،یاجعدی یاقشیری،یہ ابن مندہ اور ابونعیم کا قول ہے،ابوعمر نے ضمری لکھا ہے۔ اوزاعی اور ایان العطاء نے یحییٰ بن ابی کثیر سے،انہوں نے ابوقلابہ سے،انہوں نے ابوامیہ سےروایت کی کہ میں ایک سفر کے سلسلے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا،جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادۂ نزول فرمایاتومیں واپس ہوا،آپ نے فرمایا،کیا تم کھانے کا انتظار نہیں کروگے، میں نے عرض کیا،یارسول اللہ !میں روزے سے ہوں،حضور نے فرمایا،کیا تمہیں علم نہیں کہ خدا نے مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے،اورنماز آدھی کردی ہے،ولید نے یہ حدیث اوزاعی سے،انہوں نے یحییٰ سے،انہوں نے ابوقلابہ سے،انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی اور خالد الخداء نے ابوقلابہ سے،انہوں نے انس بن مالک الکعبی سے روایت کی،ابوعمر کہتے ہیں،کہ اس حدیث میں انس بن مالک الکعبی ہی محفوظ ہیں،اور یہ حدیث کثیر الاضطراب ہے،تینو۔۔۔

مزید