ابوعمروالنخعی،یہ ان لوگوں میں سے ہیں،جو حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد کے ساتھ حاضرہوئے،ابن قتیبہ نے انہیں غریب الحدیث میں ذکرکیاہے،اوران سے ای خواب بیان کیا ہے ،جس کی تعبیر انہیں بتائی گئی تھی،غسانی نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروانصاری،غزوۂ بدر میں شریک تھے،ابوموسیٰ نے اجازۃً ابوغالب کوشیدی سے،انہوں نے ابن ریدہ سے(ح) ابوموسیٰ کہتے ہیں،ہم نے حسن بن احمدسے،انہوں نے ابونعیم سے،ان دونوں نے سلیمان بن احمد سے،انہوں نے محمد بن عثمان بن ابوشیبہ سے،انہوں نے عبادبن زیادسے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی سے،انہون نے محمد بن جعفر سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے محمد بن طلحہ بن یزید بن رکانہ سے،انہوں نے محمد بن حنیفہ سے روایت کی،کہ انہوں نے ابوعمروانصاری کوجوبیعت عقبہ کے علاوہ بدراور احد میں شریک رہے تھے،دیکھا،وہ پیاس کی وجہ سے مضطرب تھے،اورغلام سے کہہ رہے تھے،مجھے تھام کواُٹھاؤ،اس نے انہیں اٹھایااور کمان کو ذرا ساکھینچ کر آہستہ سے تین تیر پھینکے،پھر کہنے لگے،مَیں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا، جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیربھی چلایا۔۔۔
مزید
ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ بروایت زبیر،ایک روایت میں ابوحفص بن مغیرہ اور ایک روایت میں ابوعمرو بن حفص بن عمروبن مغیرہ قرشی مخزومی مذکورہے،ان کے نام بھی اختلاف ہے،احمداور عبدالحمید کے علاوہ ای روایت میں ہے کہ ان کی کنیت ہی ان کا نام تھی،ان کی والدہ درہ دخترخزاعی بن حویرث ثقفی تھی۔جب آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کویمن روانہ فرمایا،توابوعمرہ کو بھی ساتھ بھیج دیا،وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ دختر قیس الفہریہ کو طلاق دے دی،اور بیوی کو مطلع کردیا،اورپھرفوت ہوگئے،اورایک روایت میں ہے کہ زندہ رہےفتیان بن احمد بن میمنہ نے باسنادہ قعتبی سے،انہوں نے مالک سے،انہوں نے عبداللہ بن یزید مولیٰ اسود بن سفیان سے،انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے فاطمہ دختر قیس سے روایت کی کہ ابوعمرونے مجھے طلاق دے دی ہے،اورخود رُوپوش ہوگیاہے،لیکن اپنے وکیل کو ۔۔۔
مزید
ابوعمروبن حماس،صحابی تھے،اورحجازی شمارہوتے ہیں،ابنِ ابوذوئب نے حارث بن حکم سے،انہوں نے ابوعمروبن حماس سے،انہوں نے رسول کریم سے روایت بیان کی،حضوراکرم سے روایت بیان کی،حضوراکرم نے فرمایا،عورتوں کو راستے کے درمیان نہیں چلناچاہیئے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروبن کعب بن مسعود،بقول ابنِ اسحاق بئرمعونہ کے حادثے میں شہیدہوئے،ابوموسیٰ نے مختصراً ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروجریربن عبداللہ الجلی،ان کا ذکر گزرچکاہے،ابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروشیبانی ایک انصاری سے،زائدہ نے رکین بن ربیع سے،انہوں نےعمیلہ سے،انہوں نےابو عمروشیبانی سے،انہوں نے ایک انصاری سے،انہوں نے رسول کریم سےروایت کی،گھوڑے تین قسم کے ہیں،ایک وہ ہےجسےایک شخص جہاد فی سبیل اللہ کے لئے باندھ رکھے،اس کی قیمت، سواری اور چارے پربھی اللہ کے یہاں اجرہے،دوسری قسم وہ ہے،جوریس (دوڑ)کےلئے رکھے جاتے ہیں،اس کی قیمت ،سواری اورچارہ سب گناہ ہیں،تیسری قسم وہ ہے جوسواری کی غرض سے رکھےجاتے ہیں،ہوسکتاہےکہ کبھی یہ گھوڑے سرحدوں کی حفاظت کےکام آئیں،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروشیبانی سعد بن ایاس،حضورِاکرم کے معاصر تھے،ایمان لائے،مگرزیارت سے محروم رہے، وہ کہتے ہیں کہ حضورِاکرم کی بعثت ہوئی اور وہ دونوں کاظمہ میں اُونٹ چرایاکرتے تھے،ان کاشمار کبارتابعین میں ہوتاہے۔ انہوں نے ابن مسعود،حذیفہ اور ابومسعود بدری وغیرہ سے روایت کی،ابوعمرنے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعمروغیرمنسوب ہیں،وہ زامل بن عمرکے داداتھے،ان کی حدیث زامل بن عمرنے اپنے والدسے، انہوں نے داداسے بیان کی،کہ رسولِ کریم عبدالفطرکی نماز پڑھنے کونکلے،ان کے دائیں ہاتھ ابی بن کعب اور بائیں ہاتھ عمریاابنِ عمر تھے،جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ ابوبکیر کے مکان کے پاس سے گزرے،اس کے صحن میں گوشت بیچنے والے جمع تھے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جس طرح چاہو ،بیچومگرحلال اور حرام کو ملا نہ دینا،نہ ذخیرہ اندوزی کرنااور نہ قیمت بڑھانا، اور نہ مال پھینکنا،شہری بادہ نشین کے لئے فروخت نہ کرے،اورنہ کوئی آدمی اپنے بھائی کی خریدکردہ چیزکو خریندنے کی کوشش کرے،اورنہ اپنے بھائی کی منگنی میں اپنے لئے موقعہ پیداکرے اور اسی طرح کوئی عورت،کسی دوسری عورت کی طلاق کی سعی نہ کرے،تاکہ اپنے لئے جگہ پیداکرے، ابنِ مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے،ابوموسیٰ ۔۔۔
مزید
ابوعنبہ خولانی،انہیں حضورِاکرم کازمانہ حاصل ہوا،مگرآپ کی زیارت سے محروم رہے،انہیں دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نمازکی سعادت نصیب ہوئی،ایک روایت میں ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جوحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرآپ کی وفات سے پہلے ایمان لائے،لیکن صحبت سے محروم رہے،معاذ بن جبل کی صحبت سے مستفیض ہوئے،اور شام میں سکونت کرلی،ان سے محمدبن زیاد الہانی،ابوالزاہریہ اوربکربن زرعہ وغیرہ نے روایت کی۔ یحییٰ بن محمود بن سعد نے باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے ہشام بن عمارسے،انہوں نے جراح بن ملیح سے،انہوں نے بکربن زرعہ سے روایت کی،کہ میں نے ابوعنبہ خولانی سے سُناکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس دین میں ایسے ادارے قائم کرتارہے گا،جنہیں لوگ خداکی اطاعت میں صرف کریں گے۔ نیز ابوعنبہ سے مروی ہے،جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو،انہوں نے کہا کہ زمانۂ ج۔۔۔
مزید