ابوزینب بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ،اصبغ بن نباتہ نے روایت کی،کہ ہم ان لوگوں کی تلاش میں تھے،جنہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خمِ غدیر پر خطبہ دیتے سُناتھا،مجمع میں دس بارہ آدمی اُٹھ کھڑے ہوئے،جن میں ابوایوب انصاری اور ابوزینب بن عوف شامل تھے،ہمیں بتایا کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواس موقعہ پر دیکھا،کہ آپ نے اپناہاتھ آسمان کی طرف بلندکیا،اورفرمایا،اے لوگو!کیاتم شہادت دیتے ہو،کہ میں نے دین کی تبلیغ کی اور تمہیں پندونصائح سے نوازا،لوگوں نے حضورِاکرم کے ارشادکی تصدیق کی،اس کے بعد فرمایا،اللہ تعالیٰ میراوالی ہے، اور میں مومنوں کا والی ہوں،جس کامولیٰ میں ہوں،علی بھی اس کامولیٰ ہے،اے اللہ جوشخص اس سے محبت کرے،توبھی اس سے محبت کر،اورجوشخص اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ،ابوموسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزینب،انہوں نے ولید بن عقبہ کے خلاف شہادت دی تھی،ان کا نام زہیربن حارث بن عوف بن کاسرالحجرتھا،ابوعمرکاقول ہے،کہ جن لوگوں نے انہیں صحابی شمار کیا ہے،وہ غلطی پر ہیں،کیونکہ یہ دعوٰے بلادلیل ہے،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوذرغفاری،ان کے نام کے بارے میں بڑااختلاف ہے،ایک روایت میں جندب بن جنادہ ہے،جو باقی روایتوں کے مقابلوں میں اصح اورذیادہ عام ہے،ایک دوسری روایت میں بریر بن عبداللہ بریربن جنادہ بن قیس بن عمروبن ملیل بن صعیر بن حرام بن غفار ہے،ایک اور روایت کے مطابق جندب بن جنادہ بن سفیان بن عبید بن حرام بن غفار بن ملیل بن ضمرہ بن بکربن عبدمناہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکۃ الغفاری آیاہے،ان کی والدہ رملہ دختردقیعہ بنوغفارسے تھیں،ابوذرقدیم الاسلام تھے اور کبار صحابہ میں سے تھے،اور فاضل شمارہوتے تھے،اسلام لانے والوں میں پانچویں نمبر پر تھے،بعدازقبولِ اسلام وہ اپنے قبیلے میں واپس چلے گئے تھے،اور وہیں قیام پذیر رہے،تاآنکہ حضورِ اکرم نے مدینے کوہجرت فرمائی،توجناب ابوذر وہاں پہنچ گئے۔ کئی روایوں نے باسنادہم جو محمد بن اسماعیل تک ہے،عمروبن عباس سے،ان۔۔۔
مزید
ابوذرہ حرمازی،صحابی شمارہوتے ہیں،ابوالبشر دولابی نے کتاب الاسماء والکنی میں ان کا ذکر کیا ہے،یہ ابن ماکولا اور ابوسعد السمعانی کاقول ہے اور حرمازی،حرماز بن مالک بن عمرو بن تمیم کی طرف منسوب ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوذرہ حارث بن معاذ بن زرارہ انصاری ظفری،نملہ انصاری کے بھائی تھے،دونوں بھائی اپنے والد معاذ کے ہمراہ غزوۂ احد میں موجود تھے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوذیاب السعدی ازسعد العشیرہ،عبداللہ بن ابوذیاب کے والدتھے،عاصم بن عمربن قتادہ نے عبداللہ بن ابوذیاب سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،مجھے شکارکابڑاشوق تھا،انہوں نے اپنے حالات بیان کئے،تاآنکہ وہ حضورِاکرم صلیہ علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضرہوئے،جمعہ کادن تھا، اوروہ منبرِرسول کے سامنے آکر بیٹھ گئے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلّم منبر پرکھڑے ہوئے،اور خطبہ دینا شروع کیا،بعدازحمدوثناءفرمایا،میرے منبر کے ساتھ سعدالعشیرہ کاایک آدمی بیٹھا ہے، جواسلام قبول کرنے آیاہے،پیشترازیں نہ اس نے مجھے دیکھا ہے اور نہ میں نے اسے دیکھا ہے،نہ اس نے مجھ سے بات کی ہے نہ میں نے اس سے بات کی ہے،بعدازادائے نمازیہ تمہیں عجیب باتیں سنائے گا،حضور نے نماز پڑھائی اور میں آپ کی باتوں سے ہمہ تن استعجاب تھا۔ بعدازنمازحضورِاکرم نے مجھے فرمایا،اے سعدعشیرہ کے ب۔۔۔
مزید
ابوزیادانصاری رضی اللہ عنہ،ان کے بیٹے زیاد نے ان سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی آیت" اِنَّ المُجرِمِینَ فِی ضَلَالِ وَسعر "پڑھتے سنا،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوذویٔب الہذلی،شاعر تھے اور مسلمان اور حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمعصر تھے،لیکن حضورِ اکرم کی زیارت نصیب نہ ہوئی،اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ جاملی تھے اور اسلامی بھی،ایک روایت کی روسے ان کا نام خویلد بن خالد بن محرث بن روبید بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث تمیم بن سعد بن ہذیل ہے،ابن اسحاق کہتے ہیں،ابوذویٔب شاعر سے مروی ہے،مجھے پتہ چلا کہ حضورِ اکرم بیمار ہیں،توغمر سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے رات کو سویا ،تو رات اتنی طویل تھی،کہ اس کا اندھیرا ختم ہونے کا نام نہیں لیتاتھا،اور نہ صبح طلوع ہوتی تھی،میں رات بھر اس کی طوالت پر غور کرتا رہا،جب صبح ہونے کو آئی تومیں سوگیا،اور میں نے ایک ہاتف کو یہ کہتے سُنا۔ ۱۔خطب اجل اناخ بالاسلام بین النخیل ومعقد الاطام ترجمہ۔اسلام پر جو نخلستا ن اور شہری آبادی کے درمیان واقع ہے ز۔۔۔
مزید
ابوعاکنہ،ابوراشد کے بھائی تھے،اوران کا ذکران کے بھائی کی حدیث میں گزرچکاہے،یہ ابنِ مندہ اورابونعیم کاقول ہے،کہ اس سے زیادہ اورکچھ نہیں کہا گیا،اورانہوں نے کنیتوں میں ابوراشد کا ذکر نہیں کیا،ابوراشد کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے،جن کانام عبدالرحمٰن تھا،اوران کے بھائی کا نام قیوم تھا،جسے آپ نے بدل کر عبدالقیوم بنادیاتھااورکنیت ابوعبید تھی،جسے بگاڑکر ابوعاکنہ بنادیا۔ ۔۔۔
مزید
ابوالعالیہ ایک انصاری سے،ابویاسرنے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے والدسے،انہوں نے یزید سے،انہوں نے ہشام سے،انہوں نے حفصہ دخترِ سیرین سے،انہوں نے ابوالعالیہ سے،انہوں نے ایک انصاری سے روایت کہ وہ اپنی اہلیہ کےساتھ حضورِاکرم کی زیارت کے لئے نکلے،میں ابھی آپ کے پاس ہی کھڑاتھا،کہ آپ کے ساتھ ایک آدمی تھاجوآپ کی طرف متوجہ تھا،میں نے دل میں کہا،شاید ان کاباہم کوئی کام ہے،چنانچہ میں ایک طرف کوبیٹھ گیا،بخدارسول اکرم اتنی دیر تک کھڑے کہ مجھے آپ پررحم آنے لگا،جب وہ صاحب چلے گئے،تومیں نےعرض کی،یارسول اللہ! انہوں نے آپ کواتنی زحمت دی،کہ میرادل آپ کے لئے بے چین ہوگیاتھا،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا،کیاتم سمجھے کہ وہ کون تھے،میں نے کہانہیں یارسول اللہ !آپ نے فرمایا،وہ جبریل تھے،اگرتم سلام کہتے تووہ تمہارے سلام کا جواب دیتے،ابونعیم نے ذکر۔۔۔
مزید