جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابودجانہ رضی اللہ عنہ

ابودجانہ سماک بن خرشہ اور ایک روایت میں سماک بن اوس بن خرشہ بن لوذان بن عبدود بن زید بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج الاکبرانصاری خزرجی ساعدی از قبیلۂ سعد بن عبادہ مذکورہے،یہ دونوں قبیلے طریف پر جمع ہوجاتے ہیں،غزوۂ احد میں انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کا دفاع کیاتھا،ابودجانہ کا شماردلیراوربہادرسپاہیوں میں ہوتاتھا۔ عبیداللہ بن احمدنے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،انہوں نے محمد بن مسلم زہری، عاصم بن قتادہ ،محمد بن یحییٰ بن حبان اور حصین بن عبدالرحمٰن بن عمروبن سعدبن معاذوغیرہ سے روایت کی کہ حضور اکرم نے دوزرہیں پہن رکھی تھیں،فرمایااس تلوارکاحق کون اداکرے گا،کئی آدمی لینے کو اُٹھے،لیکن آپ نے کسی کو نہ دی،آخرابودجانہ اُٹھے اور حضورِاکرم سے پوچھا،یارسول اللہ !تلوارکاکیا حق ہے،آپ نے فرما۔۔۔

مزید

ابوضمضم رضی اللہ عن

ابوضمضم رضی اللہ عنہ غیرمنسوب ہیں،ان سے حسن ابوالحسن اورقتادہ نے روایت کی،کہ ابوضمضم رضی اللہ عنہ نے کہا،اے اللہ میں اپنی آبرو تیرے بندوں پر قربان کرتاہوں،ابن عینیہ نے عمرو بن دینارسے،انہوں نے ابوصالح سے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی،کہ ایک صحابی نے دعامانگی، اے اللہ میں اپنی آبروتیرے بندوں پرقربان کرتاہوں،کیونکہ میرے پاس مال نہیں ہے، کہ جوان تک پہنچ سکے،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،جس شخص کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ ضرور بخشاجائےگاوہ ابوضمضم ہوسکتاہے،اورثابت نے انس سے ایک حدیث روایت کی، آپ نے فرمایا،کیاتم ابوضمضم کی طرح بنناپسندنہیں کرتے،انہوں نے عرض کیا،یارسول اللہ! ان میں کونسی خاص بات ہے،فرمایا،ابوضمضم ہرصبح کودربارِخداوندی میں عرض پرداز ہوتاہے، الھم انی قد تصدقت عرضی علی من ظلمتی ،ابوعمرنے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوضمیمہ رضی اللہ عنہ

ابوضمیمہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفید ہوئے،ان سے حسن بصری نے روایت کی کہ انہوں نے حضورِاکرم سے قِسط کا مفہوم دریافت کیا،آپ نے فرمایا،تولوگوں کے ساتھ انصاف کراوراہلِ عالم پرامن وسلام کو تقسیم کر،ابنِ مندہ اورابونعیم نے ان کاذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوضمیری رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

ابوضمیری مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم ان کا تعلق حمیر کے قبیلے سے تھا،بقول امام بخاری،ان کا نام سعد تھااورآلِ ذی ہزن سے تھے،یہی رائے ابوحاتم کی تھی،لیکن انہوں نے ان کا نام سعید حمیری لکھاہے،ایک روایت میں ان کا نام روح بن سندراورایک روایت میں روح بن شیرزاد ہے،لیکن پہلی روایت درست ہے،حضورِاکرم نے ان کے لئے اوران کے اہلِ بیت کے لئے ایک فرمان لکھ دیاتھا،جس میں مسلمانوں کو ان سے حُسن سلوک کی دعوت دی تھی،وہ حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ بن ابوضمیرہ کے داداتھے،ان کی اولادان کی حدیث کی روای ہے،لیکن اس کا اسناد قابل حجت نہیں۔ حسین بن عبداللہ،حضورِاکرم کایہ فرمان لے کر مہدی عباسی کی خدمت میں حاضرہوا،مہدی نے اس فرمان کو سَرآنکھوں پر رکھا،اورحسین کوتین سو دینار عطاکئے،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوضمرہ بن عیص ازقریش رضی اللہ عنہ

ابوضمرہ بن عیص ازقریش رضی اللہ عنہ:ان کا شمار المستضعفین من الرجال والنساء والولدان میں تھا،جب فرمان میں ان کا ذکرعورتوں اوربچوں کے ساتھ کیاگیا،تووہ دربارِرسالت میں حاضری کے لئے روانہ ہوگئے،اورجب تنعیم کے مقام پر پہنچے تو فوت ہوگئے،اس پر یہ آیت اتری، و من یخرج من بیتہٖ مھاجرا الی اللہ و رسولہٗ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہٗ علی اللہ سعید بن جبیرسےمروی ہے،کہ جس شخص کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ہے،اس کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،ابوضمرہ کے علاوہ اوربھی کئے نام لیے گئے ہیں، اورکنیتوں کے تحت کئی ایک کا ذکرہواہے،مگرنام نہیں لیاگیا،اوراسماء کے تراجم میں ہم نے کسی اورراوی سے ضمرہ بن عیص کا ذکرکیا ہےجونہ ابوضمرہ ہے نہ ابوالعیص ہے،ابوعمراورابوموسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوداؤدانصاری مازنی رضی اللہ عنہ

ابوداؤدانصاری مازنی،ان کے نام میں اختلاف ہے،ایک روایت میں عمرواوردوسری میں عمیربن عامر بن مالک بن خنساء بن مبذول بن عمروبن غنم بن مازن بن نجارانصاری خزرجی ہے،غزوۂ بدر اور احد میں موجودتھے۔ عبداللہ نے باسنادہ تایونس انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدرازبنومازن بن نجار، ابوداؤدعمیر بن عامر بن بالک کا ذکرکیا ہے،جنہوں نے ابوالتجری قرشی کوبدرکےدِن قتل کیا تھا، حالانکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ہدایٔت فرمائی تھی،کہ جو شخص بھی ابوالخری سے مزاحم ہو،وہ اسے قتل نہ کرے،کیونکہ یہ وہ شخص تھا،جس نے قریش کا وہ معاہدہ جس میں بنوہاشم سے مقاطعہ کیا تھا،تلف کردیاتھا،اورجومکے میں حضورِاکرم اور مسلمانوں سے حُسن سلوک سے پیش آتاتھا،ایک روایت میں ہے کہ اس آدمی کے قاتل کانام مجدر بن زیادالبلوی تھا،ایک روایت میں اس کے قاتل کا نا۔۔۔

مزید

ابوفحشی الطائی رضی اللہ عنہ

ابوفحشی الطائی رضی اللہ عنہ:مہاجرین سے ہیں،اورمعرکہ بدر میں موجودتھےاوراپنی کنیت سے مشہورہیں،ان کا نام سویدبن فحشی تھا،ان سے کوئی روایت کروی نہیں،ابنِ اسحاق نے لکھاہے،کہ وہ بنواُمیہ کے حلیف تھےاورغزوۂ بدرمیں شامل تھے،ابوعمراورابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحاطب بن عمرو بن عبدشمس رضی اللہ عنہ

ابوحاطب بن عمرو بن عبدشمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوئی،قرشی،عامری، سہیل بن عمر کے بھائی تھے،مہاجرین حبشہ میں ان کا نمبر پہلاتھا،ابوعمراور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےاور ان دونوں نے اسحاق سے ان کا ذکر کیا ہے،اور یونس بن بکیر نے ابنِ اسحاق سے جن کا ذکر ہے،ان کا نام حاطب ہےاور اسماء میں ہم ان کا ترجمہ لکھ آئے ہیں،زبیر بن بکار اور ہشام بن کلبی نے ان کایہی نام لکھاہے اور ابن ہشام نے بکائی سے،انہوں نے ابن اسحاق سےابوحاطب روایت کیاہے اورسلمہ نے بھی ابنِ اسحاق سے یہی نام روایت کیا ہے،ابوعمر اور ابواسحاق نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحاتم المزنی رضی اللہ عنہ

ابوحاتم المزنی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے،مدنی ہیں،محمد اور سعید نے ان سے روایت کی،عبید نے کئی لوگوں سے،انہوں نے باسنادہم محمد بن عیسیٰ سے،انہوں نے محمد بن عمرو سے،انہوں نے حاتم بن اسماعیل سے،انہوں نے عبداللہ بن مسلم بن ہرمز سے،انہوں نے محمد اور سعید پسران عبید سے،انہوں نے ابوحاتم مزنی سے روایت کی،حضور اکرم نے فرمایا،اگرتم میں کوئی ایساآدمی شامل ہوجائے کہ جس کے دین اوراخلاق کوتم پسند کرتے ہو،تو فوراً اس کا نکاح کردو،اگر ایسانہ کروگے تو فتنہ و فساد کے لئے تیارر ہو۔ امام ترمذی لکھتے ہیں کہ ابو حاتم مزنی کو حضوراکرم کی صحبت نصیب ہوئی،مگر ان سے یہی ایک حدیث مروی ہے،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوحببہ انصاری اوسی بدری رضی اللہ عنہ

ابوحببہ انصاری اوسی بدری،ایک روایت میں بقول ابوعمر ابوحیہ (بہ یا)ایک میں ابو حنہ (بہ نون) آیا ہے،ان کا نام عامر اور ایک روایت میں مالک آیا ہے۔ ابوعمرلکھتے ہیں،کہ واقدی نے ان کا ذکر دومقام پر کیا ہے،چنانچہ انصار سے جہاں انہوں نے بنوثعلبہ بن عمرو بن عوف سے غزوۂ بدر میں شرکاء کا ذکر کیا ہے،وہاں انہوں نے انہیں ابوحنہ(بہ نون) لِکھاہے،اور ایک دوسرے مقام پر انہیں ابوحنہ بن عمرو بن ثابت تحریر کیاہے،اور ان کا نام مالک لکھا ہے،اور دونوں جگہ ان کی کنیت ابوحنہ(بہ نون)لکھی ہے،ان کے بغیر اور لوگوں نے ان کانام ثابت بن نعمان لکھاہے۔ واقدی لکھتے ہیں کہ بدریوں میں کسی شخص کی کنیت ابوحبہ (بہ با) نہ تھی،بلکہ ابوحنہ(بہ نون) تھی اور نام مالک بن عمرو بن کلفہ بن ثعلبہ بن عمرو بن عوف تھا۔ ابوعمرکہتے ہیں،کہ ابراہیم بن سعد ۔۔۔

مزید