جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

فضیلتہ الشیخ حضرت علامہ صالح بلوا

فضیلتہ الشیخ حضرت علامہ صالح بلوا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت فضیلۃ الشیخ علامہ سید یاسین بن احمد بن مصطفی الخیاری

حضرت فضیلۃ الشیخ علامہ سید یاسین بن احمد بن مصطفی الخیاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

شیخ سید عباس بن علوی مالکی

شیخ سید عباس بن علوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ محدث حجاز کے چھوٹے بھائی شاگرد و معاون خاص، خوش الحان۔ اپنے والد گرامی نیز مکہ مکرمہ کے دیگر اکابر علماء کرام سے اخذ ِ علوم کیا۔ علاوہ ازیں مفتی اعظم ہند مولانا مصطفٰی رضا خان بریلوی و مولانا ضیاء الدین مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ قادریہ وغیرہ شرعی علوم میں اجازت و خلافت پائی۔ حجاز مقدس  میں نعت خوانی و نعتیہ محافل کی علامت ، خوب صورت آواز کے باعث محدث حجاز نے آپ کو "بلبل حِجاز" کا خطاب دیا۔ مشہور و مقبول شعراء کی لا تعداد نعتیں اور علماء و اولیاء کے   مناقب حفظ تھیں۔ دلۃ البرکۃ گروپ جدہ کی ملکیت ARTنامی ٹیلے ویژن چینل پر آپ کی پڑھی گئی نعت نشر ہوتی رہتی ہے ،جیسا کہ 1421 ھ کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مناسبت سے نعت دس ربیع الاول کو نشر کی گئی۔ مختلف عرب ممالک بالخصوص مصر، یمن سوڈان نیز انڈ و نیشیا و ہندوستان میں ن۔۔۔

مزید

حضرت شاہ حسن ولی کامل سہروردی لاہوری

حضرت شاہ حسن ولی کامل سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ           آپ کے حالات کی تحقیق کےلیئے بیشمار کتب سے استفا دہ کیا گیا مگر کہیں سے بھی مزید معلومات حاصل نہ ہوسکیں،صرف یہی پتہ ملا کہ آپ کی بیعت سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں تھی مگر اقامت گزین لاہور ہی میں تھے،بیشمار خلق خدانے اس ولی کا مل سے استفا دہ کیا،اس کے علاوہ یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ کس عہد میں آپ وارد لاہور ہوئے یا وصال فرمایا۔           مفتی غلام سرور لاہوری تحریر فرماتے ہیں کہ مکان نہایت متبرک اور پر فیض ہے،مزار پر انوار صحن مسجد بوہڑ والی اندرون موچی دروازہ واقع ہے،نیز مرجع خلائق ہے۔ (لاہور کے اولیائے سہروردیہ)۔۔۔

مزید

حاجی مفتی رحمت اللہ سہروردی لاہوری

حاجی مفتی رحمت اللہ سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ مفتی محمد ایوب سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبز ادے تھے،تعلیم و تربیت انہی کی زیر نگرانی پایہ تکمیل کو پہنچی اور سلسلہ سہروردیہ میں خلافت اپنے والد سے پائی،اپنے زمانہ میں لاہور کے نامور علماء میں شما ر ہوتے تھے، مسجد مفتیاں میں درس حدیث قرآن دیا کرتے تھے،آپ نے سکھوں کی طائف الملو کی کے دو بدترین زمانے دیکھے،ایک زمانہ تو وہ تھا جب کہ سہ حاکمان لاہور کا راج تھا،سکھ رہزن شہر میں دند ناتے پھر رہے تھے،ظلم و ستم کی انتہا تھی،عد ل وانصاف کا نام تک تاریخ لاہور سے مٹ چکا تھااور کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی، نہایت پر آشوب دور تھا، مرکزی حکومت میں کوئی دم نہ تھا، درانی اور ابدالی کے حملوں نے مسلمانوں کو ہی کمزور کردیا تھا، جب یہ حملہ آور آتے تو سیکھ لٹیرے پہا ڑوں کی طرف بھاگ جاتے اور جب وہ ۔۔۔

مزید

خواجہ ایوب قریشی سہروردی لاہوری

خواجہ ایوب قریشی سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ حضرت مفتی محمد نقی کے فرزند ارجمند تھے جن کی وفات لاہور میں ۱۷۳۳ء بمطابق ۱۱۴۶ھ میں ہوئی،آپ نے ساری عمر تجر ید و تفر ید میں گز اری اور اپنی آبائی مسجد مفتیاں میں درس و تدریس دیا کرتے تھے۔آپ اغنیا کی صحبت سے متنفر تھے اور ان کے دروازے پر نہ جایا کرتے تھے،وفات آپ کی ۱۷۱۸ء بمطابق ۱۱۳۱ھ میں بعہد محمد شاہ رنگیلا بادشاہ دہلی ہوئی۔بیعت اپنے والد سے طریقہ سہروردیہ میں تھے،آپ کے والد گرامی کا نام مفتی شیخ کمال الدین خورد تھا جو فقیہ کامل اور فاضل تھے اور سلسلہ سہروردیہ میں شیخ الوقت تھے،وفات آپ کی ۱۶۷۹ء بمطابق ۱۰۹۰ھ میں بعہد اور نگز یب عالمگیر لاہور میں ہوئی،آنجناب بھی اپنی آبا ئی مسجد مفتیاں میں درس قرآن و حدیث دیا کرتے تھے۔           آپ ۔۔۔

مزید

شاہ رحمت للہ قریشی سہروردی لاہوری

شاہ رحمت للہ قریشی سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           معتبر کتب تواریخ میں مرقوم ہے کہ  آپ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کی  اولا د میں سے تھے اور اپنے زمانے کے کامل ولی تھے۔،ساری عمر لاہور ہی میں اس سلسلہ کی نشر و اشاعت میں گز ری ،نیز رشد و ہدایت اور تعلیم و تلقین کی طرف خاصی توجہ فرماتے تھے ہزار افراد کو راہ ہدایت پر لائے اور کثرت سے لوگ آپ کے حلقہ ارادت میں آئے،صاحب،حدیقتہالاولیاء،لکھتے ہیں کہ آپ ملتان سےلاہور تشریف لائے،ساری عمر زہد و ریا ضت اور عبادت میں گزاری،صاحب کشف و کرامات تھے اور بیشمار لوگ آپ کی معتقدن میں شامل تھے۔           آپ عہد عالمگیر میں ایک کامل بزرگ گزرے ہیں،بیشمار مرید آپ کے حلقہ ارادت میں تھے جو آپ کی خدمت میں رہتے تھے اور آپ کے نص۔۔۔

مزید

سید فضل شاہ سہروردی لاہوری

سید فضل شاہ سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ لاہور کے رہنے والے تھے،ابتدائی عمرسے مذہب کا طرف لگاؤ زیادہ تھاا ور کسی ولی کامل کی تلاش میں رہتے تھے،ایک دن آپ موضع اٹاریبھارت کی مسجد میں نماز کےلیئے تشریف لےگئے تو وہاں پیر قلند ر شاہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات اور رجحا نات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان  سے بیعت کرلی اور ریا ضت و مجا ہد ہ میں مصروف ہوگئے۔           آپ کے پیرو مرشد قلندر شاہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ کے ہاں ساندہ از مضافات لاہور میں تشریف لے جایا کرتے  تھے جہاں آپ کا گھر تھا اور اکثر و بیشتر جاتے رہتے تھے،ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کے ہاں پیر قلندر شاہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے پانچ چھ مریدوں کے ساتھ تشریف لائے  تو آپ نے ان کی دعوت کا ۔۔۔

مزید

سید ہاشم علی شاہ سہروردی لاہوری

سید ہاشم علی شاہ سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ موضع رتڑ چھڑ  مکان شریف نزد ڈیرہ بابا  نانک ضلع گورد اسپور بھارت کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے،پیر و مرشد کی تلاش میں لاہور تشریف لائے اور یہاں آپ نے قلندر شاہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ سے خلافت حاصل کی۔           آپ سید امام علی شاہ نقشبند ی رحمتہ اللہ علیہ مکان شریف کی اولاد میں سے تھے،پیر فرح بخش فرحت،اذکار قلندری،میں لکھتے ہیں:           آں صاحب ہمت ارشاد فیض آثار پیرو مرشد خود را سعادت ابدی و سرمدی تصو رید عرصہ دونیم سال برکنا ر دریا ر متصل کوٹ خواجہ سعید و منتاں تنہا نشتہ در عبادت خدا متوکلانہ مشغو ل گشت و مدرسہ روز بے طعام بہ استقلا ل تمام سے گز ر انید و توکل رازدست نمے داد۔۔۔

مزید

پیر سکندر شاہ سہروردی لاہوری

پیر سکندر شاہ سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ کے والد کا اسم گرامی کریم شاہ رحمتہ اللہ علیہ تھااور پیر قلندر شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے چھو ٹے بھائی تھے سلسلہ نسب اس طرح ہے،شیخ سکندر بن شیخ کرم شاہ بن شیخ ابو الفتح بن شیخ ابوالحسن ثانی بن شیخ فخر الدین بن شیخ ابوا لفتح بن بر خو ردار بن شیخ ابو لفتح بن شیخ عبدالجلیل چوہڑ بندگی قطب عالم لاہوری رحمتہ اللہ علیہ آپ کی پیدائش لاہور میں ہوئی، شیخ سکندر شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ عالیہ سہروردیہ میں بیعت اپنے والد شیخ کرم شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے کی تھی،آپ کی صاحب حال و قال بزرگ تھے۔             پیر کرم شاہ کی رہائش لاہور میں گز ر چوک مانک متصل کھاری کھوئی میں رہی جواب اند رون بھاٹی دروازہ بازار حکیماں اور چو مالہ کے درمیان واقع ہے۔ شاعری  ۔۔۔

مزید