حضرت سیدنا عبد اللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سب سےبڑے بیٹے ہیں، قدیم الاسلام اور صحابیٔ رسول بھی ہیں۔ مکہ،حنین اور طائف کی فتوحات میں سرکارِدو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ ہجرت نبوی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کی دن بھر کی خبریں رات کو غار ثور پہنچاتے تھےغار میں رات گزار کر صبح ہی صبح اندھیرے میں مکہ آجاتے۔ سفر ہجرت کا رہبر عبد اللہ بن اریقط جب نبی اکرم نور مجسم صلی تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عیال صدیقی کو لے کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور اپنے والد حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے دور خلافت میں دنیائے فانی سے دار آخرت تشریف لے گئے۔غزوہ طائف میں ایک تیر لگنے سے زخمی ہوئے جسے اَبُو محجَنْ ثَقْفِی نے چلایا تھا۔ وہ زخم ٹھیک ہوگیا لیکن بعد میں پھر ہرا ہوگیا اسی سبب سے آپ کی ۔۔۔
مزید
آپ شیخ علی متقی کے پیر شیخ باجن کے مُرشِد تھے۔ فقر و توکل میں اُونچا مقام رکھتے تھے جب رات ہوتی تو ضرورت سے زیادہ جو چیز گھر میں ہوتی وہ سب پڑوسیوں پر تقسیم کرتے یہاں تک کہ وضو کا پانی بھی صرف اتنا ہی رہنے دیتے جو نماز تہجد کے وقت طہارت کے لیے ضروری ہوتا، مالداروں کو اپنی مجلس میں جگہ نہ دیتے تھے۔ ایک دن کسی رئیس نے آپ کے کسی صاحبزادے سے یہ خواہش کی کہ شیخ کی زیارت کرنے کا شوق ہے انہوں نے کہا شوق سے آئیےلیکن شرط یہ ہے کہ جوتوں کے پاس دوسرے فقیروں کے ساتھ آپ بیٹھیں، چنانچہ بعد نماز مغرب جب وہ رئیس آپ کے مکان پر پہنچا، تو دیکھا گھر میں اندھیرا پڑا ہے اس دن آپ کے پاس اتنا نہ تھا کہ چراغ کا تیل منگواتے، چنانچہ اس رئیس نے آپ کے صاحبزادے سے کہا، میں تیل کے کُپے بھجواتا ہوں خرچ کیجیے اور جب ختم ہوجائے مطلع فرمائیے گا اور بھیج دوں گا، دوسرے دن شیخ نے دیکھا کہ گھر میں خوب چراغ روشن ہیں، پوچھا یہ کہ۔۔۔
مزید