خواجہ عبید اللہ المعروف خواجہ کلاں علیہ الرحمہ حضرت خواجہ باقی باللہ کے بڑے صاحبزادے خواجہ عبید اللہ جو خواجہ کلاں کے عرف سے مشہور ہیں ، یکم ربیع الاول ۱۰۱۰ھ کو عصر کے وقت پیدا ہوئے، ابھی وہ دو سال کے بھی نہیں ہوئے تھےکہ خواجہ صاحب کا وصال ہو گیا لہٰذا خواجہ حسام الدین نے ان کی پرورش کی، ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ شیخ اللہ داد نے انھیں طریقہ نقشبندیہ کے شغل سے بھی بہرہ ور کیا۔ اعلیٰ تعلیم وتربیت حاصل کرنے کے بعد خواجہ عبید اللہ کو حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ جہاں انھوں نے روحانی فیض حاصل کیا اور حضرت مجدد صاحب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے انھیں تمام باطنی امور سے آگاہ کیا۔ اس طرح وہ اپنے والد بزرگوار کے خلف الرشید ثابت ہوئے اور علوم ظاہری وباطنی دونوں میں کامل ہو گئے۔ آپ عربی اورفارسی دونوں زبانوں میں فصیح وبلیغ ان۔۔۔
مزید
شیخ بھورو رحمۃ اللہ علیہ آپ شیخ عبدالقدوس علیہ الرحمہ کے مریدوخلیفہ تھے۔شیخ بھورو ابتداءً رنگریزی کا پیشہ کرتے تھے، پہلے وہ ہندو تھے، پھر آپ کے دست فیض رس پر مسلمان ہوکر اپنا پیشہ چھوڑ دیا اور یاد الٰہی میں مصروف ہوکر بلند پایہ کے بزرگ بن گئےاور لوگوں کے قلوب کو اللہ تعالیٰ کے رنگ صبغۃ اللہ سے رنگنے لگے۔ آپ کی982ھ میں وفات ہوئی۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید
شیخ عمردینی رحمۃ اللہ علیہ شیخ عبدالقدوس کے ایک مرید شیخ عمردینی بھی تھے وہ اگرچہ آپ کے خلیفہ تھے لیکن ان کا قلبی رحجان زیادہ تر شیخ عبدالرزاق کی طرف تھا۔ شیخ عبدالرزاق ایک دن شیخ عبدالقدوس سے ملنے کی غرض سے آپ کے پاس آئے اس وقت آپ پر ایک خاص قسم کی حالت طاری تھی، جب ہوش میں آئے تو اپنے تمام مریدوں کو شیخ عبدالرزاق سے ملایا اور شیخ عمردینی کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایاکہ یہ آپ کا مرید اور آپ کی نظر شفقت کا متمنی ہے اس کے بعد شیخ عمردینی اُٹھے اور شیخ عبدالرزاق کی غایت درجہ تعظیم و تکریم کی۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔
مزید