بدھ , 26 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 13 May,2026

پسنديدہ شخصيات

شمس الدین محمد ابن شحنہ

          شمس الدین ابو الفضل محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمود بن غازی ثقفی حلبی المعروف بہ ابن شحنہ صغیر: فقیہ،محدث،اصولی،مؤرخ،ادیب،ناظم اور ناثر تھے۔۱۲؍رجب ۸۰۴؁ھ کو پیدا ہوئے حلب کے رؤسا میں سے تھے۔۸۳۶؁ھ میں حلب کے قاضی مقرر ہوئے،پھر مصر منتقل ہوگئے اور وہاں کاتب السر کے عہدے پر کام کرتے رہے،آخر عمر میں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا،فالج ہوگیا جس کی وجہ سے ذہن پر بھی اثر پڑا۔محرم ۸۹۰؁ھ میں وفات پائی۔           آپ کی تصانیف میں سے طبقات الحنفیہ،نزہۃ النواظر فی روض المناظر (تاریخ میں اپنے والد کی تاریخ کی شرح)نہایۃ النہایہ فی شرح ہدایہ،تنویر المنار (اصول فقہ میں)،المتجد المغیث(حدیث میں)اور ترتیب مہمات ابن بشکوال علیٰ اسماء صحابہ،مشہور ہیں۔(ان کے والد قاضی محب الدین ابو الولید محمد ابن شحنہ متوفی ۔۔۔

مزید

حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی

حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میر سید علی ہمدانی: ہمدان میں دو شنبہ کے روز ۱۲؍رجب ۷۱۴؁ھ میں پیدا ہوئے۔مخزن علوم ظاہری،مظہر تجلیات ربانی،عالمِ عامل،عارف کامل،صاحبِ کرامات و خوارق عادات تھے،علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا کہ ایک سو ستّرسےزیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مجمع الاحادیث،شرح اسماء الحسنیٰ،ذخیرۃ الملوک،شرح فصوص الحکم،مراۃ التائبین،شرح قصیدہ حمزیہ و فارضیہ،آداب المریدین،اور دس قواعد اشہر ہیں۔۷۸۰؁ھ میں مع سات سور فقاء وسادات کے ہمدان سے کاشمیر میں تشریف لائے اور محلہ علاء الدین پورہ میں جہاں اب آپ کی خانقاہ فیض پناہ ہے،جلوہ افروز ہوئے۔بادشاہ کمال خشوع و خضوع سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اسلام نے جو بلبل شاہ کے وقت سے کاشمیر میں رواج پکڑنا شروع کیا تھا آپ کے وقت میں رونق بے اندازہ حاصل کی،اسی لیے آپ کو بانی مبانی اسلام کہتے ہیں کہ ایک شاعر نے کہا ہے۔۔۔

مزید

حضرت علامہ علی بن ابی بکر مرغیانی

حضرت علامہ علی بن ابی بکر مرغیانی (صاحبِ ہدایہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا مظہر حسن رضوی بدایونی

مھتمم مدرسۃ قاسمیہ برکاتیہ محلہ ناگران بدایوں ولادت مجاہد سنیت صوفی باصفا حضرت مولانا مظہر حسن قادری رضوی ۷؍ رجب المرجب ۱۳۵۵ھ کو کمالی حویلی محلہ ناگران بدایوں شریف میں پیدا ہوئے اور والدین کریمین نے پرورش فرمائی۔ مولانا مظہر حسن شیخ انصاری برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ تادمِ تحریر یہیں پر مولانا قیام پذیر ہیں۔ خاندانی حالات حضرت مولانا مظہر حسن کے والد ماجد ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسا خاندان جس میں ایک ہی وقت میں متعدد حافظ قرآن دیکھنے میں آئے۔ آپ کے جد اعلیٰ خود قرآن پاک کے بہترین حافظ تھے۔ اسی وجہ مولانا مظہر حسن کے والد ماجد عہد طفلی سے ہی صوم و صلوٰۃ کے پابند وردینی کتب کے شائق، تبلیغ فی سبیل اللہ میں مشغول و منہمک رہتے تھے۔ تقویٰ وطہارت اس حد تک تھا کہ اخیر عمر تک اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین اور منکرات سے اجتناب کی تنبیہہ فرماتے رہے۔ اور خود بھی تاوقت اجل اپنی نماز ک۔۔۔

مزید

ابوامیہ مخزومی حجازی رضی اللہ عنہ

ابوامیہ مخزومی حجازی رضی اللہ عنہ ابوامیہ مخزومی حجازی،یحییٰ بن محمود نے کتابتہً باسنادہ ابوبکر بن عاصم سے،انہوں نے ہدیہ بن خالد سے،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے،انہوں نے ابوالمنذر مولیٰ ابوذر سے،انہوں نے ابوامیہ مخزومی سے روایت کی کہ حضورِاکرم کی خدمت میں ایک چورلایا گیا،اس نے چوری کا اعتراف کیا،لیکن اس کے پاس مال مسروقہ نہ تھا،حضورِ اکرم نے فرمایا،میرا خیال ہے،تونے چوری نہیں کی،اس نےکہا،یارسول اللہ میں نے یہ جرم دو تین بار کیا ہے،فرمایالے جاؤ،اور اس کا ہاتھ کاٹ دو،اور اجرائے حد کے بعد پھر اسے میرے پاس لانا،قطع ید کے بعد اسے واپس لائے،تو آپ نے فرمایا،اللہ سے اپنے جرم کی معافی مانگ اور توبہ کر،جب وہ تعمیل ارشاد کرچکا، توحضورِ اکرم نے دعا فرمائی،اے خدا تو اس کا جرم معاف فرمادے۔ اس حدیث کو عمروبن عاصم نے ہمام سے انہوں نے اسحاق بن عبداللہ سے،انہوں نے ابوامی۔۔۔

مزید

ابوالاسود بن یزید رضی اللہ عنہ

ابوالاسود بن یزید رضی اللہ عنہ ابوالاسود بن یزید بن معدیکرب بن سلمہ بن مالک بن حارث بن معاویہ بن حارث الاکبر بن معاویہ بن ثور بن مرتع الکندی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے،معززآدمی تھے،یہ طبری کا قول ہے ابن کلبی نے الجمہرہ میں ان کا ذکر کیا ہے،اور ابوعلی غسانی سے استیعاب میں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر ۱۰۔۱۱)۔۔۔

مزید