منگل , 25 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 12 May,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت مولانا حق نواز صابری صاحب

حضرت مولانا حق نواز صابری صاحب علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا قاضی جلیل احمد یٰسینی صاحب

حضرت مولانا قاضی جلیل احمد یٰسینی صاحب علیہ الرحمہ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن اسود بن خلف رضی اللہ عنہ

بن اسعد بن بیاضہ ب بسیع بن خلف بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعۃ الخزاعی اور وہ طلحہ الطلحات بن عبد اللہ بن خلف کا عمزاد تھا۔ اس کا نسب شباب العصفری بن خیاط نے بیان کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی کہ ہر اونٹ کے کوہان پر شیطان ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے یہی روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۸)۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن اسماعیل الانصاری رضی اللہ عنہ

  محمّد بن ابی حمید نے محمد بن المنکدر سے اس نے محمّد بن انصاری سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ابن مندہ کا قول ہے کہ اسے اسماعیل بن ثابت بن قیس بن شماس نے دیکھا ابو نعیم کا قول ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ کیونکہ اسماعیل کا ثابت کی اولاد ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ اصل میں محمّد بن ثابت ہے اور اسماعیل اور یاسف اس کے بیٹے تھے اور ابع نعیم نے محمٓد بن ابی حمید سے اس نے اسماعیل انصاری سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے سُنا، ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: یا رسول اللہ! مجھے مختصر سی نصیحت فرمائیے حضور نے فرمایا، جو کچھ لوگوں کے پاس دیکھے، اس سے اپنی توقعات منقتع کرلے اور طمع کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یہ دائمی فقر ہے۔ بہ قولِ ابو نعیم اس اسماعیل سے مراد اسماعیل بن مح۔۔۔

مزید

سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ

بن عامر بن مجمع بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی پھر بنی عمرو بن عوف یہ مدنی تھے اور ان کا باپ ان لوگوں میں شامل تھا۔ جنہوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ مجمع نوجوان تھا۔ جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جمع قرآن کے کام میں حصّہ لیا تھا مگر ان کا والد منافق تھا اور مجمع مسجد ضرار میں امامت کرتے تھے بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسجد کو جلوا دیا تھا۔ جب حضرت عمر خلیفہ ہوئے، کسی نے خلیفہ سے درخواست کی کہ جنابِ مجمع کو مسجد میں امامت کی اجازت دی جائے۔ حضرت عمر نے انکار کردیا، کیونکہ وہ مسجد ضرار میں امامت کر چکے تھے۔ جناب مجمع نے قسم کھائی کہ انہیں اس قضیہ کی ہوا تک نہ لگی تھی۔ چنانچہ اجازت مل گئی۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن سوائے ایک آدھ سورت کے جمع کر رکھا۔۔۔

مزید