ابن احیحہ بن جلاح۔انصاری۔اسی نسب کو ہم بیان کرچکے ہیں۔ان کاتذکرہ ابن ابی حاتم نے ان لوگوں میں لکھاہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے انھوں نے خزیمہ بن ثابت سے بھی روایت کی ہے ان سے عبداللہ بن علی بن سائب نے روایت کی ہے ابوعمرنے کہاہے کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی اس لیے کہ عمروبن احیحہ اخیانی بھائی ہیں عبدالمطلب بن ہاشم کے کیوں کہ ہاشم بن عبدمناف کے نکاح میں سلمی بنت زید تھیں جوقبیلۂ بنی عدی بن نجار سے تھیں جب ہاشم کاانتقال ہواتوسلمیٰ سے احیحہ بن جلاح نے نکاح کیاان سے عمروبن احیحہ پیداہوئے لہذایہ عمروبن احیحہ عبدالمطلب کے اخیانی بھائی ہوئے پس یہ امرقرین قیاس نہیں ہے کہ جوشخص حضرت کے دادا کا معاصر ہووہ آپ سے یاحضرت خزیمہ سے روایت کرے ممکن ہےکہ یہ شخص عمروبن احیحہ کے بیٹے ہوں اوران کانام بھی عمروہواوراپنے داداکی طرف منسوب کردئے گئے ہوں ورنہ ابن ابی حاتم نے جو کچھ ل۔۔۔
مزید
ابن مالک انصاری مصرمیں رہتےتھے۔ان کا ذکر طبرانی وغیرہ نے کیاہے ہمیں ابوموسیٰ نے کتابتہً خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوزیدغانم بن علی اورعبدالکریم بن علی اورابوبکرمحمد بن احمد صغیر اورابوبکر محمد بن ابی القاسم قرافی اورابوغالب احمد بن عباس نے خبردی یہ سب لوگ کہتےتھے ہمیں ابوبکر بن زیدہ نے خبردی ابوموسیٰ نے لکھاہے کہ ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ دونوں کہتےتھےہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بکربن سہل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعیب بن یحییٰ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابن لہیعہ نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے لہیعہ بن عقبہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے عمربن مالک انصاری کویہ کہتےسناکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے لوگومیں تمھیں تین باتوں کاحکم دیتاہوں اورتین باتوں سے منع کرتاہوں میں حکم دیتاہوں کہ اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرواورسب مل کر ۔۔۔
مزید
مولانا قاضی صوفی حمید الدین صدّیقی خجندی علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید