پیر , 24 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 11 May,2026

پسنديدہ شخصيات

ابو اسحاق خواص

حضرت ابو اسحاق خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی کنیت ابواسحاق تھی۔ بغداد کے رہنے والے تھے ہمیشہ جذب و صحو اور سکر کی کیفیت میں رہتے تھے، خاصان درگاہ الٰہی میں بلند مقام پر تھے۔ سیّد جنید بغدادی اور حضرت ابوالحسن نوری کے معاصرین اور احباب میں سے تھے۔ حضرت خضر سے بھی زیارت اور صحبت کا شرف حاصل تھا۔ شیخ ممشاد دینوری﷫ فرماتے ہیں، ایک بار میں مسجد میں نیم خوابی کی حالت میں تھا، مجھے آواز آئی، اگر میرے دوستوں میں سے ایک دوست کی زیارت کرنا چاہتے ہو تو ابھی اٹھو اور تل توبہ پر جاؤ، میں اٹھا راستے میں برف باری اور طوفان تھا، میں وہاں پہنچا تو ابراہیم خواص﷫ کو دیکھا، آپ برف میں چار زانو بیٹھے ہوئے ہیں، اس برفانی فضا اور ٹھنڈک کے باوجود پسینے سے شرابور ہیں، برف آپ کے سر پر پڑتی فوراً پگل کر زمین پر بہہ جاتی تھی، میں آپ کو دیکھ کر بڑا دل خوش ہوا، میں نے پوچھا، آپ کو یہ رتبہ کیسے ملا، فرمایا: فقراء ک۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سید میراں حسین زنجانی

حضرت شیخ سید میراں حسین زنجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ لاہور کے قدیم علماء صوفیاء میں سے تھے ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے صاحب سیاحت کرامت اور خوارق تھے آپ کو خاندانِ عالیہ جنیدیہ سے خلافت ملی تھی آپ حضرت یعقوب زنجانی﷫ کے ہمراہ زنجان سے لاہور آئے تھے بے پناہ لوگ آپ کے حلقۂ ارادت میں جمع ہوئے آپ کی وفات ۶۰۰ھ میں ہوئی[۱]۔ [۱۔سابقہ صفحات میں فاضل مولٔف نے حضرت مخدوم سید علی الہجویری لاہوری قدس سرہٗ کے حالات میں فوائد الفواد کی ایک روایت نقل کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ جس دن حضرت داتا گنج بخش ہجویری وارد لاہور ہوئے حضرت حسین زنجانی کا جنازہ دروازے سے باہر آرہا تھا۔ اور حضرت سید علی ہجویری نے آپ کو خود دفنایا تھا پھر ساتھ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت علی ہجویری﷫ کئی سال لاہور میں قیام کرنے کے بعد ۴۶۴ھ میں فوت ہوئے دوسری طرف حضرت شیخ حسین زنجانی﷫ کا وصال ۶۰۰ھ لکھا جا رہا ہے یہ روایت کہاں تک درست ہے؟۔۔۔

مزید

حضرت محی الدین بن احمد

حضرت محی الدین بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

مولانا فیض الحسن سہارنپوری

مولانا فیض الحسن سہارنپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت قاضی القضاۃ احمد بن مدار

حضرت قاضی القضاۃ احمد بن مدار (حیدرآباد سندھ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نظیر

حضرت شیخ نظیر (اکبر آباد آگرہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شیخ احمد فیض نفس

حضرت شاہ شیخ احمد فیض نفس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام حبیبہ( رضی اللہ عنہا)

ام حبیبہ جہنیہ،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،بقول ابوعمر میں خولہ دختر قیس نام تھا،اور بعض نے کچھ اور بتایا ہے،یہ خاتون خارجہ بن حارثہ بن رافع بن مکیث کی دادی تھیں،ا ن کی حدیث کے راوی اہل مدینہ ہیںیحییٰ بن محمود نے باسنادہ اذناً ابوبکر بن عمرو سے،انہوں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے،انہوں نے اسامہ بن زید سے،انہوں نے نعمان بن خربوذ سے،انہوں نے ام حبیبہ سے روایت کی،کہ انہوں نے حضورِاکرم کے ساتھ پانی کے ایک برتن سے وضوکیا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی سند میں خولہ دختر قیس کے ترجمے میں لکھا ہے،کہ وہ جناب حمزہ کی زوجہ تھیں،اور ان سے اَلدُنیَاخِضرَۃً حَلوَۃٌ مروی ہے،اور ام حبیبہ جہنیہ کا ترجمہ علیحد تحریر کیا ہے، اور ان سے فرضو والی حدیث روایت کی ہے،اور یہ ان کا معمول ہے کہ وہ ایک ہی حدیث کو دودوتین تین بلکہ اس سے بھی زیادہ تراجم میں ذکر کرتے رہتے ہ۔۔۔

مزید

حضرت ام المؤمنین سیدہ صفیہ

حضرت ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حییّ بن اخطب بنی اسرائیل سے حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہیں۔(المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی،الفصل الثالث،ذکر ازواجہ الطاہرات...الخ،ج۱، ص۴۱۲) نکاح مع سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم:ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی خیبر کے قیدیوں میں تھيں۔ حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان کو اپنے لئے منتخب کرلیا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آئیں لوگوں نے کہا وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔حسینہ جمیلہ ہونے کے علاوہ قبیلہ کے سردار کی بیٹی بھی ہیں لہٰذا مناسب یہی ہے، کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ مخصوص کی جائیں۔ مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فر۔۔۔

مزید

حضرت ام المؤمنین سیدہ سودہ

حضرت ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی کنیت ام الاسود تھی، والد کا نام زمعہ بن قیس بن عبد الشمس بن عبدودّ بن نضر بن مالک بن حَسل بن عامر بن لُوی بن غالب تھا، اور والدہ کا نام سموس بنت قیس بن عمرو بن زید بن بسید بن خداش تھا، اِن کا پہلا نکاح سکران بن عمرو سے ہَوا، اس سے ایک لڑکا عبد الرّحمٰن نام پیدا ہوا، سکران کی وفات کے بعد رمضان ۱۰ نبوی میں حضور علیہ الصّلوٰہ والسّلام کے نکاح میں آئیں، سخاوت و فیاضی و اطاعتِ نبوی میں تمام ازواج سے ممتاز تھیں، اِن سے کتب حدیث میں پانچ حدیثیں مروی ہیں، اِن کی وفات ۲۲ھ میں ہوئی، مدینہ طیبہ کے گورستان جنّت البقیع میں مدفون ہوئیں۔ (شریف التواریخ) آپ کا اسم گرامی ام الاسود تھا، والد کا نام زمعہ بن قیس بن عبد الشمس تھا، آپ کا نسب نامہ لویٰ تک پہنچ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے جا ملتا ہے والدہ کا نام بنت قیس بن عمرو تھا، آپ بعثت کے ۔۔۔

مزید