ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سائیں نانگاہلی والے

  آپ کا مزار دربار بری امام رحمۃ اللہ علیہ بالکل سامنے متصل  اڈہ نورپور شاہاں میں مرجع خاص و عام بنا ہوا ہے آپ  کئی سال جنگوں میں چلّہ کشی کرتے رہے۔           آپ کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں در بار بری امام میں بے سدوبے ہوش پڑے رہتے جب ریاضت ختم ہوئی تو نور شاہاں میں ہی قیام پذیر ہوئے آپ اپنی زندگی می بلانغہ گیارہویں شریف کا اہتمام فرماتے رہے چنانچہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے آُ کا جب انتقال ہوا تو آپ کے عقیدت مندوں کے جذبہ شوق کا یہ عالم تھا کہ چالیس دنوں میں بری امام کے روضے کی طرح ان کا ہوا بہو روضہ تیارر کردیا۔ (فیضانِ امام برّی)۔۔۔

مزید

سائیش نانگا پنڈوری والے

  آپ کا نام مین جتی تھا اور سائیس نانگا کے نامم سے مشہور ہوئے آپ دربار یری امم سے مستعفید ہوئے۔ آپ کا مزار پنڈوری شریف میں ہے جہاں ہر سال بڑے تزک و احتشام کے شاعر عرس ہوتا تھا ۔ آپ کے مریدین کی خاصی تعداد  راولپنڈی میں ہے۔ (فیضانِ امام برّی)۔۔۔

مزید

سیدنا) انس (رضی اللہ عنہ)

  ابن قتادہ بن ربیعہ بن مطرف۔ یہ ان کا لقب ہے اور نام ان کا خالد بن حارث بن زید بن عبید بن زید مناہ بن مالک بن عوف ابن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری اوسی عبید بن زید بن مالک کی اولاد سے ہیں ان کا ذکر انیس بن قتادہ کے بیان میں بھی آئے گا۔ موسی بن عقبہ اور زہری نے کہا ہے کہ جنگ بدر میں قبیلہ انصار سے پھر بنی عبید بن زید سے انس بن قتادہ شریک ہوئے تھے ور ان کے علاوہ اور لوگوں نے کہا ہے کہ ان ک نام انیس ابن قتادہ ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ جس شخص نے ان کا نام انس بتایا ہے وہ کچھ نہیں ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے انس اور انیس دونوں کے بیان میںلکھا ہے اور ابو عمر نے صرف انیس کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگوں نے ان کو انس بھی لکھا ہے اور سی کو یونس بن بکیر وغیرہ نے ابن اسحاق سے روایت کیا۔ واللہ اعلم (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

حضرت مولیٰ کافیجی

حضرت مولیٰ کافیجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ شیخ فریدالدین عطار

حضرت خواجہ شیخ فریدالدین عطار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ موضع کدکن کے رہنے والے تھے۔ یہ گاؤں نیشا پور کے نزدیک تھا۔ آپ نے شیخ مجددالدین بغدادی سے بیعت کی۔ شیخ رکن الدین اکاف﷫ کے ہاتھ پر توبہ کی اور وقت کے مشہور مشائخ اور بزرگان دین کی صحبت میں بیٹھتے بڑے صاحب وجد و تواجد بزرگ تھے سماع سے شغف رکھتے تھے۔ بعض صوفیاء لکھتے ہیں کہ آپ حسین بن منصور کے اویسی تھے حضرت مولانا جلال الدین رومی لکھتے ہیں کہ حضرت حسین منصور حلّاج کی روح نے ڈیڑھ سو سال بعد حضرت عطار پر اثر کیا تھا اس طرح حضرت عطار آپ کے زیر اثر آئے حضرت مولانا حاجی نفحات الانس میں تحریر فرماتے ہیں کہ توحید و اسرار کے جتنے معارف حضرت فریدالدین عطار﷫ کی مثنویوں اور غزلیات میں پائے جاتے ہیں کسی دوسرے صوفی شاعر کے ہاں نہیں ملتے آپ کی مشہور کتابیں پندنامہ تذکرۃ الاولیاء۔ الٰہی نامہ۔ شتر نامہ۔ منطق الطّیر وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ مولانا جلال الدین ۔۔۔

مزید