بن ہلال بن رباب بن عبیدبن ساریہ بن ذیبان بھی ثعلبہ بن سلیم بن اوس بن عمرومزنی۔ یہ داداہیں ایاس بن معاویہ بن قرہ کے جوبصرہ کے قاضی تھےاوربڑے ذہین مشہورتھے۔یہ قرہ بصرہ میں رہتےتھے ستعہ نے ابوایاس یعنی معاویہ بن قرہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میرے والد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آئےاس وقت وہ کمسن بچے تھےتوحضرت نے ان کے سرپرہاتھ پھیرااوران کے لیے استغفار کیاشعبہ کہتےتھے میں نے ان سے پوچھا کہ وہ صحابی تھے انھوں نے کہانہیں وہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں؟ہم سے ابوداؤدنےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے معاویہ بن فرہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس وقت اہل شام میں خرابی آجائے اس وقت تم میں خیریت رہے گی میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ فتحیاب رہےگاجو شخص ان کی مخالفت کرے گاان کو کچھ ضرر نہ پہنچاسکے۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن عمروبن کعب بن اطنابہ۔انصاری خزرجی۔یہ ابوعمرکاقول ہے۔اورابونعیم نے کہاہے کہ (ان کا نسب اس طرح ہے)قرظہ بن کعب بن عمروبن عامر بن زید مناہ بن مالک بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج بن کلبی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے۔ان کی والدہ جندبہ بن ثابت بن سنان تھیں اوران کے اخیانی بھائی عبداللہ بن ایاس تھے۔یہ قرظی غزوہ احد میں اوراس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک تھے۔یہ انصارکے ان دس آدمیوں میں تھے جن کو حضرت عمرنے عماربن یاسرکے ہمراہ کوفہ بھیجاتھا۔بہت بزرگ آدمی تھےانھوں نے ۲۳ھ ہجری میں بعہدخلافت حضرت عمررے کوفتح کیاتھااورحضرت علی نے ان کو کوفہ کاحاکم بنایاجب کہ وہ جنگ جمل کے لیے جانے لگے اورجب صفین کےلیے جانے لگےتوان کو اپنے ہمراہ لے لیاتھااورابومسعود بدری کوکوفہ کاحاکم بنادیاتھا۔زکریابن ابی زائدہ نے ابواسحاق سے انھوں نے عامر بن سعد سے روایت کی ہے کہ وہ کہ۔۔۔
مزید
۔قاضی ابواحمد بن عسال نے ان کاذکرکیاہے۔قدامہ بن عائذ بن قرط نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداقرط بن ربیعہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرکیاتومیں نے کہاکہ آپ کا حلیہ شریف مجھ سے بیان کیجیےانھوں نے کہامیں نے دیکھاکہ آپ کے دندان مبارک روشن تھے۔حضرت نے ان کوحضرموت میں کچھ زمین دی تھی۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
شیخ ابو عبد اللہ احمد بن یحییٰ بغدادی رحمۃ اللہ علیہ آپ مشائخ صوفیاء کے امام اور سردار ہیں۔ بغداد سے شام منتقل ہوگئے تھے اور پھر وہیں رہائش پذیر ہو گئے۔ حافظ ابو نعیم فرماتے ہیں! ابو عبد اللہ احمد بن یحیٰی بغدادی رملہ میں رہائش رکھتے تھے حضرت ذوالنون اور ابو تراب علیہما الرحمہ کے مصاحبین میں سے تھے اور آپ کے والد شیخ یحییٰ رحمہ اللہ علیہ آئمہ کبار میں سے تھے۔ اور آپ بہت ہی لطیف نکات بیان کرتے تھے ۔ عبد العزیز بن علی الوراق فرماتے ہیں ! میں نے سنا علی بن عبد اللہ بن حسن ھمدانی سےوہ فرماتے ہیں میں نے محمد بن داؤد سے سناآپ فرماتے تھے ! میری آنکھوں نے آپ جیسا عراق ،حجاز ، کوہستان اور شام میں نہیں دیکھا ۔ محمد بن حسین نیشاپوری نے فرمایا!دنیا میں صوفیا کے صرف تین آئمہ ہوئے ہیں ۔ ۱۔ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ نیشاپور میں ۔ ۲۔اور جنیدرحمۃ اللہ علیہ بغداد میں ۔ ۳۔اور ابوعبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔
مزید
۔جریربن عبدالحمید ازدی کے دادا ہیں۔محمد بن قدامہ نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم سے جریربن عبدالحمیدنے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے اپنے والدعبداللہ بن قرط سے انھوں نے ان کے داداقرط بن جریرسے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایایااللہ میری امت کو صبح کے وقت میں برکت دے نیزاس سند سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص آدمیوں کاشکرادانہ کرے وہ اللہ کاشکربھی ادا نہیں کرتا۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن عمروبن ثوابہ بن عبداللہ بن تمیمہ سلولی۔مرہ بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن کی اولاد کو سلولی کہتےہیں۔مرہ بھائی ہیں عامر بن صعصعہ کے مرہ کی اولاد ان کی ماں سلول بنت ذہل بن شیبان بن ثعلب کی طرف منسوب ہےیہ قروہ شاعرتھےاوران کی بڑی عمرتھی بنی سلول کی ایک جماعت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں آئے تھے اوراس سے پہلے یہ سب لوگ اسلام لاچکے تھےاس وقت انھوں نے یہ اشعارپڑھے ۱؎ بان الشباب فلم احفل بہ بالا واقبل الشیب والاسلام اقبالا وقداروی ندیمی من مشعشعتہ وقداقلب اوراکاواکفالا &n۔۔۔
مزید
بن مالک یمانی ۔ہم ان کاتذکرہ ان کے بھائی حربن حدرجان کے نام میں لکھ چکے ہیں۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید