جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

شاہ اسماعیل چشتی

حضرت شاہ اسماعیل چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن نافع رضی اللہ عنہ

   انصاری ہیں ان کو اسمعیلی نے بیان کیاہےاوراپنی سندکے ساتھ عکرمہ سے انھوں نے عقبہ بن نافع سے انصاری سے روایت کی ہےکہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بہن نے نذرمانی ہے کہ میں پاپیادہ حج کروں گی حضرت نے فرمایاکہ اس سے کہوسوارہولے کیوں کہ اللہ کوتیری بہن کی تکلیف اٹھانے سے کوئی مطلب نہیں ہے اسماعیلی نے کہاہے کہ یہ عقبہ عامرکے بیٹے ہیں اوریہ بھی اوپربیان ہوچکاہے کہ بعض لوگوں نے ان کو عقبہ بن مالک کہاہے ان کے متعلق جوحدیث ہے اس کو ابوموسیٰ نے بھی لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن نافع رضی اللہ عنہ

   بن عبدالقیس بن لقیط بن عامر بن امیہ بن حارث بن عامربن فہر قریشی فہری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئےتھےمگرآپ کی فیض صحبت سے شرف یاب نہیں ہوئے تھے۔یہ عمروبن عاص کے خالہ زادبھائی تھے عمروبن عاص نے ان کوافریقہ پرحاکم کردیاجب کہ وہ مصرپر(حاکم)تھےپس یہ عقبہ(قبیلہ)لوانہ اور مراتہ کے پاس گئے توان لوگوں نے ان کی تابعداری کی پھرکافرہوگئے پس اسی سال میں انھوں نے پرجہاد کیاپس وہ قتل کیے گئےاورقیدکیے گئےاوریہ ۴۱ھ؁ ہجری کاواقعہ تھااور۴۲ھ؁ہجری میں دامس کوفتح کیااوروہاں والوں کو قتل کیااورقید کیااور ۴۳ھ؁ ہجری میں انھوں نےشہرسودان کے بہت سے مواضع فتح کیے اورودان کوفتح کیااور یہ افریقہ کے ایک شہربرقہ کے اطراف سے ہےاوربربرکے تمام شہروں کوفتح کیاتھااوریہ وہی شخص ہیں جنھوں نے قیروان کی حضرت معاویہ کے زمانہ میں بنیاد ڈالی تھی اوریہ بلادافریقہ  کے اصل شہروں سے تھااورامراک۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

   لیثی ہیں صحابی تھےان کااہل بصرہ میں شمارتھا۔ہم کوابوالفرح بن محمود نے اپنی سند کے ساتھ ابوبکربن عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا وہ کہتےتھےہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حمید بن ہلال نےبشربن عاصم سے انھوں نے عقبہ ابن مالک سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا سا لشکربھیجا اس نے ایک قوم پرلوٹ مارکرناشروع کی پس قوم سے ایک مردبھاگا(چنانچہ)لشکرمیں سے ایک شخص تلوارننگی لیے ہوئے اس کے پیچھے چلا تو اس سے بھاگنے والے نے کہاکہ میں مسلمان ہوں اس نے اس کے کہنے کی طرف کچھ خیال نہ کیااورضرب لگاکراس کو مارڈالا۔پس یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی آپ نے قاتل کے حق میں سخت کلام کہااس کی خبرقاتل کو ملی توایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھےکہ یکایک قاتل نے کہاکہ (وہ مقتول مسلمان نہ تھا بلکہ)ق۔۔۔

مزید

حضرت مولانا یعقوب چرخی

حضرت خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی قدس سرہ نام ونسب : اسمِ گرامی: خواجہ یعقوب۔علاقہ "چرخ"کی نسبت سے چرخی کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: خواجہ یعقوب بن عثمان بن محمود بن محمد بن محمود الغزنوی۔ آپ نے اپنی تفسیر میں چند جگہوں پر اپنے والد بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اربابِ علم و مطالعہ میں سے تھے اور پارسا اور صوفی تھے۔ اُن کی ریاضت کا یہ حال تھا کہ ایک روز پڑوسی کے گھر سے پانی لائے، چونکہ پانی یتیم کے پیالہ میں تھا، اس لیے نہ پیاتھا۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) تاریخ ِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ  762ھ،مطابق 1360ءکوموضع"چرخ"(غزنی،افغانستان )میں پیداہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ نے جامع ہرات(افغانستان) اور دیارِ مصر میں تعلیم حاصل کی۔ حضرت شیخ زین الدین خوانی آپ کے ہم درس تھے۔ اور آپ نے حضرت مولانا شہاب الدین سیرامی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنے زمانے کے مشہور عالم تھے)سے تلمذ کیا۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن مالک رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ یزیدبن ہارون سے انھوں نے یحییٰ بن معیدسے انھوں نے عبیداللہ بن زحرضمری سے انھوں نے ابوسعید رعینی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک جہنی سے نقل کیاہے کہ ان کو عقبہ بن مالک نے خبردی کہ عقبہ کی بہن نے یہ نذر مانی تھی کہ میں بیت اللہ شریف تک برہنہ پااوربغیرچادراوڑھے ہوئے جاؤں گی۔عقبہ نے اس کا تذکرہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کیاآپ نے عقبہ سے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہدو کہ سوار ہولےاورچادراوڑھ لے اورتین روزہ رکھے اس کوایک گروہ نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے عبیداللہ سے نقل کرکے روایت کیاہے اوران سب نے کہاہے کہ عقبہ ابن عامرہیں اوریہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

بی بی میمونہ واعظ قدس سرہا

  آپ کے والد ماجد کا نام شاقولہ تھا، آپ حافظ قرآن تھیں اور بے نظیر واعظہ تھیں، ایک  دن وعظ فرما رہی تھیں، فرمانے لگیں کہ انسان اپنے لباس کو حلال کے مال سے تیار کرائے، اور پہن کر گناہ سے اجتناب کرے تو وہ لباس جلدی نہیں پھٹتا، میں نے جو پیراہن پہن رکھا ہے یہ میری والدہ نے تیار کیا تھا مجھے سنتالیس سال ہوگئے ہیں کہ پہنا تھا مگر آج تک ویسے ہی نیا معلوم ہوتا ہے۔ آپ کے ایک بیٹے شیخ عبدالغفور نقل کرتے ہیں کہ ہمارے گھر کی ایک دیوار بڑی پرانی تھی اور بوسیدہ تھی، مجھے ہر وقت خطرہ رہا کرتا تھا کہ ابھی گری میں نے ایک بار اپنی والدہ سے کہا اس دیوار کو از سر نو بنالیا جائے تاکہ گر نہ پڑے، میری والدہ نے ایک کاغذ کا ٹکڑا  لیا، اس پر کچھ لکھا اور مجھے کہا کہ اسے دیوار پر چسپاں کردو، میں نے ایسا ہی کیا یہ دیوار بیس سال تک ویسے ہی رہی، میری والدہ فوت ہوگئیں میں نے ایک دن وہ کاغذ دیوار سے اُتار۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن کدیم رضی اللہ عنہ

   بن عدی بن حارثہ بن زید مناہ بن عدی بن عمروبن مالک بن نجارصحابی تھے فتح مصرمیں بھی شریک تھےانھوں نے مصرمیں اپنی اولاد چھوڑی تھی۔ان کی کوئی روایت مشہورنہیں ہے اس کو ابن یونس نے ذکرکیاہےعدوی نے کہاہے کہ عقبہ بن کدیم بن عمروبن حارثہ بن عدی بن عمرو غزوۂ احد میں اوراس کے بعدکے مشاہد میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن قنیطی رضی اللہ عنہ

   بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری حارثی ہیں یہ اپنے والد اورعبداللہ بن قنیطی کے ساتھ غزوۂ احد میں شریک تھے اوریہ عقبہ اورعبداللہ جسرابی عبیدہ کے واقعہ میں شہیدہوگئے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عقبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن ثعلبہ بن اسیرہ اوربعض نے کہاہے کہ ثعلبہ بن عسیرہ اوربعض نے کہاہے ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بن خدارہ بن عوف بن حارث بن خزرج اوربعض نے کہاہے عقبہ بن عمروبن ثعلبہ بن اسیرہ بن عسیرہ بن عطیہ بدرسی ہیں ان کی کنیت ابومسعود تھی یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور تھے۔غزوۂ بدرمیں شریک نہ تھے بلکہ بدر۱؎ میں رہتے تھے۔ہاں عقبہ ثانیہ میں شریک تھے جو لوگ عقبہ ثانیہ میں شریک تھے ان سب سے یہ کم سن تھے۔اس کو ابن اسحق نے بیان کیاہے غزوۂ احد اور اس کے مابعد کے غزوات میں شریک تھے(امام)بخاری وغیرہ نے کہاہے کہ یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےمگرصحیح نہیں ہے۔کوفہ میں رہتے تھےاورحضرت علی کے شاگردتھےحضرت علی نے جب صفین کی طرف کوچ کیاتو ان کو کوچہ میں نائب کردیاتھا۔ان سے عبداللہ بن یزیدخطمی اورابووائل اورعلقمہ اورمسروق اورعمروبن میمون اورربعی ابن خراش وغیرہ نے روایت کی ہے ان کوہم انشاء اللہ تعالیٰ باب الکنیت میں بیا۔۔۔

مزید