بن عامر بن عطیہ بن عامربن بیاضہ بن عامر بن زریق بن عبدحادثہ انصاری بیاضی ہیں یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح لکھاہے ابن کلبی نے بھی یوں ہی ان کا نسب بیان کیاہے اورکہاہے کہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا اورآپ سے حدیث بھی سنی تھی یہ کوفہ میں فروکش تھے ان کا نسب مشہورنہیں ہے ان سے مجاہد اورعبدالملک بن عمیر نےروایت کی ہے ہم کوعبدالوہاب بن ابی منصور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوغالب ماوردی نے اپنی سند کوسلیمان بن اشعث تک منادلتہً پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالملک بن عمیر نےبیان کیا وہ کہتےتھے مجھ سے عطیہ قرظی نے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ قیدیان قریظہ میں سے میں بھی تھاپس لوگ دیکھے جاتےتھےجس کے زیر ناف بال نکل آئےتھے وہ قتل کردیاجاتاتھا۔اورجس کے نہ نکلے تھے وہ قتل نہیں کیاجاتاتھااور میں ان میں سے تھاجن کے بال نہیں تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ حکم بن عمروغفاری کے بھائی تھے۔اس کوابن شاہین نے کہاہے احمد بن سیارمروزی نے کہاہے کہ ابن شاہین نے کہاہے کہ حکم بن عمروکے ایک بھائی تھےلوگ ان کو عطیہ بن عمروکہتےتھے وہ مروہ میں مرےتھےاوررسول خدا کے صحابی تھے اوران دونوں کے ایک بھائی رافع بن عمروتھے علی بن مجاہد نےکہاہے حکم بن عمرومروہ میں مرے تھے ان کی اور ان کے بھائی عطیہ بن عمرو کی قبر وہیں ہے اوروہ صحابی تھے۔نیزان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حشم جعفرنے کہاہے کہ یہ مدینہ میں رہتےتھے میں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے اس کو ابن منیع نے کہاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی(روایت کردہ)حدیث میں ان کا ذکرہے۔اس کو ابوزکریا بن مندہ نے کہاہے اوریہ بھی کہاہے کہ ان کو بعض محدثین نےذکرکیاہے اوراس کو حسن بن سفیان پر حوالہ کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ وہ عطیہ بن عازب بن عفیف وہ شخص ہیں جن کوہم نے ذکرکیاہےاوروہاں پر ان کے داداتک ان کا نسب بیان کیاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سعدی ہیں سعدبن بکرکے خاندان سے تھے ان کی حدیث ان کی اولادسے مروی ہے۔ عروہ بن محمد بن عطیہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیاکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سعد بن بکرکے لوگوں کے ساتھ آیا۔اورمیں ان سب میں بہت چھوٹا تھاچنانچہ ان لوگوں نے مجھ کو اپنے قافلہ میں چھوڑدیااورخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےاوراپنی حاجتیں بیان کیں آپ نے فرمایاکیاتم میں اورکوئی بھی باقی ہے ان سب نے کہاکہ ہاں ایک لڑکاہمارے قافلہ میں ہے توآپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ لوگ مجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس بھیج دیں پس ان لوگوں نے مجھ سے کہاکہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤچنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہواکہ دینے والے کا ہاتھ بہت بلندہے اورسوال کرنے والے کاہاتھ بہت نیچاہے۔اسمعیل بن عبیداللہ نے عطیہ بن عمروسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم س۔۔۔
مزید
ان کا شماراہل شام میں ہے۔ان سے شریح بن عبیدنے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے تحفہ سے خوش ہوتےتھےتواس کونمازکاحکم فرماتےتھے۔ ان کا نام عطیہ ہی بیان کیاگیاہے اوربعض نے کہاہے کہ عقبہ بن عامر۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عفیف نضری ہیں لوگوں نے ان کو صحابی کہاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اورکہا ہے کہ اس کے سوامیں اورکچھ نہیں جانتاہوں اورحضرت عائشہ سے ان کا نام عفیف روایت کیاہے اس کو ابونضر نےبیان کرکے کہاہے کہ یہ صحابی تھے شام میں رہتےتھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن ربیعہ ثقفی حجازی ہیں۔اوربعض نے ان کو سفیان بن عینیہ کہاہے۔ہم کو عبیداللہ بن احمدنے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسےانھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک سے انھوں نے عطیہ بن سفیان بن عبداللہ بن عبداللہ بن ربیعہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےکہ ماہ رمضان میں ثقیف کاوفد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ نے ان کےواسطے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرادیاجب وہ لوگ اسلام لائے توآپ کے ساتھ انھوں نےروزہ رکھامگرابن اسحاق نے یہ نہیں ذکرکیاہے کہ آپ نے ماہ رمضان کے ایام گذشتہ کی قضاکاان کوحکم دیااوراس کوزیادبکائی اورابراہیم بن مختار نے عیسیٰ بن عبداللہ سے نقل کرکے بیان کیاہے کہ علقمہ بن سفیان سے روایت کی گئی ہے اوربعض نے کہاہے کہ عطیہ سے روایت کی گئی ہے اورانھوں نے اپنے بعض وفد سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے۔۔۔
مزید
بن غباب تغلی ہیں مالک بن عدی بن زید کی اولاد سےتھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس وفد میں آئے تھےاورواقعہ قادسیہ میں(قبیلہ)تغلب اورنمراورایادپرسردارتھے اس کا ابن دباغ نے سیف بن عمرسے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید