ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کی نسبت ابوزکریانے اپنے داداپراستدراک کیاہے حالاں کہ ان کے دادانے ان کاذکرکیاہےاورکہاہے کہ عسس(ان کا نام)ہے اوربعض نے کہاہے کہ دونوں نام ہیں اور برذعی نے انک عش کہاہےاسی طرح عثامہ بن قیس کی بابت بعض لوگوں نے عسامہ کہا ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےابواحمد نے ان کے نام کوعثیرکہاہے اور ان کی یہ حدیث روایت کی ہے کہ جب عورت کازفاف کیاجائے الخ ابواحمد نے ان دونوں کو ایک سمجھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور آپ سے روایت بھی کی تھی ان سے سلیمان بن عبدالرحمن ازدی نے روایت کی ہے مستغفری نے ان کانام عثیربیان کیاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ یہ وہی عتیرعذری ہیں جن کوہم بیان کریں گے یادوسرے شخص ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے انھیں میں یہ بھی مذکورہیں۔ان سے طارق بن شہاب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں میں سے تھےمگرصحابی ہونا ثابت نہیں ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ دوسرے شخص ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے انھوں نے ان کے اوردوسروں کے درمیان فرق ظاہر کیاہے اوران کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قبل ازنبوت آپ کی کیاکیفیت تھی۔آپ نے فرمایاکہ میری دایہ سعدبن بکرکی اولاد سے تھیں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابووقاص کانام مالک تھا۔ان کانسب ان کے بھائی سعد کے تذکرے میں گذرچکا ہے۔ ان کاصحابہ میں ذکرکیاگیاہے ان سے ان کے بھائی سعدنے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی کنیز ک کا لڑکامیراہے(تم اس کولےلینا)اس کوزہری نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیاہے یہ ابن مندہ کابیان تھاابونعیم نے کہاہے کہ ان کو بعض متاخرین نے صحابہ میں ذکرکیاہے۔اور زہری کی اس حدیث سے کہ سعد نے اپنے بھائی سے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی کنیز ک لڑکامیرا بیٹا ہے(ابونعیم نے)کہاہے کہ یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے غزوہ احد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو زخمی کیاتھا اور آگے کے دانت شہید کئے تھے ان کا اسلام لانامجھ کو معلوم نہیں ہے ان کومتقدمین نے صحابہ میں ذکرنہیں کیا۔یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ کافرمرے معمرسے روایت ہے انھوں نے عثمان جزری سے انھوں نے مقسم سے نقل کیاہے کہ عتبہ نے (جب)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہیدک۔۔۔
مزید
کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف کے پاس بھیجاتھااسودنے عروہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف بن ذی یزن کے پاس یہ خط لکھاتھا ۱؎ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد من محمد رسول اللہ الٰی زرعتہ بن ذی یزن اذااتاکم رسلی فامرکم بہم خیراً معاذبن جبل وابن رواحد ومالک بن عبادہ وعتبہ بن نیاران کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ اس بیان میں کلام ہے کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے لوگوں سے فتح مکہ کے ۹ھ ہجری میں خط وکتابت کی تھی اور عبداللہ بن رواحہ ۸ھ ہجری واقعہ موتہ میں شہیدہوچکے تھےواللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد محمد رسول اللہ کی طرف سے زرعہ بن ذی یزن کومعلوم ہو جب تمھارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو میں تم کو ان کےساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم دیتاہوں (میرے قاصدوں کے نام یہ ہیں)معاذبن جبل ابن واحدمالک بن عب۔۔۔
مزید
اسلمی ہیں۔شام میں رہتے تھے ان سے علی بن رباح اور خالد بن معدان نے روایت کی ہے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کو ابوبکربن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابن مصفی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے بقیہ نےمسلمہ بن علی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے سعید بن ابی ایوب نے حارث بن یزید حضرمی سے انھوں نے علی بن رباح سے نقل کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے میں نے عتبہ بن ندرصحابی کو کہتےہوئے سنا کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھےآپ نے سورۂ طسم ۱؎پڑھی یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کےبیان تک پہنچے (پھر)فرمایا کہ موسیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ جمیع الانبیاء وسلم نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت اورپیٹ بھرنے کے واسطے آٹھ برس مزدوری کی تھی یافرمایاکہ دس برس اس کوابن مندہ اورابونعیم نے بیان کیاہے۔ ابوعمرنے کہاکہ عتبہ بن ندرعتبہ بن عبدسلمی ہیں صحابی تھےان کا نام عتلہ تھانبی ۔۔۔
مزید
ہذلی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ بن مسعود کے تذکرہ میں گذرچکاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی انھوں نے اپنے بھائی عبداللہ کے ساتھ حبشہ کی طرف دوبارہ ہجرت کی تھی اور مدینے میں بھی آئے تھے غزوہ احد اوراس کے بعد کے کل غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔زہری نے کہاہے کہ ہمارے نزدیک عبداللہ اپنے بھائی سے زیادہ دینی مسائل کونہ جانتے تھےلیکن یہ بہت جلدانتقال کرگئے تھے۔زہری سے یہ بھی منقول ہے کہ عبداللہ اپنے بھائی سے زیادہ قدیم الصحبت اورقدیم الہجرت نہ تھے لیکن وہ عبداللہ سے پہلے انتقال کرگئے عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جب عبداللہ بن عتبہ کاانتقال ہواتوان کے بھائی عبداللہ ان کو رونے لگے بعض لوگوں نے ان سے کہاکہ کیاتم روتے ہوانھوں نے کہاکہ (اس میں تعجب ہی کیاعتبہ )میرےبھائی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرے ساتھی تھے اور سوا ع۔۔۔
مزید
ابولہب کانام عبدالعزٰی تھا۔عبدالمطلب کابیٹاتھا۔یہ عتبہ قریشی ہاشمی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے۔ان کی والدہ ام جمیل حرب بن امیہ کی بیٹی اورابوسفیان کی بہن تھی حمالتہ الحطب۱؎ یہی تھی عتبہ اوران کے بھائی معتب فتح مکہ میں ایمان لائےتھے یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے خوف)سے(مکہ چھوڑکر)بھاگ گئے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب کوجوان دونوں کے چچاتھے ان کے پاس بھیجا چنانچہ حضرت عباس دونوں کو لے آئے اور دونوں اسلام بھی لائےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اسلام لانے سےخوش ہوئے یہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھے اور اس دن یہ ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہےاورنہیں بھاگے اور غزوۂ طائف میں بھی شریک تھے یہ دونوں مکے سےکبھی نہیں نکلےاورمدینہ نہیں آئے ان دونوں نے اپنی اولاد چھوڑی تھی زبیرابن بکار نے کہاہے کہ عتب۔۔۔
مزید
ابولہب کانام عبدالعزٰی تھا۔عبدالمطلب کابیٹاتھا۔یہ عتبہ قریشی ہاشمی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے۔ان کی والدہ ام جمیل حرب بن امیہ کی بیٹی اورابوسفیان کی بہن تھی حمالتہ الحطب۱؎ یہی تھی عتبہ اوران کے بھائی معتب فتح مکہ میں ایمان لائےتھے یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے خوف)سے(مکہ چھوڑکر)بھاگ گئے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب کوجوان دونوں کے چچاتھے ان کے پاس بھیجا چنانچہ حضرت عباس دونوں کو لے آئے اور دونوں اسلام بھی لائےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اسلام لانے سےخوش ہوئے یہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھے اور اس دن یہ ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہےاورنہیں بھاگے اور غزوۂ طائف میں بھی شریک تھے یہ دونوں مکے سےکبھی نہیں نکلےاورمدینہ نہیں آئے ان دونوں نے اپنی اولاد چھوڑی تھی زبیرابن بکار نے کہاہے کہ عتب۔۔۔
مزید