ہیں یہ انصار کے خاندان بنی حظمہ میں سے ایک شخص ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اوران سے زید بن اسحاق نے روایت کی ہے ۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے نیز ابوعمرنے ان کوعمیرکے نام میں ذکرکیاہے۔وہ عمیرکے تذکرے میں بیان ہوگااور وہی صحیح ہے بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کا نام عبیدبیان کیاگیاہے پس اگر(ابوعمر)اس طرف اشارہ کردیتے تو بہت اچھاہوتا۔اورابواحمدعسکری نے ان کو دوعنوان میں ساتھ ہی بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن قتادہ بن سعدبن عامربن جندع بن لیث بن بکربن عبدمناہ بن کنانہ لیثی جندعی ہیں ان کی کنیت ابوعاصم تھی ۔یہ اہل مکہ کے قصہ بیان کرنے والوں میں سے تھے۔ان کوبخاری نے ذکرکیا ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہےاورمسلم نے ذکرکیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئے تھےاورکبارتابعین میں ان کاشمارہے۔انھوں نے حضرت عمراور ان کے علاوہ اورصحابہ سے روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمروابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اہیں۔بعض لوگوں نے ان کوعبیدہ بیان کیاہے اوریہی صحیح ہے۔یہ کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ کی اولادسے تھے۔ہم کوعبدالوہاب بن ابی حبہ نے اپنی سند کوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے اسمعیل ابن ابراہیم بن معمریعنی ابومعمرہذنی نےسعدبن خثیم سے انھوں نے ربعیہ بنت عیاض سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتی تھیں میں نے اپنے داداعبیدبن عمروکو کہتے ہوئےسناتھاکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا آپ نے وضوکیااورطہارت کوپورا کیاجب (ربعیہ)وضوکرتی تھیں توپوری طہارت کرتی تھیں۔اس حدیث کوسریح بن یونس نے سعید ابن خثیم سے روایت کیاہےاورکہاہے کہ انھوں نے عبیدہ سے روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابونعیم نے کہاہے کہ اس حدیث کوبعض متاخرین نے روایت کیاہے اوربجائے ربعیہ کے ربیعہ بیان کیاہے یہ ان کی غلطی ہے ابوعمرنے کہاہے کہ ان کی نسبت بیان کیاگیاہے کہ عبیدہ ہیں اور عبیدہ بن عمرو۔۔۔۔
مزید
اوسی امیہ بن زیدبن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کی اولاد سے ہیں غزوۂ بدر میں شریک تھے اس کو موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب سے روایت کرکے بیان کیا ہےاوران کے قول کو محمدبن اسحاق نے بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمر نے کہا ہےکہ یہ عبیدغزوۂ بدر اوراحداورخندق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ان کاتذکرہ ابوموسی نے ابن مندہ کے علاوہ لکھاہے۔باوجودیکہ ابن مندہ نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ بس ابوموسیٰ نے جوابن مندہ پراستدراک کیاہے اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کو مستغفری نے بیان کیاہے کہ ان سے عتبہ بن عبدنے روایت کی ہے یہ صحابی تھے۔ اسی طرح(عتبہ بن عبید نے)یہ بھی کہاہے کہ میں نے عبیدبن عبدکو(یہ بیان کرتے)سناکہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا ہے کہ گھوڑوں کی پیشانی کے بال اور ان کے یالوں ۱؎ اور دموں کے بالوں کونہ کتراکرو کیوں کہ دمیں ان کے لیے پنکھے ہیں (جس سے وہ اپنے اوپر بیٹھے ہوئے چھوٹے جانوروں کو ہٹادیتے ہیں)اور یالین ان کے لیے سردی دورکرنے کے لیے پوشش ہیں اوران کی پیشانی کے بالوں میں خیروابستہ ہے اوریہ حدیث عتبہ بن عبد سے بھی روایت کی گئی وہ انشاءاللہ تعالیٰ اپنے موقع پربیان کی جائے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ ۱؎ یال گھوڑے کی گردن کے بالوں کوکہتے ہیں۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ عبدالرحمن کے والد تھے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کی ہے منہال بن بحر نے حمادبن سائمہ سے انھوں نےابوسنان یعنی عیسیٰ بن سنان سے انھوں نے مغیرہ بن عبدالرحمن بن عبیدسے اورعبیدصحابی تھے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنےداداسے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے ایمان کی تین سو تینتیس (۳۳۳)شاخیں ہیں جس نے ایک شاخ کوبھی پوراکیاوہ جنت میں داخل ہوا۔لیکن ابوعمرنے ان کی نسبت بیان کیاہے کہ عبید صحابہ میں سے ہی جو ایک شخص تھے وہ یہی ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں براء بن عازب کے بھائی تھے۔ان کا نسب ان کے بھائی(براء) کے تذکرے میں پہلے گزرچکاہے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔قیس بن ربیع نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے حفصہ بنت براءبن عازب سے انھوں نے اپنے چچاعبیدبن عازب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ میرانام اورمیری کنیت کوجمع نہ کرویعنی کسی شخص کانام رکھا جائے اوروہ نام میراہی نام ہواورمیری کنیت کے موافق اس کی کنیت بھی تویہ اس کو نہیں لازم ہے کیوں کہ اس میں لشابہ پیداہوتاہےاس حدیث کو ابن مندہ نے روایت توکیاہے مگرسند اس طرح بیان کی ہے کہ حفصہ بنت عازب نے اپنے چچاسے روایت کی ہے(اس سندکواس طرح سے بیان کرنا) یہ ان کی صریح غلطی ہے ہاں درست یہ ہے کہ حفصہ بنت براء بن عازب نے روایت کی ہے کیوں کہ ابن مندہ کا یہ کہناکہ حفصہ نے اپنے چچاسے روایت کی ہے انھیں کے قول کارد ہے ابوعمر نے کہاہے کہ عبیداوربراء ح۔۔۔
مزید
ا بن لوذان انصاری ہیں ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کے ساتھ جن لوگوں کویمن بھیجاتھاان میں یہ بھی تھے۔سیف بن عمرتیمی نے سہل بن یوسف بن سہل انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عبیدبن صخر بن لوذان انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے تمام عاملوں کوحکم دیا کہ تم لوگ قرآن کادورباہم کرتے رہو اور نیک نصیحت کی پیروی کرو کیوں کہ نیک نصیحت لوگوں کو نیک کام کرنے کی رغبت دلاتی ہے اور تم اللہ کی راہ میں ملامت کرنےوالے کی ملامت سے نہ ڈرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس کی طرف تم لوٹوگے اورعبیدسے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے یمن کے عاملوں سے یہ عہد لیاتھاکہ (جب زکوٰۃ لیناتو)بیس گائے میں ایک سال کی گائے اورچالیس میں دوبرس کی گائےاورتیس اورچالیس کے درمیان جوکچھ مال زیادہ ہواس میں سے کچھ نہ لینا۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-۔۔۔
مزید
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمیربن شبرمہ ہیں ہشام بن محمد کلبی نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ یہ عبیدبن شربہ جرہمی دوسوچالیس برس زندہ رہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تین سوبرس تک زندہ رہے انھوں نے اسلام کازمانہ پایاتھااوراسلام لائے تھے(ایک مرتبہ)یہ عبید حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے پاس ان کے خلافت کے زمانے میں گئے حضرت معاویہ نے ان سے کہا(کہ تم نے اپنی عمرمیں)جوچیزسب سے زیادہ تعجب خیز دیکھی ہومجھ سے بیان کروانھوں نے کہا کہ میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس پہنچاکہ وہ لوگ اپنے مردےکودفن کررہے تھے جب میں نے اس میت کو(دفن کرتے ہوئے)دیکھا میری آنکھوں میں آنسوڈبڈباآئے اور میں نے یہ مثالیہ اشعار پڑھے ؎ ۱؎ استرزق اللہ خیراوارضین &n۔۔۔
مزید
بن عامربن مجدعہ بن جشم بن حارثہ انصاری حارثی ہیں اوس کے خاندان سے تھے غزوۂ احد میں شریک تھے یہ عبیدالسہام کے نام سے مشہورتھے واقدی نے کہاہے کہ ابن ابی حبیبہ سے لوگوں نے دریافت کیاکہ ان کانام عبیدالسہام کیوں ہوا انھوں نے کہاکہ مجھ کو داؤد بن حصین نے خبردی کہ خیبرکے حصوں میں سے انھوں نے اٹھارہ حصے مول لیےتھے(اسی وجہ سے) ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔بعض لوگوں نےکہاہے کہ نہیں بلکہ ان کا نام عبیدالسہام (پڑجانے کی یہ وجہ تھی) کہ یہ عبیدخیبرمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے تھے۔جب رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیاکہ خیبرکے حصہ کردیے جائیں توآپ نے لوگوں سے فرمایاکہ قوم کے چھو ٹے لوگوں کوبلاؤ(حسب الحکم حضرت کے)یہ عبیدبلائے گئے(جب حاضرہوئے) تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کئی حصے دے دیےاسی وجہ سے ان کا نام عبیدالسہام پڑگیا۔ان کی کنیت ان کے بیٹے ثابت ۔۔۔
مزید