جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عبدالرحمن عیاش رضی اللہ عنہ

  کے والد ہیں اشجعی تھے عبدالرحمن اشجعی کے تذکرہ میں ان کا بیان ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عویم رضی اللہ عنہ

   بن ساعد ہ انصاری ہیں ان کے والد کے بیان میں انشاءاللہ ان کا نسب بیان کیا جائے گا یہ رسول  خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ہجرت کے پیشترپیداہوئے تھے۔محمد بن اسحاق نے محمد بن جعفر بن زبیر سے انھوں نے عروہ بن زبیرسے انھوں نے عبدالرحمن بن عویم سے روایت کی ہے کہ جب ہم لوگوں (یعنی اہل مدینہ)نے سنا کہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بارادہ ہجرت مکہ سے )کوچ کردیاہے ہم لوگ (حضور کے استقبال ۱؎ اس قسم کے الفاظ کسی میت کے غم میں نکالنا شرعاً ممنوع ہیں مگرشدت غم میں جب عقل زائل ہوجائے تو تکلیف شرع قائم نہیں رہتی۱۲۔ کے واسطے)ہرروز ظہرتک(اپنے اپنے مکانوں سے)نکل کر انتظارکیاکرتے تھےپھرپوری حدیث طول کے ساتھ بیان کی اس کو ابن مندہ نے کہا ہے ابونعیم اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے انھوں نے محمد بن جعفربن زبیر سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے عبدالر۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن ابی عوف رضی اللہ عنہ

   جرشی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہےاسی طرح بن ابی یاس نے کہا ہے مگریہ غلط ہے عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین میں سے ہیں آدم بن ابی یاس نے جریر بن عثمان سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عوف سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز تاریکی میں پڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔یہ ابن مندہ کا بیان تھا۔ابونعیم نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن ابی عوف جرشی اہل شام کے تابعین سے تھے بعض متاخرین نے ان کو صحابہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں (انھیں ابونعیم) کے مانندابن مندہ نے بھی کہاہےکہ بے شک آدم نے ان کے (بیان میں) غلطی کی ہے کیونکہ یہ عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین سے ہیں پھر(ابن مندہ پر)کوئی طعن کی وجہ نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عوف بن عبدعوف رضی اللہ عنہ

   بن عبدبن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ قریشی زہری ہیں ان کی کنیت ابومحمدتھی اورایام جاہلیت میں ان کا نام عبدعمروتھابعض لوگوں نےعبدالکعبہ بیان کیا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدل کر)عبدالرحمن رکھاان کی والدہ شفابنت عوف بن عبدبن حارث بن زہرہ تھیں یہ واقعہ فیل کے دس برس کے بعد پیداہوئےتھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں پہنچنےسے پیشترایمان لائےتھےاوریہ ان آٹھ شخصوں میں سےہیں جو سب سے پیشترایمان لائے تھے اور ان پانچ آدمیوں میں سے جوحضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پرایمان لائے تھے ایک یہ بھی تھے ان لوگوں کوہم نے حضرت ابوبکر صدیق کے بیان میں ذکرکیاہے۔اوریہ ان مہاجرین اولین میں سے ہیں جنھوں نے حبش اورمدینہ کی طرف ہجرت کی تھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اورسعدبن ربیع میں بھائی چاراکرایاتھایہ غزوۂ بدراوراحداورتمام غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عوام بن خویل رضی اللہ عنہ

  د بن اسد بن عبدالعزی بن قصی قریشی اسدی ہیں ان کی والدہ ام الخیربنت مالک بن عمیلہ بن سباق بن عبداللہ بن قصی تھیں یہ فتح مکہ میں اسلام لائے تھےاورصحابی تھے زبیر(ابن بکار)نے کہاہے کہ ایام جاہلیت میں ان کا عبدالکعب تھارسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھاواقعہ یرموک میں شہید ہوئے تھےاور ان کے بیٹے عبداللہ حضرت عثمان کی شہادت کے واقعہ میں قتل کیے گئے اورابوعبداللہ عدوی نے اپنی کتاب النسب میں بیان کیاہے کہ انھیں عبدالرحمن کے سبب سے حسان بن ثابت نے آل زبیربن عوام کی ہجوکی تھی اور کہا(ابوعبداللہ نے)یہی درست ہےاورجس نے کہاہے کہ یہ ہجوعبداللہ بن زبیرکے سبب سے تھی اس کا قول صحیح نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عوام رضی اللہ عنہ

   بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی قریشی اسدی ہیں ان کی والد ام الخیر بنت مالک بن عمیلہ بن سباق بن عبداللہ بن قصی تھیں یہ فتح مکہ کے بعداسلام لائےتھےاورصحابی تھےزبیر (ابن بکار)نے کہاہےکہ ایام جاہلیت میں ان کا نام عبدالکعب تھارسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھاواقعہ یرموک میں شہیدہوئے تھےاوران کے بیٹے عبداللہ حضرت عثمان کی شہادت کے واقعہ میں قتل کیے گئےابوعبداللہ عدوی نے اپنی کتاب النسب میں بیان کیا ہے کہ انھیں عبدالرحمن کے سبب سے حسان بن ثابت نے آل زبیربن عوام کی ہجوکی تھی  اورکہا(ابوعبداللہ نے)ہی درست ہے اورجس نے کہاہے کہ یہ ہجوعبداللہ بن زبیرکے سبب سے تھی اس کا قول صحیح نہیں ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ

   مزنی ہیں اہل شام میں ان کا شمار ہے ۔ولید بن مسلم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن عمیرہ ہیں اوربعض نے بیان کیاہے کہ عبدالرحمن بن ابی عمیرمزنی ہیں اوربعض نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن عمیریاعمیرہ قریشی ہیں ان کی روایت کردہ حدیث مضطرب ہے ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے۔ہم کوابراہیم بن محمداوران کے سوادوسروں نےاپنی سندوں کو محمد بن عیسیٰ سلمی تک پہنچا کر خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے ابومسہر نے سعید بن عبدالعزیز سے انھوں نے ربیعہ ابن یزید سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عمیرہ سے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھےانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے واسطے دعاکی کہ اے اللہ (معاویہ کو) ہدایت کرنے والااور ہدایت یافتہ بنادے اوراس کے ذریعے سے ہدایت نصیب کر ابوعمرنے کہا ہے کہ بعض نے ان۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن ابی عمرہ رضی اللہ عنہ

   ان کے حال میں لوگوں نے اختلاف کیاہےحضرمی نے ان کووحدان میں ذکرکیاہے ہم کو ابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں احمد بن عبداللہ نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن محمد نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن عبداللہ حضرمی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن شریک نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے عثمان بن ابی زرعہ نے سالم بن ابی الجعد سے انھوں نے عبدالرحمن بن  ابی عمرو سے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہاکہ تم لوگوں نے اے آل محمد کس حال میں صبح کی آپ نے فرمایاہماری حالت اس شخص سے بہترہے کہ جس نے کسی مریض کی عیادت نہ کی ہو اور صبح کو روزہ دارنہ ہو۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

  سیّدنا عبدالرحمن ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن غزیہ انصاری ہیں ان کوطبرانی نے بیان کیا ہے ابوجعفر یعنی محمد بن علی نے عمروانصاری سے جومحصن کے بیٹےتھےانھوں نے عبدالرحمن انصاری سے جوبنی نجارمیں سے ایک شخص تھے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے قیامت کے قریب ہونے کی (علامت) بارش کا زیادہ ہونااورپیداوارکاکم ہونااور مرداروں کی کثرت اور امانت داروں کی قلت ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نےلکھاہےاورابوعمرنے ان کے بھائی حارث بن عمروکے بیان میں ان کا ذکرکیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

  حضرت عمربن خطاب کے بڑے بیٹے عبداللہ اور حضرت ام المومنین حفصہ کے بھائی تھےان کی والدہ زینب بنت مظعون عثمان بن مظعون حمجی کی بہن تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن کوئی آپ کی حدیث انھیں یاد نہ تھی اور عبدالرحمن ابوشحمہ یہ حضرت عمرکے منجھلے بیٹے ہیں ان کو عمرو بن عاص نے شراب خوری کی حد مصر میں لگائی تھی پھر(وہاں سے ) ان کومدینہ بھیج دیاتوان کے والدحضرت عمر نے ان کو تادیباًضرب دی بعدہ یہ بیمارہوگئے اورایک مہینہ کے بعد انتقال ہوگیا معمر نے زہری سے انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیاہے لیکن اہل عراق کہتے ہیں کہ ان کو کوڑے لگائے جارہے تھےاسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیایہ غلط ہے اور عبدالرحمن ابوالمجبرحضرت عمرکے چھوٹے بیٹے ہیں اورمجبر کا نام بھی عبدالرحمن ہے اور وہ عبدالرحمن بن عمرکے بیٹے تھےان کا نام مجبراس وجہ سے مشہورہوگیاکہ یہ اپنے بچپن میں گرپڑے ت۔۔۔

مزید