ا۔یہ عبدالرحمن امیرالمومنین ابوبکرصدیق بن ابی قحافہ کے بیتے ہیں ان کے والد کے ذکر میں ان کا نسب بیان ہوچکاان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ان کی کنیت ابومحمد تھی وہ اس وجہ سے کہ ان کے بیٹے کانام محمد تھاجن کولوگ ابوعتیق کہتے ہیں اور بعض ابو عثمان بیان کرتے ہیں ان کی والدہ ام رومان تھی یہ مدینہ میں رہتے تھے اور مکہ میں وفات ہوئی ۔ صحابہ میں کوئی چارشخص ایسے نہیں ہیں جن کی چارپشت کے لوگ اسلام لائے ہوں اور صحابی ہوں سوا ابوقحافہ اوران کے بیٹے حضرت ابوبکرصدیق اور ان کے بیٹے عبدالرحمن اور ان کے بیٹے محمد ابوعتیق کے یہ عبدالرحمن حضرت عائشہ کے حقیقی بھائی تھےغزوۂ بدراوراحد میں کافروں کی طرف سے شریک تھے(جب میدان جنگ میں )انھوں نے اپنے لڑنے کے واسطے مقابل طلب کیا تو حضرت ابوبکر ان کے مقابلے پرجانے کو تیار ہوئے مگررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم۔۔۔
مزید
حضرت سید جلال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے، مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی، آپ نے اپنے ملفوظات ’’خزانہ جلالی‘‘ میں امام یافعی کا بکثرت ذکر کیا ہے۔ آپ نے بے انتہا سیر و تفریح کی اور بہت سے اولیائے کرام سے نعمتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ آپ کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ آپ جس سے معانقہ کرتے اور گلے ملتے، اس سے اس کی کرامتیں چھین لیتے یعنی اس پر اتنی توجہ ڈالتے اور خدمت کرتے کہ اس کے پاس جتنی نعمتیں اور برکتیں ہوتیں وہ بے اختیار آپ کو دے دیتے۔ تاریخ محمدی میں ہے کہ آپ نے ابتداً اپنے چچا شیخ صدرالدین بخاری سے خرقہ پہنا، پھر حرم شریف کے شیخ الاسلام امام المحدثین شیخ عفیف الدین عبداللہ المطری سے کلاہ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا شاہ احمد حسن فاضل کانپوری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی: مولانا شاہ احمد حسن رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ صدیقی النسل تھے۔دین دار گھرانے سے تعلق تھا۔ موطن: آپ "موضع بڈلانہ"(ضلع حصار انڈیا) میں پیداہوئے۔ تحصیلِ علم: استاذ العلماء حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھی سےکانپور اور علی گڑھ میں اخذ ِ علوم کیا،اور یہیں سے فراغت حاصل ہوئی۔ اولاً مدرسہ مظاہر علوم سہارن پوری میں مدرس مقرر ہوئے،اس کے بعد کانپور کے مشہور زمانہ مدرسہ "فیضِ عام" میں مسندِ صدارت کو زینت دی، متعدد علوم و فنون کی 15کتابوں کا روزانہ پوری قوت و توجہ سے درس دیتے تھے۔کاشغر،شام ،موصل،حلب،بخارا،افغانستان سرحد وغیرہ کے بکثرت علماء نے آپ سے درس لیا۔درس و تدریس میں آپ اپنے زمانہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ آپ کےاستاذ حضرت مولانامفتی لطف اللہ علی گڑھی نے۔۔۔
مزید
انصاری بنی نجار (کے خاندان)سے ہیں ابن اسحاق سے ان انصار کے ناموں میں جوقبیلۂ خزرج کی شاخ بنی ثعلبہ بن غنم بن مالک سےشریک بدرتھےعبیدبن ثعلبہ کا نام بھی روایت کیاگیا ہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مالک ابوہیثم بن تیہان کے والدتھےان کانسب پہلے بیان ہوچکاہے اوراب انشاءاللہ تعالیٰ ابوہیثم مالک ابن تیہان (کےحال)میں بیان ہوگا۔اورابوعمرنے یہاں پران کا نسب اوس انصاری تک بیان کیاہے اوران کے سوائے دوسروں نے ان کی مخالفت کی ہے اورعبدالاشہل کی اولاد کا ان کوحلیف کہاہے۔ان کوجس نے حلیف کہا ہے وہ ابن اسحاق اورواقدی اور موسیٰ بن عقبہ اورابومعشرہیں اورابن اسحاق اورواقدی کہتے ہیں کہ (ان کا نام)عبیدہے اور موسیٰ بن عقبہ اور ابومعشراورعبداللہ بن محمد بن عمارہ نے کہاہےکہ یہ عتیک بن تیہان ہیں اور ان کی موافقت ابن کلبی نے بھی کی ہے۔یہ عبیدا ن سترلوگوں میں سے ہیں جنھوں نے لیلتہ العقبہ میں بیعت کی تھی یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھےاور غزوۂ احد میں شہیدہوئے تھے ان کوعکرمہ بن ابی جہل نے شہیدکیاتھا۔ بعض نے کہاہے (کہ غزوۂ احد میں نہیں بلکہ )جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ شہیدہوئے۔ ان کاتذکرہ ابوعمراور ابومو۔۔۔
مزید
بن مالک بن سواد بن کعب انصاری ظفی ہیں اس کوابوعمرنے بیان کیاہےاورابن مندہ اور ابونعیم نے لکاہے کہ عبیدبن اوس انصاری ہیں ان دونوں نے اس سے زیادہ ان کا نسب نہیں بیان کیا اورابن کلبی نے ان کانسب اس طرح بیان کیاہے عبیدبن اوس بن مالک بن زیدبن عامربن سواد بن ظفر۔ظفرکانام کعب ہے وہ خزرج ابن عمروبن مالک بن اوس کے بیٹے تھے۔ابوعمرنے(سیاق نسب میں)زیداورعامرکوساقط کردیاہے۔ان کی کنیت نعمان تھی غزوۂ بدرمیں شریک تھے ان کا نسب مقرن اس وجہ سے مشہورہوگیاکہ انھوں نے بدرمیں ایک ہی ساتھ چارآدمیوں کوقیدکیاتھاانھوں نے ہی عقیل بن ابی طالب کو بھی قید کیاتھا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے عباس اورنوفل اور عقیل کو قیدکیااور ان کو لے کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایاکہ ان کے قیدکرنے میں بادشاہ بزرگ نے تمھاری مددکی اور حضرت نے ان کومقرن کاخطاب دیاتھا۔ مس۔۔۔
مزید
ہیں ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےیہ پہلے عبیدکے علاوہ ہیں یہ کہتے تھے کہ مجھ کوحضرت عمر نے تجارت کے واسطے مال دیاتھااورنفع کی شرکت تھی ان کی حدیث اہل کوفہ میں سے فضل بن وکین نےانھوں نے عبداللہ بن حمید بن عبیدسے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے ۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے مگرکہاہے کہ ان عبیداوران سے پہلے والے عبیدمیں کچھ کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کی کنیت ابوزمعہ تھی بلوی ہیں مصرمیں رہتے تھےاورصحابی ہیں اپنی کنیت سے مشہورتھے کنیت کے باب میں ان کا یہاں سے زیادہ بیان کیاجائےگا۔ان کوابواحمد عسکری نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید