جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عبید ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ

   عبداللہ فقیہ کے والد تھے حکم نے عبداللہ سے انھوں نے اپنے والدعبیداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ماں کی نسبت پوچھاکہ وہ بڑی نیک اور بڑی صلہ رحم کرنے والی اور بڑی نیکوکارتھیں کیاہم ان کی مغفرت کی امیدرکھیں حضرت نے فرمایا انھوں نے کبھی کسی لڑکی کوزندہ درگور۱؎کیاتھا(انھوں نے )کہاہاں حضرت نے فرمایاتووہ دوزخ میں ہے ۔ان کاتذکرہ غسانی نےلکھاہے۔ ۱؎زمانۂ جاہلیت میں لڑکی کی ولادت بہت بری سمجھی جاتی تھی اورجب کسی کے یہاں لڑکی پیداہوتی تھی تووہ مارے شرم کے کسی کومنہ نہ دکھاتاتھااکثرعورتیں اپنے شوہرکی یہ حالت دیکھ کر اور بعض اوقات خود مردبھی اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ بن معیہ رضی اللہ عنہ

  ا سوائی سواءبن عامربن صعصعہ کی اولاد سے تھے۔انھوں نے جاہلیت کازمانہ پایاہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے طائف میں رہتے تھےبعض نے ان کوعبداللہ بن معیہ بیان  کیا ہے اورہم نے ان کا ذکرپیشترلکھاہےوکیع نے سعدبن سائب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے ایک بوڑھے آدمی کوعامرکے خاندان سے جو سواءہ بن عامربن صعصعہ کی اولادسے تھے اور عبیداللہ بن معیہ کے نام سے مشہورتھے کہتے ہوئے سنا کہ واقعۂ طائف کے دن مسلمانوں میں سے دو آدمی شہیدہوگئے ان دونوں کی نعش رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کی گئی مگرآپ کو (پہلے ہی سے )یہ خبرمل گئی تھی توآپ نے کہلوابھیجا کہ جس مقام پر وہ شہید ہوئے ہیں یایہ فرمایا کہ جہاں وہ لڑکے ہیں وہیں ان کودفن کردو۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن معمر رضی اللہ عنہ

   انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہےاوراہل مدینہ میں ان کاشمارہےان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ان سے عروہ بن زبراورمحمدبن سیرین نے روایت کی ہےمگر ان کی کوئی حدیث  صحیح نہیں ہے یہ سب ابن مندہ کابیان تھااورابونعیم نے (ان کے تذکرے میں) یہ بات زیادہ بیان کی ہے کہ یہ مدینہ میں رہتے تھے اورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ ہشام ابن عروہ انھوں نے اپنے والدسےانھوں نے عبیداللہ بن معمرسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن لوگوں کو(خداکی طرف سے)نرمی عطاہوتی ہے وہ ان کو فائدہ دیتی ہےاورجن لوگوں کو نرمی نہیں عطاہوتی وہ نقصان میں رہتےہیں۔ابوعمرنے ان کاتذکرہ اچھالکھاہےاوروہ انھوں نے اس طرح لکھاہے کہ عبیداللہ بن معمربن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی قریشی تیمی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہے اوریہ آپ کے صحابہ میں بہت۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن مسلم رضی اللہ عنہ

   ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ وہ شخص نہیں ہیں جن کی نسبت بیان کیا گیاہےکہ ان کے بیٹے نے ان سے روایت کی ہے ان کوعلی عسکری نے ذکرکیاہےجیساکہ ابوبکربن ابی علی نے بیان کیاہے اورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ جہاد بن عوام سے انھوں نے حصین بن عبدالرحمن سے نقل کرکےروایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے عبیداللہ بن مسلم صحابی کو کہتے ہوئے سناکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوغلام اللہ تعالیٰ کی بھی اطاعت کرتاہےاوراپنےآقا کی بھی تابعداری کرتاہے اس کو دوناثواب ملتاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ یہ تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے مگرانھوں نے عبیداللہ بن مسلم کو عبید بن مسلم لکھ کرغلام والی حدیث ان سے روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن مسلم رضی اللہ عنہ

   قریشی مسلم کے والدتھے۔بعض لوگوں نے ان کومسلم بن عبیداللہ بیان کیاہے۔ ابوعمر نے کہاہے کہ یہ عبیداللہ بن مسلم قریشی ہیں بیان کیاجاتاہے کہ حضرمی ہیں اورصحابہ میں ان کا ذکرکیا گیا ہےاورکہاہےکہ میں ان کے قریشی ہونے سے واقف نہیں ہوں اوراس میں کلام ہےاور کہا ہے کہ بعض لوگوں نےبیان کیاہےکہ یہ عبیدبن مسلم ایسے شخص ہیں جن سے روایت کی گئی ہے۔اگر یہ وہی شخص ہیں تواسدی ہیں اوراسد قریش کا ایک بطن ہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے اپنی سندوں کے ساتھ ابونعیم یعنی فضل بن دکین اورقاسم بن حکم عرفی سےان دونوں نےہارون بن سلمان فراء ابوموسیٰ سے جوعمرو بن حریث کے غلام تھےانھوں نے مسلم بن عبیداللہ قریشی سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ یارسول اللہ میں ہمیشہ روزہ رکھاکروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب سے)سکوت کیاانھوں نےاس کو دوبارہ پوچھاپھرآپ نے (۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن محصن رضی اللہ عنہ

  انصاری ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے ہم کوابراہیم بن محمدبن مہران فقیہ وغیرہ نے اپنی سندوں کو محمدبن عیسیٰ بن سورہ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن مالک اور محمود بن خداش بغدادی نے بیان کیاوہ دونوں کہتے تھےہم سےمروان بن معاویہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبدالرحمن بن ابی شمیبلہ انصاری نے سلمہ بن عبیداللہ بن محمد بن انصاری حطمی سے انھوں نے اپنے والدسے جوصحابی تھے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکےبیان کیاکہ آپ فرماتے تھےجس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کو اپنی جان کاخوف نہ ہواوربدن صحت و عافیت کے ساتھ ہواوراس دن کھانے پینے کوبھی اس کے پاس ہوتواس کوگویاتمام دنیا کی نعمت مل گئی  ان سے ان کے بیٹے سلمہ نے بھی (ماہ)رمضان کی فضیلت میں ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہےاورابوعمرنے کہاہے کہ بعض لوگوں نے عبیداللہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ

  ا بن نعمان بن یعمربن ابی اسیداسلمی ہیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ان کو غسانی نے ابن کلبی سے روایت کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

حضرت احمد مولانا سنجانے

حضرت شیخ سلطان الدین احمد مولانا سنجانے رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن کثیر رضی اللہ عنہ

  محمدکےوالدتھے۔ان کے صحابی ہونےمیں اختلاف ہےسلیمان بن بلال نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے محمد بن عبیداللہ سےانھوں نے اپنے والدسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجوشخص اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں جائےگا کہ (وہ زندگی میں)شراب خورتھاتواللہ کے سامنےاس کی وہی حالت ہوگی جوبت پرست کی ہوتی ہے۔اس حدیث کومحمد بن سلیمان اصفہانی نے سہیل سے انھوں اپنے والدسےانھوں نےابوہریرہ سےروایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےلیکن ابوعمرنے ان کوعبیداللہ بن کثیربیان کرکے محمدکاوالدکہاہےاور ابن مندہ نے ان کوعبیداللہ ابومحمدبیان کیاہے۔اورابونعیم نےکہاہے کہ یہ عبیداللہ ہیں اوران کانسب نہیں بیان کیاگیاہے(ان تینوں قولوں سے)یہ گمان ہوتاہے یہ تین شخص(علیحدہ علیحدہ)ہیں حالاں کہ (یہ تینوں شخص جوعلیحدہ علیحدہ عنوان سے بیان ہوئے ہیں)ایک ہی شخص ہیں واللہ اعلم۔ ابوعمر نے کہاہے کہ محمداوران کے والدعبی۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن فضالہ رضی اللہ عنہ

   لیثی ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابن مندہ نے عبداللہ کے نام میں بیان کیاہے اور ان کا نسب نہیں اورابن شاہین نے ان کوعبیداللہ کے نام میں بیان کیاہےاورااپنی سندکے ساتھ عدی بن فضل سے انھوں نے داؤدبن ابی  ہندسے انھوں نے ابوحرب بن ابی اسودویلی سے انھوں نے عبیداللہ بن فضالہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(ایک سفرسے)آیاتوآپ نے فرمایاجس کو کوئی شناسا ہو وہ اپنے شناساکے یہاں اترے اورجس کا کوئی شناسانہ ہو وہ اہل صفہ کے پاس اترے (حسب الحکم)میں اہل صفہ کے پاس اتراجمعہ کے دن رسول خدا صلی اللہ وسلم منبرپرتشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے بھوک کی شکایت کی آپ نے فرمایاعنقریب بڑے بڑے ظروف جولوگ تم سے زندہ رہیں گےان کے سامنے صبح وشام (دونوں وقت)کھانے کے لگائے جائیں گےاورکھان کھائیں گے کپڑے(ایسے پرتکلف)جیسے کعبہ کے پردے اس حدیث کو بہت سے لوگوں نے۔۔۔

مزید