خزاعی ہیں انھوں نے شام میں سکونت اختیارکی تھی محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے ان کا تذکرہ لکھاہے اسمعیل ابن عیاش نے سعید بن عبداللہ خزاعی سے انھوں نے ہثیم بن مالک طائی سے انھوں نے عبدالرحمن بن مسعودخزاعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے اے لوگوں خوشی اور ناخوشی (غرض ہر حال)میں حاکم کی بات کاسننا اور ماننا اپنے اوپرلازم کرلو(تم لوگ)آگاہ رہو بے شک جو شخص سنے اور مانے اس پرکوئی الزام نہیں ہے جوسنے اور اس کا کوعذر(مقبول)نہیں اورتم لوگ اللہ عزوجل کی طرف نیک گمان رکھنااپنے اوپر لازم سمجھو کیوں کہ اللہ ہربندے کو اس کے نیک گمان کے موافق دیتاہے بلکہ اس سے زیادہ دیتاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں شریک بن عبداللہ نے عبداللہ بن عبدالرحمن مزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ علی میں (اللہ کی طرف سے)دو خصلتیں عنایت ہوئی ہیں (ان میں)تین (خصلتیں دنیامیں اور تین آخرت میں اور تین (خصلتوں) کی ان کے واسطے امیدکرتاہوں اورایک (خصلت)جوان کے واسطے ہے اس سے میں خوف کرتاہوں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھ کر بیان کیاہے کہ اس بات کا احتمال ہوتاہے کہ یہ دونوں عبدالرحمن میں سے ایک ہیں جن کا ذکرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مزنی عمرو کے والد ہیں انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔یحییٰ بن شہل نے عمروبن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی کیفیت پوچھی گئی پھرپوری حدیث بیان کی ۔ان کا تذکرہ یہاں پر ابونعیم اور ابوعمر نے لکھاہےاور لوگوں نے عبدالرحمن بن ابی عبدالرحمن کے بیان میں ذکرکیاہے اور ہم نے یہاں پر اس وجہ سے ان کاتذکرہ لکھاہے کہ کوئی شخص ان کا تذکرہ (یہاں پر)نہ دیکھ کریہ خیال کرے کہ میں نے ان کا بیان چھوڑدیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان کا شماراہل مدینہ میں ہے ان سے ابویزیدمدنی نے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرمیں ایک ہزارآٹھ سو صحابی کوساتھ لے کرجہاد کیاپھراس کواٹھارہ حصہ پرتقسیم کیا۔خیبراس وقت میوہ جات سے سرسبزتھالوگ میوہ کھانے میں مشغول ہوگئے (جس کی وجہ سے ان سب کو بخارآگیا۔جب بخار میں مبتلاہوئے)توانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی بیماری کی)شکایت کی آپ نے فرمایااے لوگوں بخار اللہ تعالیٰ (کی طرف سے)قیدخانہ ہے اور(دوزخ کی)آگ کاایک ٹکڑاہے جب وہ تم کوپکڑلے (یعنی جب بخار میں مبتلا ہوجاؤ)تو اس کوپانی سے ٹھنڈا کرو(یعنی غسل کرو حسب الحکم)ان لوگوں نے ویساہی کیاپس ان کا بخارجاتارہا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ کے بیان میں پہلے گذرچکاہے۔یہ انصاری حارثی ہیں غزوۂ احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک تھے جسرابوعبیدکے واقعہ میں شہیدہوئے یہ دونوں (یعنی عبدالرحمن اورعبداللہ ہذیہ ابن مربع اورمرارہ بن مربع کے بھائی ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حضرت مولانا عبدالکریم مگسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ استاد العلماء حضرت مولانا عبدالکریم بن غلام حسین مگسی ۱۲ ، ربیع الاول ۱۳۰۲ھ میں گوٹھ فیروز شاہ تحصیل میہڑ ضلع دادو میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم نحو میر تک مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں میاں گلاب الدین صاحب چنہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد تین تلائو حیدراؓاد (سندھ) میں مولانا عبداللطیف صاحب کے پاس ایک سال تک رہے۔ اس کے بعد تعلیم کی خاطر مولانا محمد صالح سیال کے پا س مدرسہ ٹوڑی پوٹھ متصل دادو میں چھ ماہ تک رہے۔ اس کے بعد گوٹھ بانھو لاکھیر میں مولانا الحاج الٰہی بخش صاحب کے پاس پڑھتے رہے۔ مدرسہ دارالفیوض صوبھوخان مگسی میں مولانا محمد اسماعیل مگسی کے پاس بھی تعلیم حاصل کی۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر اپنی مادر علمی مدرسہ جامع العلوم فیروز شاہ میں حضرت مولانا عبدالرحمن چنہ کے پاس رہ کر فارغ التحصیل ہوئے۔ درس و تدریس: ایک سال تک استاد مح۔۔۔
مزید
ا ان کوابن عقدہ نے بیان کیاہےاوراپنی سندکے ساتھ ابوغیلان یعنی سعدبن طالب سے انھوں نے ابواسحاق سے انھوں نے عمرو ذی مراوریزید بن نثیع اورسعید بن وہب اورہانی بن ہانی سے روایت کی ہے ابواسحاق نے کہاہے کہ مجھ سے بے شمارلوگوں نے بیان کیاکہ حضرت علی نے لوگوں کو کوفہ کے میدان میں قسم دے کرپوچھاکہ کن لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمن کنت مولاہ فعلی مولاہ اللہم وال من والاہ وعادوم من عاداہقول کوسناہے(جس نے سناہوبیان کرے یہ سن کے)کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور گواہی دی کہ (ہم نے)اس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے اورکچھ آدمیوں نے اس کوچھپایا(ان کی یہ حالت ہوئی)کہ دنیا میں اندھے ہوگئے اوران کوکوئی آفت (ضرور)پہنچی ان میں (یعنی جنھوں نے اس خبرکوپوشیدہ رکھاتھا) سے یزیدبن ودیعہ اورعبدالرحمن بن مدلج بھی تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان سے دعامانگتے وقت ہاتھ اٹھانے کی کیفیت میں حدیث (مروی )ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے اور کہاہے کہ ان کی (حدیث)میرے نزدیک مرسل ہے ان کوصحابہ میں ذکرکرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے سوااس کے کہ یہ ان لوگوں میں ہیں جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھےاس کے متعلق عبداللہ بن محیریز کےبیان میں بحث ہوچکی ہے۔عقیل نے بھی ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام عبداللہ تھااور(یہ)بڑے بزرگ تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
محمد کے والد ہیں ۔مجہول ہیں۔ان کا صحابی ہونا مشہورنہیں ہے ان کو (بعض لوگوں نے )صحابہ میں ذکرکیاہے۔وکیع نے محمد ابن فضیل سے انھوں نے یحییٰ بن محمد بن عبدالرحمن انھوں نے اپنے دادا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جب آپ خیبر میں تشریف لائے تو آپ کے پاس ایک یہودی عورت بکری کابھناہواگوشت لائی آپ نے اوربشربن براءبن معرور نے اس گوشت کو کھالیا اورپوری حدیث بیان کی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن شدادبن جذیمہ بن وراع بن عدی بن داربن ہانی داری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا ان کا(اصل)نام عروہ تھا اور تمیم دارمی کے قبیلے سے تھے۔ ان کا ۱؎ترجمہ وہ لوگ لوٹ گئے اس حال میں کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھےاس رنج میں کے ان کے پاس خرچ کرنے کونہیں ہے۱۲۔ تذکرہ ابوموسیٰ نے عروہ بن مالک کے نام میں کیاہے اورابن کلبی نے کہاہے کہ ان کا نام مروان بن مالک تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن نام رکھایہ ان داریوں سے ہیں جن کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت)خیبر (سے کچھ دینے)کی وصیت فرمائی تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید