۔فریابی نے سفیان ثوری سے انھوں نے عمربن سعید سے انھوں نے عثمان بن ابی سلیمان سے انھوں نے عبداللہ ابن فضلہ کنانی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اورحضرت ابوبکروعمر کی وفات ہوئی اس وقت تک مکہ کے بازار فروخت نہ کیے جاتے تھے۔اس کومعاویہ بن ہشام نے عمرسے انھوں نے عثمان سے انھوں نے نافع بن جبیر بن مطعم سے انھوں نے علقمہ بن فضلہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی روایت کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔قبیلۂ بنی عدی بن کعب سے ہیں قریشی ہیں۔مہاجرین حبش سے ہیں۔عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے جن لوگوں نے حبش کی طرف حضرت جعفربن ابی طالب کے ساتھ ہجرت کی تھی ان میں عبداللہ بن نضلہ بھی تھے جوخاندان بنی عدی بن کعب سے تھے قریشی تھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے کہا ہے کہ یہ غلطی ہے علمأ مغازی نے خواہ زہری ہوں خواہ ابن اسحاق کسی نے اس بات میں اختلاف نہیں کیاکہ ان کا نام معمر بن عبداللہ بن نضلہ ہے۔ان کا تذکرہ معمرکے نام ہیں انشاءاللہ تعالیٰ آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔کنیت ان کی ابوبرزہ ہے۔اسلمی ہیں۔ ان کے نام میں لوگوں میں اختلاف کیاہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ عبداللہ کے ناموں میں کیاہے اورواقدی سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے کہتے تھے کہ ان کا نام عبداللہ بن نضلہ ہے ابن شاہین نے کہاہے کہ ان کے بیٹے سے زیادہ ان کاعلم کسے ہوسکتاہے۔ہم عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ ان کا ذکرکنیت کے باب میں بھی کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان سے ابوبکربن محمد بن عمرو بن حزم نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ)فرمایاجس مسلمان کے تین لڑکے مرجائیں اوروہ ثواب سمجھ کر صبرکرے تو وہ لڑکے اس کے لیے دوزخ سے سپر بن جائیں گے ایک عورت نے عرض کیاکہ یارسول اللہ اگرکسی کے دو لڑکے مرے ہوں آ پ نے فرمایادولڑکے (مرے ہوں)تب بھی یہی ثواب ہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھا ہے اور کہاہے کہ یہ ایک مجہول شخص ہیں سوا اس حدیث کے اورکوئی حدیث ان کی معلوم نہیں ہوتی ۔ان کو لوگوں نے صحابہ میں ذکرکیاہے مگر اس میں کلام ہے بعض لوگ ان کو محمد کہتے ہیں اور بعض ابوالنضر کہتے ہیں یہ سب اختلافات امام مالک کے شاگردوں نےکیے ہیں مگر ابن وہب نے یہ حدیث ابوبکربن محمد بن عمروبن حزم سے روایت کی ہے اور وہ عبداللہ بن عامراسلمی سے روایت کرتے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔حصرمی۔ان کاتذکرہ حسن بن سفیان نے صحابہ میں کیاہے۔اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ یہ حمصی ہیں اور ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابویعلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوعمرو بن حمدان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن مصفی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے محمد بن حزب نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابوحیوہ نےسعید بن سنان سے انھوں نے شریح بن کسیب سے انھوں نے عبداللہ بن ناشح سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیاکہ آپ فرماتے تھے کہ میری امت میں لوطیہ ایک جماعت ہمیشہ قیامت تک رہے گی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ابواحمد عسکری نے کہاہے کہ بعض لوگوں کاقول ہے کہ ناشح حاکے ساتھ ہے اورمیں نے ایساہی ان لوگوں کے سامنے پڑھ کرسنایاہے کہ جو لوگ ان کے نام سے زیادہ واقف۔۔۔
مزید
اور بعض نے ان کوفقط میسرہ بیان کیاہے یہ بیٹے ہیں عوف بن سباق بن عبدالدار بن قصی کے۔یہ حضرت عثمان ابن عفان کے ساتھ واقعہ وار کے دن مقتول ہوئے۔ان کوعدوی نے ذکرکیاہے مگران کے صحابی ہونے میں اوران کی روایت میں اختلاف ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔ابن کلبی نے بیان کیاہے کہ بنی سباق وہ لوگ ہیں جنھوں نے پہلے مکہ میں بغاوت کی تھی پس انھوں نے قریش کے بہت سے لوگوں کوہلاک کردیاتھا۔قبیلۂ بنی سباق کے کل آدمی سو؟ان اہل بیت ؟کے جویمن میں مخالفت میں پڑگئے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن منیب۔ازدی۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابراہیم بن محمد بن یوسف قربانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن بکیر نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حارث بن عبیدہ بن رباح غسانی نے اپنے والد عبیدہ سے انھوں نے منیب بن عبداللہ ازدی سےانھوں نے عبداللہ بن منیب سےروایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کل یومہ ھوفی شانپس ہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ شان کیاہے توآپ نےجواب دیا (وہ یہ ہے کہ) گناہوں کو معاف کرتاہے اور سختی تکلیف کودورکرتاہے اور کسی قوم کوعزت دیتاہے اور کسی قوم کو پستی میں ڈالتا ہے ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کی کنیت ابومنتفق ہے ۔لشکری ہیں اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ سلمی ہیں کوفی ہیں۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ان سے ان کے لڑکے مغیرہ نے حدیث روایت کی ہے۔ محمدبن حجاوہ نے مغیربن عبداللہ لشکری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ میں کوفہ میں گیا۔پس وہاں ایک مسجد میں (نماز کے لیے)گیااتفاقی اس مسجد میں ایک شخص تھے جن کولوگ ابن منتفق کہاکرتے تھے تووہ شخص بیان کررہے تھے کہ میرے نزدیک رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف بیان کیے گئے تومیں آپ کی خدمت میں حاضرہوا اس وقت آپ عرفات میں تھے پس میں نے آپ کے حضورمیں جانے کی بہت کوشش کی یہاں تک کہ آپ کے پاس پہنچ گیا اس وقت لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے علیحدہ ہوجاؤتاکہ راستہ کھل جائے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایاکہ تم(اس)شخص کو پکارونہ معلوم اس کی کیا حاجت ہے چنان۔۔۔
مزید
۔مزنی۔ان سے ابن سیرین اورعبدالملک بن عمیر نے حدیث روایت کی ہے انشاء اللہ تعالیٰ ان کا پورانسب ان کے بھائی نعمان وغیرہ کے تذکرہ میں لکھاجائےگا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔اورابونعیم نے یہ بھی کہا ہےکہ ان کا ذکربعد میں متاخرین یعنی ابن مندہ نے کیا ہے۔مگر ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابومغیرہ ہے۔لشکری ہیں۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اپنی سند سے ابن ابی عاصم تک خبردی اور ہم سے یحییٰ بن عیسیٰ نے عمروابن مرہ سے انھوں نے اپنے والد سے یااپنے چچاسے (یہ شک اعمش کاہے)روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھ کو کوئی ایساکام بتلادیں کہ جو مجھ کو جنت کے قریب کردے اور دوزخ سے دورکردے ۔ان کا تذکرہ ابن ابی عاصم نے ایساہی لکھاہے۔پھران کا ذکراس سے واضح طورپر عبداللہ لشکری کے تذکرہ میں کیاجائے گااورنیز عبداللہ بن منتفق کے تذکرہ میں کیاجائےگا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید