بن عمرو بن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث۔انصاری حارثی۔احد اورخندق میں اور تمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے ۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت کی۔یہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن جرابی عبید میں شہید ہوئے۔ان کے دو حقیقی بھائی اور تھے ایک زید دوسرے مرارہ یہ دونوں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں مگراحد میں شریک نہیں ہوئے ان کا باپ مربع قنیطی منافق تھا اوراندھاتھا اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپناباغ بندکردیاتھا جب آپ احد جانے لگے تو مسلمانوں کے منھ پر مٹی ڈالتاتھا اورکہتاتھا اگر آپ نبی ہیں تومیرے باغ میں نہ جائیے۔یہ ابوعمرکاکلام تھا۔ابن مندہ اورابونعیم نے ان کانسب تو اسی طرح بیان کیاہے لیکن ان دونوں نے عبداللہ بن صفوان حمجی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے اپنے ایک ماموں کو جن کا نام یزید بن شیبان تھایہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے پاس ابن م۔۔۔
مزید
ابن مریع انصاری۔ان سے یزید بن شیبان نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے ہمارے پاس ابن مربع آئے اور انھوں نے کہا کہ مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کے پاس بھیجا ہے حضرت نے فرمایا ہے کہ تم اپنے مراسم حج پر قائم رہو کیوں کہ ان کو تم نے اپنے جدامجد ابراہیم علیہ السّلام سے میراث میں پایا ہے۔بعض لوگ ان کو یزید بن مربع کہتے ہیں اور بعض زید بن مربع ان کا تذکرہ ابوعمر نے اسی طرح لکھا ہے اور یہی حدیث ان سے روایت کی ہے اورابن مندہ اورابونعیم نے اس حدیث کو اس کے بعد والے تذکرہ میں لکھاہے اس کی بحث انشاء اللہ تعالیٰ وہیں ہوگی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔اہل یمن سے ہیں۔شمار ان کا اہل شام میں ہے۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ ہمیں ابوالفرج بن ابی الرجاء نے اپنی سند سے ابن ابی عاصم سے روایت کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن ادریس نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابن ابی مریم نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کر کے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن قرط نے بیان کیا انھوں نے عبداللہ ابن قرط یمنی کویہ روایت کرتے ہوئے سنا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایاکہ دوزخ سے بچنے کی فکر کروچھوہارے کا ایک ٹکڑاہی دیکر ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح خائے معجمہ کے ساتھ کیا ہے۔مگرابوعمر نے حائے مہملہ اور اس کے بعد دال روایت کیا ہے مگرابن مندہ اورابونعیم کا قول غلط ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدالعزی بن ابی قیس بن عبدودبن نضر بن مالک بن حسل بن عامر بن لوی قریشی عامری ۔یہ عبداللہ اکبرکے لقب سے مشہورہیں۔ان کی والدہ بہنانہ بنت صفوان بن امیہ بن محرث تھیں جوخاندان بن کنانہ کی ایک خاتون تھیں کنیت ان کی ابومحمد ہے۔سابق الاسلام ہیں۔ ابن مندہ اورابونعیم نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن محرمہ نے حضرت جعفربن ابی طالب کے ہمراہ حبش کی طرف ہجرت کی تھی اور مدینہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور فروہ بن عمروبن ودقہ انصاری بیاضی کے درمیان مواخات کرادی تھی۔بدر میں اور تمام مشاہد میں شریک تھے ابوعمر نے لکھا ہے کہ واقدی کابیان ہے کہ انھوں نے دونوں ہجرتیں کی تھیں مگر ابن اسحاق نے ان کا ذکر ان لوگوں میں نہیں کیا جنھوں نے پہلی ہجرت کی تھی بلکہ کہا ہے کہ انھوں نے دوسری ہجرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کی تھی اس وقت ان کی عمر تیس برس کی تھی۔ج۔۔۔
مزید
ا۔عقیلی نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے اور کہا ہے کہ مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے فہر بن حیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے خالدخداء سے انھوں نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابن محیریز صحابی سے روایت کر کے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم اللہ سے دعامانگو تواپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلادو اورہتھیلیوں کی پشت اپنی طرف نہ کرو عقیل نے اسی حدیث کے سبب سے ان کو صحابہ میں شمار کیاہے حالانکہ اس حدیث کو اسمٰعیل ابن علیہ اورعبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے انھوں نے ابوقلابہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ عبدالرحمٰن بن محیریز نے کہا جب تم اللہ سے دعامانگوالخ ان دونوں نے عبدالرحمٰن کہا ہے نہ عبداللہ اور خالد خداء سے بھی اس حدیث میں عبدالرحمٰن منقول ہے۔اورعبداللہ بن محیریز اہل شام میں سے ایک مشہور شخص ہیں قریش کے خاندان بنی جمح کے اشراف سے تھے علم اور دین میں ان کا بڑاپایہ ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابومحمد ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مدشراب کے بارے میں ایک روایت کی ہے۔ان کی حدیث سہیل بن ابی صالح نے محمد بن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے اورابونعیم نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ سہیل نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن محمد۔اہل یمن سے ہیں۔عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے کہ انھوں نے عبداللہ بن محمد یمنی سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایاکہ دوزخ سے بچنے کی فکرکرو گوچھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی دے کر سہی۔ان سے عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے۔عبداللہ بن قرط کا شماربھی صحابہ میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح مختصرلکھا ہےابوعمر نے ان کے والدکانام محمد بیان کیا ہےاور بعض لوگوں نے مخمرکہاہے۔ان کاذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن محمد بن مسلمہ بن سلمہ۔انصاری۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے شرفیاب ہوئے اور فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک رہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ میں نے عبداللہ بن سلیمان کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔جس وقت ہوازن کے لوگوں نے زمانہ رِدّت میں اسلام سے پھرجانے کا قصد کیا یہ وہاں سے علیحدہ ہوگئے تھے اسوغسانی نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک خثعمی۔ان کا تذکرہ محمدبن مسلمہ کی حدیث میں ہے۔ابویحییٰ نے عمروبن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کونمازکاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوجائیں اس کے بعد پوری حدیث۱؎ذکرکی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ ۱؎پوری حدیث یہ ہے کہ اگروہ دس برس کے ہوجائیں تونماز نہ پڑھنے پران کو مارو۱۲ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید