ابن مالک بن معتمر۔قبیلۂ بنی قطیعہ بن عبس سے ہیں۔صحابی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجاتھااس میں ان کو ایک سفید جھنڈا عنایت کیاتھا۔فتح قادسیہ میں شریک تھے اور اس دن لشکر کے ایک جانب کے افسر یہی تھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابن ابی عاصم نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اپنی سند سے ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے علی بن میمون نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن مسلمہ نےبیان کیاوہ کہتے تھےہم سے اعمش نے عمرہ بن مُرَّہ سے انھوں نے عبداللہ بن حارث سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاظلم سے بچو کیوں کہ قیامت کے دن ایک ظلم سے بہت سی تاریکیاں پیداہونگی اور فحش سے بچو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام اور فحش گفتگوکو پسند نہیں کرتا اور حرص سے بچو تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کو حرص ہی نے ہلاک کیا حرص نے انھیں ظلم کرنے کی ترغیب دی پس انھوں نے ظلم کیا اور حرص نے انھیں بدگوئی کی ترغیب دی پس انھوں نے بدگوئی کی اور حرص نے انھیں قطع قرابت کی ترغیب دی پس انھوں نے قطع قرابت کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک کنیت ان کی ابوکاہل بجلی احمسی ہیں۔اسمعیل بن ابی خالد نے اپنے بھائی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے ایساہی نقل کیا ہے مگراکثرلوگ یہ کہتے ہیں کہ ابوکاہل کا نام قیس بن عائذ تھا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک بن ابی قین۔خزرجی۔کعب بن مالک کے بھائی ہیں ان سے ان کے بھتیجے عبداللہ نے روایت کی ہے مگر ان کی روایت معلوم نہیں۔ان کی اور روایت بھی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
غافقی۔کنیت ان کی ابوموسیٰ ہے بعض لوگ ان کو مالک بن عبداللہ کہتے ہیں ۔مصری ہیں۔ ابن وہب نے ابن ربیعہ سے انھوں نے عبداللہ بن سلیمان سے انھوں نے ثعلبہ بن ابی کنود سے انھوں نے عبداللہ بن مالک غافقی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ حضرت عمر سے فرماتےتھے کہ جب مجھے نہانے کی ضرورت ہوتی ہے تو میں وضو کرکے کھاپی لیتاہوں مگرنماز نہیں پڑھتا اورقرآن نہیں پڑھتا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن بحینہ ۔بحینہ ان کی والدہ کا نام ہےاورمالک ان کے والد ہیں۔مالک بیٹے ہیں قشب ازدی کے۔قبیلۂ ازد شنواوسےبنی مطلب بن عبدمناف کے حلیف تھے۔مقام بطن ریم میں جومدینہ کے اطراف میں ہے رہتے تھے۔کنیت ان کی ابو محمد ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ بحینہ ان کی دادی کا نام ہےمگرابوعمرنے کہاہے کہ پہلاقول صحیح ہے۔ ان سے ان کے بیٹے علی نے اور عطاء بن یسار نے اور اعرج نے اورمحمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان وغیرہم نے روایک کی ہے۔ہمیں اسمعیل بن عیل وغیرہ نے اپنی سند سے ابوعیسی (ترمذی) تک خبردی کہ وہ کہتے تھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے لیث نے ابن شہاب سے انھوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے انھوں نے عبداللہ بن بحینہ ازدی سے جو بنی مطلب کے حلیف تھے نقل کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ظہر کی نماز میں قعدہ بھو ل کر اٹھ کھڑے ہوئے پھرجب آپ نے نمازپوری کرلی توقبل سلام کے بیٹھے بیٹھے (سہو۔۔۔
مزید
بن بحینہ ۔بحینہ ان کی والدہ کا نام ہےاورمالک ان کے والد ہیں۔مالک بیٹے ہیں قشب ازدی کے۔قبیلۂ ازد شنواوسےبنی مطلب بن عبدمناف کے حلیف تھے۔مقام بطن ریم میں جومدینہ کے اطراف میں ہے رہتے تھے۔کنیت ان کی ابو محمد ہے بعض لوگوں کابیان ہے کہ بحینہ ان کی دادی کا نام ہےمگرابوعمرنے کہاہے کہ پہلاقول صحیح ہے۔ ان سے ان کے بیٹے علی نے اور عطاء بن یسار نے اور اعرج نے اورمحمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان وغیرہم نے روایک کی ہے۔ہمیں اسمعیل بن عیل وغیرہ نے اپنی سند سے ابوعیسی (ترمذی) تک خبردی کہ وہ کہتے تھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے لیث نے ابن شہاب سے انھوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے انھوں نے عبداللہ بن بحینہ ازدی سے جو بنی مطلب کے حلیف تھے نقل کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ظہر کی نماز میں قعدہ بھو ل کر اٹھ کھڑے ہوئے پھرجب آپ نے نمازپوری کرلی توقبل سلام کے بیٹھے بیٹھے (سہو۔۔۔
مزید
بن ابی اسید بن رفاعہ بن ثعلبہ بن ہوازن بن اسلم بن افصٰی اسلمی۔یہ عبداللہ بن ابی اوفی بن حارث بن اسید اسلمی کے چچاہیں۔ ان سے عقبہ بن عامر نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے ہم ایک عمرو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ گئے جب مقام رابغ میں پہونچے اس وقت میں حضرت کے پہلومیں بیٹھاتھاتو آپ نے سورۂ قل ہواللہ احداورمعوذتین کی فضیلت بیان کی۔اس کو ابو علی غسانی نے ابن کلبی سے نقل کیا ہے اور ابواحمدعسکری نے بھی ایسا ہی بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن ماعز تمیمی۔ ان کا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ان کی حدیث عبید بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے۔ ہنید بن قاسم نے جعید بن عبدالرحمٰن سے انھوں نے عبداللہ بن ماعزسے روایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے اورآپ سے بیعت کی اورکہا کہ ماعز سب لوگوں کے بعد اسلام لائے ہیں پس ان کوکوئی شخص مضرت نہ پہنچائے حضرت نے ان سے اسی شرط پر بیعت لے لی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔انصاری۔ ان سے مروی ہے کہ یہ کہتے تھے میں انصار کے چند لڑکوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملا جب آپ تبوک سے لوٹ کرآئے تھے اس وقت میری عمر پانچ سال کی تھی اب بھی وہ کیفیت میری آنکھوں کے سامنے ہے جب آپ اونچے ٹیلہ پر چڑھ کر اونٹ پر سوارہورہےتھے اور لوگ آپ کے اردگرد تھے جب حضرت کی وفات ہوئی تو میں سمجھدار ہوچلاتھا لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سروں پراورکپڑوں پر مٹی ڈالے ہوئے تھے ان کے رونے کودیکھ کر میں بھی رورہا تھا۔ان عبداللہ کی کوئی حدیث سوااس کےمروی نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید