لیلی۔کبار صحابہ سے ہیں۔انھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲ھ میں ایک لشکر کے ہمراہ بھیجاتھا ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عیاش بن ابی ربیعہ۔ابوربیعہ کا نام عمروبن مغیرہ بن عبداللہ بن عمروبن مخزوم ہے۔قریشی مخزومی ہیں۔سرزمین حبش میں پیداہوئے تھے کنیت ان کی ابوالحارث ہے ان کی والدہ اسماء بنت محزمہ بن جندل بن ابیر بن فثل تمیمہ ہیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔اور حضرت عمروغیرہ صحابہ سے بھی روایت کی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےجوان کی روایتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس کو ان سے عبداللہ بن حارث نے روایت کیاہےوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم آل ابی ربیعہ کے کسی گھر میں تشریف لے گئے یا تو کسی مریض کی عیادت کے لیے یااورکسی کام کے لیے توآپ سے اسماء بنت محزمہ تمیمیہ نے جو عیاش بن ابی ربیعہ کی والدہ تھیں کہا کہ یا رسول اللہ آپ ہمیں کچھ نصیحت کیوں نہیں فرماتے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام جلاس اپنی بہن (مومنہ)کے ساتھ وہی معاملہ کروجس کو تم اپنے سات کیاجانا پ۔۔۔
مزید
ابن عویم بن ساعدہ انصاری۔ ان کا نسب ان کے والد کے نام میں ذکر کیاجائے گا ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ان کے نام میں اختلاف ہے۔محمد بن عبادہ نےعبدالرحمٰن بن سالم بن عبداللہ بن عویم بن ساعدہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ عزوجل نے مجھے اپنی تمام مخلوق سے منتخب کیا اور میرے لیے اصحاب منتخب کیے ان میں سے میرے وزیر و انصار بنائے پس جو شخص میرے اصحاب کو براکہے اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور تمام آدمیوں کی لعنت ہے۔اس حدیث کو جماعت محدثین نے محمد بن طلحہ سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن سالم بن عبدالرحمٰن بن عویم بن ساعدہ سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ان کے دادا سے روایت کیاہے اور یہی صحیح ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن ابی عوف بن عویف بن مالک بن کیسان بن ثعلبہ بن عمرو بن لشکر بن علی بن مالک بن سعد بن نذیر بن قسر بن عبقر بن اثمار بن اراش بجلی۔ان کا نام عبد شمس تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں جب یہ گئے تو آپ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔یہ کلبی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عوف بن عبدعوف بن حارث بن زہرہ ۔عبدالرحمٰن بن عوف کے بھائی ہیں ابن شاہین نے کہا ہے کہ یہ اور ان کے بھائی اسود فتح مکہ کے دن اسلام لائے تھے ان کا ایک گھر بھی مدینہ میں تھا۔زبیر نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عوف نے ہجرت نہیں کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عوف اشجع وقود میں سے ہیں۔بصرہ میں رہتے تھے یہ ابن شاہین کا قول ہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عوف۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ یونس بن شیرازی نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ہمیں ابولفرح بن ابی رجاء نے اپنی کتاب میں اپنی سند سے ابوبکر یعنی احمد بن عمرو بن ضحاک تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یزید بن ہارون نے حماد بن سلمہ سے انھوں نے جبلہ بن عطیہ سے انھوں نے عبداللہ بن عوف سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاایمان یمن میں ہے محمود بن ابراہیم بن سمیع نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ تابعی ہیں شام کے رہنے والے تیسرے طبقے سے ہیں عمر بن عبدالعزیز کے عامل تھے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عوسجہ سنجلی۔ثم العرفی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا خط دے کر بنی حارثہ بن عمرو بن قریطہ کی طرف بھیجا تھا ان کا آپ نے اسلام کی دعوت دی تھی انھوں نے لوگوں سے خط کو لے لیا اوراسے دھوکراپنے ڈول میں پیوند لگالیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا جواب بھیجنے سے بھی انکار کردیاپس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کرلی ہے ۔چنانچہ اس قبیلہ کے لوگ اب تک بےوقوف اور مخبوط الحواس ہوتے ہیں۔ان کا تذکرہ ابو موسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن غنمہ مزنی۔صحابی ہیں فتح مصر میں شریک تھے۔محمد بن عمرواقدی نے ان کا ذکرکیاہے کہ یہ اسکندریہ کی دوسری فتح میں شریک تھے صحابہ میں ان کا ذکرکیاجاتاہے۔یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عنبہ۔کنیت ان کی ابوعنبہ خولانی۔طبرانی نے معجم میں ان کا نام ذکرکیاہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے حمص میں رہتے تھے۔ان سے محمد بن زیاد الہانی نے اوربکربن زرعہ وغیرہ نے روایت کی ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئے تھے مگر آپ کو دیکھا نہ تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سےا حادیث سنی ہیں اور دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔جراح بن ملیح بہرانی نے بکر بن زرعہ خولانی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں نے ابوعنبہ خولانی سے سنا وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اصحاب میں سے تھے جنھوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی ہے اور زمانہ جاہلیت میں خون کا بھی استعمال کیا ہے وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے دین (کے باغ) میں پودے لگائے اور ان کو اپنی اطاعت کے کام میں لگایا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ۔۔۔
مزید