ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عبداللہ ابن عمروکنیت رضی اللہ عنہ

  ابوہریرہ واقدی نے ان کا نام یہی بتایاہے اور کہاہے کہ ۵۹ھ؁ میں بعمر اٹھاون سال وفات پائی ۔مقام ذوالحلیفہ میں رہتےتھے ان کا ایک گھرمدینہ میں تھا جس کوانھوں نے اپنے غلام پر خیرات کردیاتھا کنیت کے بابوں میں ان کا حال پھربیان کیا جائے گا ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے حضرت ابوہریرہ کے نام میں قریب قریب بیس اختلاف ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن عمرو لویم۔بعض لوگ ان کو عبداللہ  بن عامر کہتے ہیں ان کا شمار صحابہ میں ہے مسعرنے عبید بن حسن سے انھوں نے عبداللہ بن معقل سے انھوں نے  جن میں سے ایک شخص قبیلہ مزینہ کے تھے اورایک دوسرے سے روایت کرتے تھے ان میں سے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن یوم تھا اور دوسرے کانام غالب بن ابجر مسعر کہتے تھےمیں سمجھتاہوں غالب وہی شخص ہیں جونبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گئے تھے اورانھوں نے عرض کیاتھا کہ یارسول اللہ اب میرے پاس سوائے گدھوں کے اورکوئی مال باقی نہیں رہا آپ نے فرمایا ان میں جو فربہ ہوں وہ اپنے گھروالوں کوکھلادو اس لئیے کہ میں نجاست کھانے والے جانوروں کو مکروہ سمجھتاہوں ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے اورابوعمر نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ عبداللہ بن عمرو بن ملیل مزنی صحابی ہیں ابوعمر نے ان کاتذکرہ مختصرلکھاہے۔ابواحمدعسکری نےکہاہے کہ عبداللہ بن عمروبن ملی۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو بن قیس رضی اللہ عنہ

   بن زید بن سوادبن مالک بن غنم بن مالک بن نجار۔ابی کے والد ہیں اور ابن ام حرام کے ساتھ مشہورہیں حضرت انس بن مالک کے خالہ زاد بھائی ہیں ان کی والدہ ام حرام بنت ملحان ہیں جو حضرت عبادہ بن صامت کی بی بی تھیں۔پس یہ حضرت عبادہ کے رہیب ہوئے،انھوں نے بہت بڑی عمرپائی تھی یہاں تک کہ ان سے ابراہیم ابن ابی عبلہ نے روایت کی ہے۔ہمیں ابویاسر نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد تک خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے کثیر بن مروان یعنی ابومحمد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے ابراہیم بن ابی عبلہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے عبداللہ بن عمروبن ام حرام انصاری کو دیکھا ہے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دونوں قبلوں کی طرف نمازپڑھی تھی ان کے جسم پر ایک خاکی رنگ کا سوتی کپڑا تھا۔کثیر کا خیال ہے کہ سوتی چادرمرادہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

   بن عوف۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو قبیلئہ عرنیہ کے لوگوں میں گرفتار کرلئے گئے تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے  ؂۱     کوقتل کیاتھا۔یہ واقدی کا بیان ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن عمروبن عاص بن وامل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیس بن کعب بن لوے قریشی سہمی۔کنیت ابومحمد ہے اوربعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابوعبدالرحمٰن ہے ان کی والدہ ریطہ بنت منبہ بن حجاج سہمی ہیں اپنے والد سے بارہ برس چھوٹے تھے اور اپنے والدسے پہلے اسلام لائے تھے بڑے فاضل و عالم تھے قرآن پڑہاتھااور کتب سابقہ بھی پڑھی تھیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تھی کہ میں آپ کی حدیثیں لکھا کروں گا حضرت نے انھیں اجازت دی تھی۔پھر انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں جوکچھ سنوں لکھ لیا کروں خواہ خوشی کی حالت میں آپ فرمائیں یاناخوشی کی حالت میں آپ نے فرمایا ہاں جوکچھ میں کہتاہوں وہ حق ہی ہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مجھ سے زیادہ حافظ کوئی نہ تھا سوا عبداللہ بن عمروبن عاص کے مگروہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتانہ تھا۔حضرت عبداللہ کہتے تھے م۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن طفیل (ملقب بہ)ذی النور۔ازدی ہیں اوسی ہیں ان کا نسب اوپر بیان ہوچکا ہے۔حسن بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ یہ مسلمانوں کے شہسواروں میں تھے اوربہت جفاکش اوربزرگ تھے غزوہ اجنادین میں ۱۳ھ ؁میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن عمروبن زید بن خمز بن عوشیاں بن عمرو بن مالک بن تیہان الہانی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے تھےحضرت نے ان کا نام پوچھاتو انھوں نے کہا عبدالزیٰ حضرت نے فرمایاتمھارانام عبداللہ ہے۔اس کوکلبی نے بیان کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن عمروبن حلحلہ ۔ان کا ذکر لوگوں نے صحابہ میں کیا ہے مگر یہ غلطی ہے محمد بن عبداللہ بن عمرو بن حلحلہ نے اپنے والدسے اور رافع بن خدیج سے روایت کی ہے کہ یہ دونوں کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن غسل کرنااورمسواک کرنا ہربالغ پرواجب ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)  ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  ۔حضری۔بنی امیہ کے حلیف تھے۔واقدی نے کہا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوچکے تھے۔انھوں نے حضرت عمربن خطاب سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے مختصراً لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن حزم انصاری۔عمارہ بن عمرو بن حزم کے بھائی ہیں ان کا ذکر مغازی میں آتا ہے مگر ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید