ابن عمرو حمجی۔مدنی۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہی کہ آپ اپنی موچھیں اور ناخون جمعہ کے دن ترشواتے تھے اس کی سند میں کچھ کلام ہے۔ ان سے ابراہیم بن قدامہ نے روایت کی ہے۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن بجزہ بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرطہ بن عدی بن کعب قرشی عدوی۔فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہم ان کی کوئی روایت نہیں جانتے۔ ان کا تذکرہ موسیٰ بن عقبہ اور ابن اسحاق نے ان لوگوں میں کیاہے جو خاندان بنی عدی بن کعب سے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ابومعشر نےکہا ہے کہ ان کا خاندان یمن میں ہے ان کے گھرانے کو بجرہ بن عبداللہ بن قرط نے قتینی بتایاتھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
و بن احوص۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں طراد بن محمد زینبی نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں بلالی حفارنےحسین بن یحییٰ بن عباس سے انھوں نے حسن بن محمد بن صباح سے انھوں نے عبیدہ بن حمیدسے انھوں نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے سلیمان بن عمرو بن احوص سے انھوں نے اپنی والدہ سے روایت کرکے خبردی کہ ہو کہتی تھیں میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو حجرہ العقبہ کے پاس سواری پردیکھا آپ فرمارہے تھے کہ اے لوگو جو شخص حجرہ کو کنکر یاں مارے تو اسے چاہیے کہ خذف کی کنکریوں سے مارے وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں کنکریاں دیکھیں پھر آپ نے کنکریاں ماریں اور سب لوگوں نے ماریں پھرآپ لوٹ گئے اس کے بعد ایک عورت اپنے لڑکے کو لے کر آئی اس لڑکے کو کچھ بیماری تھی پھراس عورت نے کہاکہ اے نبی اللہ میرا بیٹایہ ہے پس اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔
مزید
ابن (امیرالمومنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ) قریشی عدوی۔ان کا نسب ان کے والدکے تذکرہ میں انشاء اللہ تعالیٰ آئے گا۔ان کی والدہ اور ان کی بہن ام المومنین حفصہ کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب جمحہ ہیں۔یہ اپنے والد کے ساتھ مسلمان ہوگئے تھے سن بلوغ کو نہ پہنچے تھے۔اوربعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ ان کا اسلام ان کے والد کے اسلام سے بھی پہلے تھامگریہ صحیح نہیں۔ سب لوگوں کا اس امر پر اجماع ہے کہ غزوہ ٔبدر میں شریک نہ تھے انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم سنی کے سبب واپس کردیاتھااوران کی شرکت ِاحد میں لوگوں کا اختلاف ہےبعض کاقول ہے کہ احد میں شریک تھے اوربعض کابیان ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسوقت بھی ان کو نابالغوں کے ساتھ واپس کردیاتھا۔ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند سے یونس بن بکیر تک خبردی وہ ابن اسحاق سے روایت کرتے تھے انھوں نے کہا، مجھے نافع نے حضرت ابن عمر سے رو۔۔۔
مزید
ابن عمار انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے مگران کی حدیث محدثین کے نزدیک مرسل ہے۔ان سے عبداللہ بن یربوع نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حضرت ابوالفضائل رضی الدین حسن بن محمد قرشی عدوی صغانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حسن بن محمد بن حسن بن حیدر قرشی عدوی عمر ی صغانی: حضرت عمر بن الخطاب کی نسل میں سے تھے۔ابو الفضائل کنیت اور رضی الدین لقب تھا اگر چہ تمام علوم میں ماہر متجر تھے مگر فقہ و حدیث اور لغت میں امام زمانہ و استاد بے نظیر عدم التمثیل تھے۔دمیاطی نے کہا ہے کہ آپ شیخ صالح،فضول کلام سے صات اور حدیث میں صدوق اور لغت و فقہ و حدیث میں امام تھے۔میں نے آپ سے پڑھا آباء و اجداد اپ کے شہر صغان یعنی چغان کے رہنے والے تھے جو ماوراء النہر میں شہر مرو کے پاس واقع ہے مگر آپ ۱۵ ؍ماہ صفر ۵۷۷ھ میں شہر لاہور میں پیدا ہوئے اورغزنہ میں جاکر نشو و نمایا۔ابتداء میں اپنے والد ماجسد سے تلمیز کیا اور فنون کثیرہ واستعداد کاملہ حاصل کر کے ۶۱۵ھ میں بغدا د کو گئے اور وہاں مدت تک تحصیل علوم و تدریس او ر تصنیف میں مصروف رہے۔زان بعد مکہ معظمہ کی زیارت ک۔۔۔
مزید
امام رضی الدین ابو حامد محمد بن احمد بن ضیاء محمد بن علز محمد بن سعید العبری المکی العمری صغانی الاصل: اپنے زمانہ کے امامِ فاضل اور فقیہ کامل تھے۔آپ ابو البقاء محمد بن ضیاء متوفی ۸۴۵ھ کے بھائیاور ضیاء الدین محمد ہندی صغانی متوفی ۷۸۰ھ کے پوتے ہیں۔رمضان ۷۹۰ھ میں پیدا ہوئے۔اپنے والد اور سراج قاری سے تفقہ کیا۔شعبان ۸۵۸ھ میں وفات پائی۔کنز الدقائق نسفی کی شرح لکھی جس کا تکملہ ان کے بیٹے جمال الدین محمد بن محمد بن احمد المعروف محمد المکی متوفی ۸۸۵ھ نے لکھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
ابن علقمہ بن مطلب بن عبدمناف قریشی مطلبی۔کنیت ان کی ابونقبہ۔ہذیم اورجنادہ کے والدہیں طبری نے کہاہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرسے انھیں پچاس وثق دیے تھے ۔ ان کا تذکرہ ابوعمر اورابوموسیٰ نے کنیت کے باب میں لکھا یہاں ان کا تذکرہ کسی نے نہیں لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
آپ کا نام سردارعلی عرف وارے شاہ تھا۔آپ سید فضل الدین بن سیّد حیدرشاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔صاحب حسن خلق تھے۔گاہ بگاہ پشاور کادَورہ بھی کیاکرتے۔اپنی مملوکہ زمین میں کاشتکاری کیاکرتے۔پَتلاجسم تھا۔داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔ اولاد آپ کا نکاح سیّد ہ زینب بی بی بنت سیّد فضل الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ سے ہواتھا۔آپ کی صرف ایک بیٹی ہوئی۔سیّد ہ فضل بی بی نام۔منکوحہ صاحبزادہ سید محمد بن فضل الدین ہاشمی مَندرانوالہ۔ یارِ طریقت آپ کا ایک مرید صاحبزادہ نورحسین بن سیّد حیات محمد ہاشمی ساکن مَندرانوالہ ہے۔ تاریخ وفات سیّد وارے شاہ کی وفات سوموار۔ساتویں جمادی الاوّل ۱۳۵۸ھ میں ہوئی۔ مدفون گورستانِ نوشاہیہ۔ مادۂ تاریخ "باغ دلکشا"۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید