بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیدنا) حارث(رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس۔ بعض لوگ کہتے ہیں ابن عبد قیس بن لقیط بن عامر بن امیہ بن ظرب بن حارث بن فہر قریشی فہری۔ حبش کے مہاجرین میں سے ہیں۔ یہ محمد بن اسحاق کا قول ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر بیان کیا ہے۔ اور ابو عمر نے حارث بن عبد قیس کے نام میں ان کو ذکر کیا ہے ابن مندہ نے وہاں بھی ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابن مندہ نے جو ان کا ذکر یہاں بھی کیا اور وہاں بھی کیا تو انھوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہ دو شخص ہیں حالانکہ یہ دونوں ایک ہیں بعض لوگ ان کو حارث بن قیس کہتے ہیں اور بعض لوگ حارث بن عبد قیس کہتے ہیں ابو نعیم او ابو عمر پر کچھ اعتراض نہیں ہوسکتا کیوں کہ ابو نعیم نے ان کا ذکر صرف اسی مقام پر کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض لوگ ان کو ابن عبد قیس کہتے ہیں اور ابو عمر نے ان کا ذکر صرف وہاں کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس بن عدی بن سعد بن سہم۔قریشی سہمی۔زمانہ جاہلیت میں اشراف قریش سے تھے حکومت انھیں کے متعلق تھی اور جس قدر مال بتوں کے نامزد کئے جات یتھے وہ سب انھیں کی تحویل میں رہتے تھے۔ بعد اس کے یہ مسلمان ہوگئے اور انھوں نے سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ اور ہشام بن کلبی نے کہا ہے کہ (ان کے والد کا نام) قیس بن عدی بن سعد بن سہم (ہے)۔ ان کے نکاحم یں غیطلہ بنت مالک بن حارث بن عمرو بن صعق بن نشوق بن مرہ بن عبد مناہ بن کنانہ تھیں یہ لوگ غیطلہ ہی کی طرف منسوب کیے جاتے تھے۔ حارث بن قیس بھی انھیں لوگوں میں تھے جو حضرت کے ساتھ مسخراپن کیا کرتے تھے انھیں کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ اقرایت من اتخذ الحہ کواہ (٭ترجمہ اے محمد کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا معبود بنا لیا ہے) زبیر نے بھی ان کو مسخراپن کرنے والوں میں شمارکی اہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں۔۔۔

مزید

حضرت سید کبیرالدین حسن

آپ سیاح تھے آخر کار اچ میں سکونت اختیار کی، کہتے ہیں کہ آپ کی ایک سو اسّی برس کی عمر تھی، آپ سے کرامات اور خوارق عادات بھی رونما ہوا کرتی تھیں، آپ کی سب سے بڑی کرامت یہ تھی کہ آپ نے بہت سے کفار کو مسلمان کیا، جس کو اسلام کی دعوت دیتے اس میں انکار کرنے کی طاقت نہ رہتی اور وہ بے اختیار اسلام قبول کرلیتا، کافر جوق در جوق آکر آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے، یہی قصرف آپ کی اولاد میں بھی تھا لیکن آپ کی بعض اولاد فریب نفس دنیا داری اور بدعتوں وغیرہ میں مبتلا ہوگئی اور اس نے اس آبائی تصرف کے ذریعہ عجیب بدعات کھڑی کرلیں اور اپنے ان افعال شنیعہ کی وجہ سے بدنام ہوگئے، سید کبیرالدین896ھ میں انتقال کیا، آپ کا مزار اُچ شریف میں ہے۔ اخبار الاخیار۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن قبس بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق بن عامر بن زریق بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج انصری خزرجی ثم اعزرتی۔ بیعت عقبہ میں اور غزوہ بدر میں شریک تھے۔ یہ عروہ اور ابن اسحاق کا قول ہے۔ ان کی کنیت ابو خالد ہے کنیت ہی سے زیادہ مشہور ہیں ان کاذکر کنیت کے باب میں کیا جائے گا۔انک ا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن قیس بن حصن بن حذیفہ بن بدر فزاری۔ عینیہ بن حصن کے بھائی ہیں۔ ان کا نسب ان کے چچا کے نام میں گذر چکا ہے۔ قبیلہ قزارہ کے وفد کے ہمراہ نبی ﷺکے حضور میں پہنچے تھے جب کہ آپ تبوک سے لوٹے ہوء ےآرہے تھے۔ یہ ابو احمد عسکری کا ول ہے۔ اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان کے چچا عینیہ بن حصن ان کے یہاں آئے تھے یہ ان لوگوں میں تھے جن کو حضرت عمر اپنے قریب بٹھائے تھے اور اس کے بعد انھوںنے پورا قصہ بیان کیا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ عسکری کا وہم ہے یہ حال حر بن قیس کا ہے۔ ان ک حال پورا اوپر ہوچکا ہے۔ ان کا ذکر اس لئے کر دیا کہ کوئی شخص ان کو دیکھ کر یہ نہ سمجھے کہ یہ صحابی ہیں اور ان کا ذکر ہم سے رہ گیا واللہ اعلم۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبداللہ بیابانی

آپ مولانا سماء الدین کے فرزند دلبنداور اپنے زمانے کے بڑے متقی بزرگ تھے۔ تمام عمر تجرد میں بسر کی، اگرچہ آپ نے جوانی میں شادی کی تھی لیکن جب دیکھا کہ اس سے اللہ کی عبادت میں فرق آتا ہے تو ہنسی خوشی بیوی سے الگ ہوگئے۔ آپ گفتگو کرتے وقت متکلم کا صیغہ استعمال نہ کرتے بلکہ اپنے لیے غائب کا صیغہ  استعمال کرتے، مثلاً میں آؤں گا یا میں جاؤں گا کے بجائے وہ آئے  گا وہ جائے گا کہتے تھے۔ ایک عرصہ تک دہلی میں خواجہ نظام الدین اولیاء کی خانقاہ میں عبادت کرتے رہے، آپ ہر نماز میں کپڑے دھوتے اور غسل کیا کرتے تھے، اس وقت کے بادشاہ نے سادات میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھاجب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ بنفس نفیس بادشاہ کے پاس گئے اور کہا کہ یہ لوگ سید ہیں انہیں رہا کردیا جائے، بادشاہ نے آپ کی بات پر عمل کرنے سے انکار کردیا، تو آپ نے بادشاہ سے فرمایا کہ جس علاقہ میں تیری بادشاہت ہے۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

ابن قیس بن حارث بن اسماء بن مر بن شہاب بن ابی شمر۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے۔ بڑے شہسوار اور شاعر تھے ابن دباغ اندلسی نے ابن کلبی سے ان کا تذکرہ نقل کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن فردہ بن شیطان بن ضریج بن امر القبیس بن حارث بن معاویہ بن حارث بن معاویہ بن ثور۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے حاضر ہوئے تھ ابن شاہین ین کاہ ہے کہ ابن کلبینے بیان کیاہے کہ ان کے دادا کو اہل عرب شیطان صرف ان کے حسن و جمال کی وجہس ے کہتے تھے۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے حاضر ہوئے تھے۔ ابو موسی نے ان کے نسب میں قرہ کا نام لکھا ہے حالانکہ میں نے کلبی کی کتاب جمرہ میں ان کا نام فردہ لکھا دیکھا ہے ایسا ہی طبری نے بھ کہا ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن خفیف سکولی کندی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں (ان کا نام) غضیف بن حارث (ہے) مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ انکا شمر اہل شام میں ہے۔ حمس میں رہتے تھے ان سے یونس بن سیف عبسی نے رویتکی ہے کہ یہ کہتے تھے میں کوئی بات بھولتا نہیں ہوں میں یہ بات بھی نہیں بھولتا کہ میں نے رسول خدا ﷺ کو دیکھا آپ نماز میں اپنا داہنا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھے ان کا تزکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حارث (رضی اللہ عنہ)

  ابن غریۃ۔ اور بعض لوگ ان کو غزیہ بن حارث کہت یہیں۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ ان سے عبداللہ بن رافع نے روایت کی ہے۔ یحیی بن حمزہ نے اسحاق بن عبداللہ سے انھوں نے عبداللہ بن رافع سے انھوں نے حارث بن غزیہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے رسول خداﷺ سے سنا آپ فتح مکہ کے دن فرماتے تھے کہ بعد فتح کے اب ہجرت باقی نہیں ہے اب صرف ایمان اور نیت (نیک) اور جہاد باقی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنا حرام ہے اس حدیث کو سوید بن عبد العزیز نے اسحاق بن عبد اللہ بن ابی فردہ سے انھوں نے عبداللہ بن ابی رافع سے روایت کیا ہے ان کا تذکرہ تینوں ن یلکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید