ابن عوف بن ابی حارثہ بن مرہ بن نشہ بن غیظ بن مرہ بن عوف بن سعدبن ذبیان بن بفیض بن ریث بن غطفان غطفانی خالد بیانی ثم الرمسی رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے اور اسلام لائے حضرت نے ان کے ہمراہ انصار میں سے ایک شخص کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا ان کی قوم کے لوگوںنے انصری کو قتل کر دیا اور حارث ان کو بچا نہ سکے انھیں کے متعلق حسان کے یہ شعر ہیں۔ یا جار یمن بغدریذمستہ جارہ منکم فان محمد الا یعدر ومانتہ المری ما استو دعتہ مثل الزجا بند صدعہا لایجبر (٭ترجمہ۔ اے حارث تم میں سے جو شخص اپنے پروسی کی حفاظت میں بدعہدی کرتا ہے (وہ سمجھ لے) کہ محمد بدعہدی نہیں کرتے قبیلہ مرہ کی امانت اچھی طرح نہ رکھی شیشہ کی طرح اس کی شکست نہیں سکتی) حارث عذر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یارسول اللہ اللہ کی اور آپ کی قسم کہ یہ واقعہ ابن فریعہ کی شرارت سے ہوا خدا کی قسم وہ ایسا شریر ہ۔۔۔
مزید
آپ سید ابی الحیوۃ کے صاحبزادے تھے، آپ کا سلسلہ بھی سید عبدالرزاق تک منتہی ہوتا ہے، جنگال سے فقرو تجرد کے لباس میں ہندوستان کے قصبہ سالورہ خضرآباد آکر مقیم ہوئے، یہاں شاہ نصراللہ کی بیٹی سے شادی کی، شادی ہی کی وجہ سے آپ نے سالورہ میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی، سالورہ اور اس کے گردونواح کے اکثر لوگ آپ کے عقیدت مندی کے ساتھ مرید ہوئے، اکثر درویش جو آپ کی صحبت میں رہے اور اپنے کو آپ ہی کے سلسلہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ان درویشوں میں سے شاہ عبدالرزاق جو شیخ بہلول نام سے مشہور تھے وہ بھی آپ ہی کے مرید اور خلیفہ تھے، یہ شیخ بہلول علم شریعت اور طریقت میں کامل ولی تھے، جوانی ہی میں عبادت اور نیک کاموں کی طرف مائل تھے اپنی سعادت مندی کی وجہ سے جب علوم ظاہری سے فارغ ہوئے اور اخلاق حمیدہ کے لباس سے مزین ہوگئے تو اس کے بعد حق گوئی میں ان جیسا اور کوئی درویش نہ تھا، یہ لوگوں میں سلوک کی تلقین اس ۔۔۔
مزید
ابن عوف بن اسید بن جابر بن عویرہ بن عبد مناف بن شجع بن عامر بن لیث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ۔ کنیت ان کی ابو واقد لیثی۔ لیث قبیلہ کنانہ کی ایک شاخ ہے ان کے نام میں اختلاف ہے بعض تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے بیان کیا اور بعض لوگ کہت یہیں عوف بن مالک اور بعض لوگ کہتے ہیں حارث بن مالک مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور ہیں کنیت کے باب میں ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر کیا جائے گا۔ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فتح مکہ کے نو مسلموں میں سے ہیں اور قاضی ابو احمد نے اپنی تاریخ میں لکھاہے کہ ہم حنین میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے اور کہا کہ ہم کفر سیس قریب العہد تھے۔ ان سے سعید بن مسیب نے اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور عروہ بن زبیر نے اور عطاء بن یسر نے اور بشر بن سعید وغیرہم نے رویت کی ہے۔ ہمیں ابو جعفر یعنی عبید اللہ بن احمد بن علی وغ۔۔۔
مزید
ابن عمیر ازدی۔ قبیلہ بنی لہب میں سے ایک شخص ہیں۔ انھیں رسول خدا ﷺ نے اپنا خط دے کے ملک شام کی طرف شاہ روم کے پاس بھیجا تھا اور بعض لوگ کہتے ہیں شاہ بصری کی طرف بھیجا تھا راستہ میں ان کو شرحبیل بن عمرو غسانی ملا اس نے ان کی مشکیں کسیں اور ان کو لے گیا پھر یہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ رسول خدا ﷺ کا کوئی قاصد ان کے سوا مقتول نہیں ہوا جب رسول خدا ﷺ کو یہ کبر پہنچی تو آپ نے ایک لشکر مرتب کیا جسے موتہ کی طرف بھیجا ان پر زید ابن حارثہ کو آپنے سردر بنایا تھا س لشکر میں قریب تین ہزار آدمی کے تھے اہل روم نے ایک لاکھ آدمیوں سے ان کا مقابلہ کیا۔ ان کا تزکرہ ابو عمر نے ایسا ہی لکھاہے اور بو موسینے صرف ان کا نام لکھ دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ابن شاہین نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سید ابدال کے بیٹے تھے جن کا سلسلہ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے بیٹے سید عبدالرزاق علیہ الرحمۃ تک پہنچتا ہے، آپ ہی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں سید عبدالقادر علیہ الرحمۃ کے سلسلہ کو جاری کیا، شیخ محمد حسن، شیخ امان اللہ اور اسی طرح دوسرے درویش آپ کے فیض یافتہ اور معتقد تھے، آپ کی وفات 992ھ میں ہوئی، آپ کا مزار راتھور میں ہے جہاں آپ کسی تقریب کے سلسلہ میں تشریف لے گئے تھے، اللہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن مومل بن حبیب بن تمیم بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لوی قریشی عدوی۔ ان سواروں کے ہمراہ انھوںنے بھی ہجرت کی تھی جو سال خیبر میں بنی عدی سے ہجرت کر کے آئے تھے یہ کل ستر آدمی تھے اور یہ وہ وقت تھا جب تمام بنی عدی نے ہجرت کی تھی اور مکہ میں ان کا ایک شخص باقی نہ رہا تھا۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن غزیہ مزنی۔ سن۷۰ھ میں ان کی وفات ہوئی۔ انکا شمار انصار میں ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے اور کہا ہے کہ میں ان کو وہ حارث بن غزیہ سمجھتا ہوں جنھوںنے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ عورتوں سے معتہ کرنا حرام ہے اور ابو نعیم اور ابن مندہ نے ان کا تذکرہ حارث بن غزیہ کینام میں کیا ہے وہاں ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عمرو۔ کنیت ان کی ابو مکعث اسدی۔ کنیت کے باب میں ان کا ذکر اس سے زیادہ ہے امیر ابو نصر نے کہا ہے کہ ابو مکعث اسدی کا نام حارث بن عمرو ہے اور سیف بن عمر نے لکھاہے کہ یہ نبی ﷺکے حضور میں حاضر ہوئے تو آپ کو ایک شعر بھی سنایا تھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ شیخ حامد الحسنی الجیلانی کے مرید اور خلیفہ تھے، صاحب الحال و الکشف بزرگ تھے، آپ نے سلوک میں بے انتہا مجاہدے اور ریاضتیں کی تھیں اور غیب سے متعدد اشارات و مبشرات بھی سنے، آپ کے سلوک میں آنے کا واقعہ یہ ہے کہ تعلیم کے دوران ہی اللہ نے ریاضت و مجاہدے کی توفیق دی اور اس کا راستہ دکھایا، نفس و خواہشات کے خلاف آپ نے اس ضبط و تحمل سے کام لیا کہ اس کو تحریر یا تقریر میں لانا کسی کے بس میں نہیں کبھی تو ایسا ہوتا کہ شام ہوتے ہی کھڑے ہوتے تو کھڑے کھڑے صبح کردیتے اور رکوع تک بھی نہ کرتے اور کبھی تمام رات رکوع قعدہ یا سجدہ ہی میں گزار دیتے اسی طرح برسہا برس تک آپ نے صحراؤں اور جنگلوں میں عبادت کی اور اتنی عبادت کی کہ دل کی تمام خواہشات ختم ہوگئیں اور دنیاوی علائق سے بے نیاز ہوگئے، فیض باطن کے ذریعہ تفرقہ بازی اور تشویش کے جھنبیلوں سے نکل کر آرام و راحت کی زندگی گزارنے لگے، اس کے بعد توبہ اور ب۔۔۔
مزید
ابن عمرو بن ثعلبہ بن غنم بن قتیبہ بن معن بن مالک بن اعصر باہلی۔ ابو احمد عسکری نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے اور ابن مندہ اور ابو نعیم اور ابو عمر نے ان کو حارث بن حمرو باہلی سہمی کہا ہے اور ابو احمد نے ان کے نسب میں ان کو سہمی نہیں کہا مگر ان کے تذرہ میں لکھا ہیک ہ یہ سہمی ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ان سے کچھ رہ گیا ہے۔ ابن ابی عاصم نے بھی ان کو باہلی سہمی لکھاہے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ قبیلہ باہلی سے ن لوگوں کو نبی ﷺ کی صحبت حاصل ہے ان کے اور معن کے درمیان میں آٹھ پشتیں ہیں اور کم از کم سات پشتیں ہیں منجملہ ان کے سلمان بن ربیعہ بن یزید بن عمرو بن سہم بن نضلہ بن غنم بن قتیبہ بن معن ہیں بس ابو احمد نے کئی پشتیں نکال ڈالیں واللہ اعلم۔ ہمیں ابو یاسر بن ابی حبہ نے اپنی سند سے عبداللہ بن احمد سے نقل کر کے خبر دی وہ کہت یتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم س۔۔۔
مزید