ابن جمہ شمہ خثعمی۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ ان سے ان کے بیٹے حمیری ابن حارث نے روایت کی ہے کہ یہ نبی ﷺ کے حضور میں گئے تھے اور اپنے تمام ساتھیوں کے لئے جان و مال کی امان آپ سے طلب کی تھی حضرت نے انھیں ایک تحریر لکھ دی تھی اور ان کو اپنے ملک میں فلاں فلاں باتوں کی اجازت دی تھی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابو عبداللہ انھوں نے نبی ﷺ سے نماز جنازہ کے متعلق روایتک ی ہے۔ ان کی حدیچ علقمہ بن مرثد سے مروی ہے وہ عبداللہ بن حارث سے وہ اپنے والد ے روایت کرتیہیں۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حارث بیٹے ہیں نوفل کے ابو عمر نے ان کا تذکرہ حارث بن نوفل کینام میں کیا ہے پس انھیں مناسب نہ تھا کہ ان کا ذکر دوبارہ کرتے واللہ اعلم۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن وہب دوسی۔ بخاری نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ان کی حدیث محمد بن حمید رازی سے مروی ہے وہ کہتے تھے ہم سے ابو زہیر یعنی عبدالرحمن بن معز نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں خالد بن معز بن عیاض بن حارث بن عبداللہ بن وہب نے خبر دی کہ حارث اپنے والد کے ہمراہ نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے ان کے والد تو ۰مقام) سراۃ کی طرف واپس چلے گئے ان کے یہاں میوہ جات (کے) درخت بہت تھے جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو حاث مدینے میں تھے۔ یہ جنگ یرموک میں شریک تھے بالاخر فلسطین میں فروکش ہوئے تھے۔ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ تھے۔ حضرت معاویہ کے زمان یمیں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن کعب بن مالک بن عمرو بن عوف بن مذبول۔ انصاری۔ حدیبیہ میں اور اس کے بعد کے مشاہدم یں شریک تھے اور حرہ کے دن شہید ہوئے۔ ابوعمر نے ان کے والد کا ذکر کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ۔ کنیت ن کی ابو علکشہ۔ ان کا شمار اہل شام میں سے اہل رملہ میں ہے نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے یہ ازدی ہیں اور ان کی حدیث انھیں کے گھر والوں سے مروی ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسینے مختصر لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن سعد بن عمرو بن قیس بن عمرو بن امرء القیس بن مالک اغربن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن ہارث بن خزرج غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن سائب بن مطلب بن اسد بن عبد العزی بن قصی۔ ان کی حدیث سعید مقبری نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا قریش پر پیش قدمی نہ کرو اور نہ قریش کو پڑھائو اگر قریش کو تکبر نہ پیدا ہو جاتا تو میں بتا دیتا کہ کس وجہ سے اللہ عزوجل کے نزدیک ان کی بزرگی ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ مولانا الہ داد کے مرید تھے، مجاہدہ و ریاضت ذوق و شوق میں مکمل اور صاحب حال ولی اللہ تھے، آپ کے مریدوں میں سے شیخ احمد زین جونپوری بڑے متوکل، متقی اور زبردست عالم و بابرکت شخصیت تھے، اللہ ان دونوں پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔ اخبار الاخیار۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن ابی ربیعہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی۔ عیاش بن ابی ربیعہ کے بھتیجے ہیں۔ عبدالکریم بن ابی امیہ نے حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ کے حضور میں ایک چور لایا گیا الی آخر الحدیث ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ یہ بھائی ہیں عمر بن عبداللہ بن ابی ربیعہ شاعر کے جن کا نام قباع ہے۔ ان کے متعلق گفتگو حارث ابن ابی ربیعہ کے نام میں ہوچکی ہے۔ یہ ابن زبیر کی طرف سے بصرہ کے حاکم تھے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بجلی اور بعض لوگ ان کو جہنی کہتیہیں۔ ان کا شمار اہل کوفہمیں ہے ان کی حدیث حماد بن عمو نصیبی نے زید بن رفیع سے انھوں نے معبد جہنی سے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا مجھے ضحاک بن قیس نے حارث بن عبد اللہ جہنی کے پاس بیس ہزار درہم دے کے بھیجا اور کہا کہ ان سے کہنا امیر المومنین نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم یہ اشرفیاں تم پر خرچ کر دیں لہذا تم اس سے اپنا کام نکالو (چنانچہ میں گیا) حارث نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو میں نے کہا میں معبد بن عبداللہ بن عویمر ہوں میں نے کہا امیر المومنین نے مجھے حکم دیا ہے ہ میں آپ سے وہ بات پوچھوں جو ایک کتابی عالم نے آپ سے یمن میں کہی تھی حارث نے کہا اچھا (سنو) مجھے رسول خدا ﷺ نے یمن بھیجا اگر میں جانتا کہ آ کی وفات ہو جائے گی تو ہرگز نہ آپ کو چھوڑتا وہ کہتے تھے پھر میرے پاس ایک کتابی عالم آیا اور اس نے کہا کہ محمد کی وفات ہوگئی میں نے پوچھا کہ کب اس نے کہ۔۔۔
مزید