بزیادت ہاء کنیت ان کی ابو یزید۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ ان سے ان کے بیٹے یزید نے روایت کی ہے ان کا صحابی ہونا چابت نہیں۔ حسن بن سفیان وغیرہ نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ یزید ابن حجیرہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ فائدہ نہیں حاصل کرتے صحت اور فارغ البالی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ابی حجیر۔ کنیت ان کی ابو مخشی ہلالی ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں حنفی ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں ربیعہ بن نزار کے خاندان سے ہیں ان سے ان کے بیٹے مخشی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کو خطبہ پڑھتے دیکھا آپ فرما رہے تھے کہ تم لوگوں کے خون اور آبروئیں آپس میں ہمیشہ کے لئے اسی طرح حرام ہیں جس طرح آج کے دن اس مہینے میں اس شہرمیں ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن بیان۔ ان کا شمار اہل عراق میں ہے۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ صحابہ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے مگر صحیح نہیں ہے ان سے ابو قزعہ نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے (ایک مرتبہ) یہ آیت پڑھی ولا یحبن الذین یخلون بما ان اھم اللہ من فصلہ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
بضم حائ۔ تصغیر ہے حجر کی۔ یہ حجر بیٹے ہیں ابو اباب تمیمی کے حلیف ہیں بنی نوفل کے صحابی ہیں۔ ان سے ان کی لونڈی ماریہ نے زید بن عمرو بن ثقیل کا قصہ نقل کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آخر میں نون ہے۔ بیٹے ہیں مرتع بن سعد بن عبد الحارث بن حارث بن عبد الحارث ازدی غامدی کے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے اور اسلام لائے تھے یہ ہشام کلبی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن یزید بن سلمہ بن مرہ بن حجر بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ اکرمیں کندی۔ ان کو لوگ حجر اشر کہتے ہیں اس سبب سے کہ یہ (پہلے) بہت شریر تھے اور حجر بن عدی اور کو حجر الخیر کہتے ہیں یہی ان دونوں کے درمیان میں مابہ الامتیاز ہے نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے تھے تحکیم کے گواہوں میں ایک یہ بھی تھے حضرت علی کی طرف تھے حضرت معاویہ نے انھیں ارمیںہ کا حاکم بنایا تھا۔ ان کے بیٹِ عائذ شریف تھے انھوں نے عبدالرحمن ن محمد بن اشعث کو طمانچہ مارا تھا قبیلہ کندہ کو تو اس پر غصہ نہیں آیا مگر قبیلہ ہمدان کے لوگ اس پر بگڑے تھے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے ابن شاہین سے نقل کیا ہے۔ کلبی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن عمرو بن عرفجہ بن عاتک بن امرء القیس بن ذہل بن معاویہ بن حارث اکبر۔ نبی ﷺ کے حضور میں وفد بن کے آئے تھے اور اسلام لائے۔ ان کے بیٹے صلت بن حجر کا وظیفہ دو ہزار پانچ سو تھا۔ یہ ابن شاہین کا قول ہے ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
یہ والد ہیں مخشی کے۔ عبدان نے ان کو اسی طرح ذکر یا ہے حالانکہ ان کا نام حجیر ہے اور اسی نام میں لوگوں نے ان کا ذکر لکھا ہے ابو موسی نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عنبس۔ بعض لوگ ان کو ابن قیس کہتے ہیں کنیت ان کی ابو العنبس ہے کوفی ہیں اور بعض لوگ کے کہتے ہیں ان کی کنیت ابو الیکن ہے انھوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا تھا اور اسی زمانہ میں انھوں ننے (ایک مرتبہ) خون پیا تھا انھوں نے نبی ﷺ کو دیکھا نہیں مگر آپ کی زندگی ہی میں آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ انکی روایت حضرت علی بن ابی طالب اور وائل بن حجر سے ہے۔ حضرت علی کے ہمراہ جنگ جمل اور صفین میں شریک تھے۔ ان سے موسی بن قیس حضرمی نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے حضرت فاطمہ کی خواستگاری کی مگر نبی ﷺ نے منظور نہیں کیا اور حضرت علی سے فرمایا کہ اے علی کیا تم اس کو منظور کرتے ہو۔ اس حدیث کو عبداللہ بن دائود حربی نے موسی بن قیس سے رویت کیا ہے انھوں نے ان کا نام حجر بن قیس بتایا ہے اور اتنی بات زیادہ روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا اے علی کیا تم اس کو منظور کرتے ہو ب۔۔۔
مزید
ابن عدی بن معاویہ بن جبلہ بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ اکرمیں میں حارث بن معاویہ بن حارث ابن معاویہ بن ثور بن مرتع بن معاویہ بن کندہ کندی۔ یہ حجر الخیر کے نام سے مشہور ہیں اور یہ کہ ان کے والد عدی کو ادبر اس سببس ے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بھاگے جارہے تھے ان کے سر میں کسی نے نیزہ مار دیا تھا اسی وجہ سے ان کو لوگ ادبر کہنے لگے۔ نبی ﷺ کے حضور میں اور یہ اور ان کے بھائی ہانی حاضر ہوئے تھے اور جنگ قادیہ میں شریک تھے۔ فضلائے صحابہ میں تھے۔ جنگ صفین میں قبیلہ کندہ کے سپہ سالار تھے اور نہروان میں لشکر کے عشیر پر تھے اور جنگ جمل میں بھی حضرت علی کے ساتھ تھے۔ مشاہیر صحابہ سے ہیں جب زیاد عراق کا حاکم ہوا اور اس نے سختی اور بدچلنی شروع کی تو حجر نے اس کی بیعت واپس کر دی اور حضرت معاویہ کی بیعت انھوں نے واپس نہ کی تھی شیعیان علی رضی اللہ عنہ (٭شیعیان علی سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت علی مرتضی کے سات۔۔۔
مزید