ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت شیخ محمد مودود لاری

آپ ماہر علم توحید، رندمشرب تنہا پسند ور اہلِ تفرید تھے، بڑے بڑے لوگوں سے مقابلے کرچکے تھے، مشرب عالی اور ہمت بلند کے مالک تھے، 900ھ میں آگرہ آئے، شیخ امان سے بڑے اچھے تعلقات ہوگئے جنہوں نے آپ سے علم توحید حاصل کیا اور فصوص الحکم کو آپ سے پڑھا، جب رات ہوجاتی تو آپ نشہ ذوق و حال میں سرگرم ہوکر شیخ امان سے کہتے دیوانے! کتاب بند کرو اور ہماری باتیں سنو، پھر اس کے بعد حقائق و اَسرار کے واقعات بیان کرتے۔ کہتے ہیں کہ آپ کو بعض نفع رساں علوم کیمیا وغیرہ معلوم تھے، اکثر اوقات آپ شیخ امان سے فرماتے کہ میں میوہ دار درخت ہوں، مجھے ہلاؤ اور پھل چن لو لیکن شیخ امان ہمیشہ ہی جواب دیتے کہ آپ کی علم توحید کی گفتگو میرے لیے ہزار کیمیا سے زیادہ اچھی اور سودمند ہے۔ شیخ امان کی بابت آپ فرمایا  کرتے تھے ہمیں ایک جوہر قابل ملا لیکن افسوس یک چشمی ہے، عام گفتگو میں بھی آپ شیخ امان کو کانا ہی کہہ کے مخاطب کیا ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبان (رضی اللہ عنہ)

  بفتح حاء و بای موحدہ مشدہ۔ یہ حبان بیٹے ہیں منقذ بن عمرو بن عطیہ بن خنساء بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار کے انصاری ہیں خزرجی ہیں مازنی ہیں۔ صحابی ہیں۔ احد میں اور اس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک تھے انھوں نے زینب صغری بنت ربیعہ بن حارث بن عبد المطلبس ے نکاح کیا تھا اور ان کے بطن سے یحیی بن حبان اور واسع بن حبان پیدا ہوئے تھے۔ یہ دادا ہیں محمد بن یحیی بن حبان استاد امام مالک کے یہی ہیں جن سے نبی ﷺ نے فرمایا تھا ہ جب تم خرید و فروخت کیا کرو تو کہہ دیا کرو کہ لاخلابۃ ان کی زبان میں کچھ ثقل تھا پس جب یہ کوئی چیز مول لینے تو کہتے لاخبابۃ ان کو بوجہ نقصان عقل خرید وفروخت میں گھاٹا ہو جاتا تھا۔ (اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اس کلمہ کے کہنے کی ان کو تعلیم فرمائی تھی) حضرت عثمان کی خلافت میں ان کی وفات ہوئی۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حباب (رضی اللہ عنہ)

  انصاری۔ سعید بن مسیب نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے مجھے خبر ملی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک انصاری مرد کا نام جو حباب تھا بدل دیا تھا اور فرمایا تھا کہ حباب ایک شیطان کا نام ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے اور میں ان حباب کو عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول سمجھتا ہوں جن کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حباب (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبد المنذر بن جموح بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی کنیت انکی ابو عمر اور بعض لوگ کہتے ہیں ابو عمرو۔ غزوہ بدر میں جب یہ شریک ہوئے تو انکی عمر تینتیس سال کی تھی۔ واقدی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے اور ان سب لوگوں نے کہا ہے کہ یہ غزوہ بدر میں شریک تھے مگر ابن اسحاق نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہیک ہ یہ بدر میں شریک تھے ان کو لوگ اہل الرای کہتے تھے۔ ہمیں عبد اللہ ن احمد بن علی بغدادی نے اپنی سند سے ابن اسحاق تک خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے یزید بن رومان نے عروہ بن زبیر سے روایت کر کے بیان کیا و نیز ابن اسحاق نے کہا ہے کہ مجھ سے زہری نے اور محمد بن یحیی بن حبان نے اور عاصم بن عمر بن قتادہ نے اور عبداللہ بن ابی بکر وگیرہ ہمارے علما نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کیا ہے کہ رسول کدا ﷺ نے یہ ارادہ کیا کہ قریش سے پہلے پانی پر پہنچ جائیں چنانچہ جب سب سے پہلا پانی مقام بدر کا ملا ۔۔۔

مزید

حضرت میاں ظفر خاں آبادی

آپ شیخ حسن کے مرید اور خلیفہ تھے، راہ طریقت کے صادقین میں سے تھے، صاحب کرامت و استقامت اور اہل حرمت و تقویٰ تھے، زمانہ کے لحاظ سے اگرچہ آپ متاخرین میں سے تھے لیکن صفائی معاملہ کے پیش نظر متقدمین میں شمار ہوتے تھے۔ نفس کے مورچے: آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے تیس سال جان کھپائی اور ریاض کیا تب کہیں نفس کی مکاریوں کا تھوڑا ساعلم حاصل ہوا اور یہ معلوم ہوسکا کہ نفس کس طرح ڈاکے ڈالتا ہے اور اس کے مورچے کون کون سے ہیں۔ دنیوی مال نہیں چاہئے: حکایت ہے کہ شہنشاہ نصیرالدین محمد ہمایوں بادشاہ نے آپ سے نذرانہ قبول کرنے کی بارہا درخواست کی لیکن آپ نے انکار فرمادیا، ایک مرتبہ بادشاہ نے وہ تمام مہریں جو شاہی فرمان پر لگی ہوتی ہیں ایک سادہ کاغذ پر لگا کر آپ کے پاس روانہ کیا تاکہ آپ اس میں جتنے مواضع اور جتنی مقدار رقم کی چاہیں لکھ لیں، لیکن آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اور بغیر ضرورت مسلمان کا حق د۔۔۔

مزید

(سیدنا) حباب (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو۔ ابو الیسر انصاری کے بھائی ہیں۔ ان کا شمار اہل مدینہ میں ہے۔ یونس بن بکیر نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے خطاب بن صالح سے انھوں نے اپنی والدہس ے انھوں نے سلامہ بنت معقل سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی تھیں میرے چچا زمانہ جاہلیت میں آئے اور انھوں نے مجھے حباب بن عمرو کے ہاتھ فروخت کر ڈالا حباب نے مجھ سے خلوت کی چنانچہ مجھ سے ان کا بیٹا عبد الرحمن پیدا ہوا پھر ب حباب کی وفات ہوئی اور انھوں نے (اپنے اوپر) کچھ قرض چھوڑا تو ان کی بی بی نے مجھ سے کہا کہ اے سلامہ اب تم قرض کی بابت بیچی جائو گی (٭اس وقت تک یہ حکم نازل نہ ہوتا کہ جس لونڈی سے اولاد پیدا ہو جائے وہ آزاد ہو جاتی ہے) میں نے جواب دیا کہ اگر اللہ نے میرے لئے یہ مقدر کر دیا ہے تو میں اس پر صبر کروں گی پھر میں رسول خدا ﷺ کے پاس گئی اور میں نے اپنا سب حال آپ سے بیان کیا آپ نے پوچھا کہ حباب کے ترکہ کا مالک کون ہے لوگوں ن ان کے بھائی ا۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ادھن جونپوری

آپ شیخ بہاؤالدین کے فرزند ہیں، آپ اپنے وقت کے مشائخ و بزرگ تھے، بڑی عمر والے بابرکت اور  عظمت ظاہری کے مالک تھے، آپ کی عمر سو برس سے زیادہ تھی لیکن ذوق و شوق تازہ تھے، ضعف کا یہ عالم تھا کہ جب تک دو آدمی پکڑ کر کھڑا نہ کرتے آپ کھڑے نہ ہوسکتے تھے لیکن جب قوالی سنتے تو دس آدمی بھی آپ کو نہ سنبھال سکتے۔ شیخ بہاؤالدین اپنے پیرومرشد شیخ محمد عیسیٰ کی خدمت کیا کرتے تھے تو اس زمانہ میں شیخ بہاؤالدین فجر کی نماز تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ پڑھتے تھے اگرچہ آپ کے م4تعلقین میں سے کوئی انتقال کرجاتا تب بھی تکبیراولیٰ ان سے فوت نہ ہوتی تھی۔ ایک دن شیخ بہاؤالدین کا لڑکا  انتقال کرگیا تو  چونکہ دوسرے لوگ اس وقت موجود نہ تھے یہ خود اس کی تجہیز و تکفین کے سامان میں مشغول ہوگئے اس وجہ سے تکبیر اولیٰ میں شرکت کے بجائے نماز میں تشہد پڑھتے وقت آکر شریک ہوئے، شیخ عیسیٰ نے نماز پڑھنے کے بعد شیخ بہاؤالدین۔۔۔

مزید

حضرت سید علی

ارباب کمال اور صاحبان سکروجدووحال سے آپ کے گہرے تعلقات تھے ہمیشہ حال اور  سرگرمی کی حالت میں رہتے اور مجذوبانہ باتیں کرتے تھے، ہمیشہ کسی خاص لباس میں نہ رہتے بلکہ کبھی تو مشائخین کا لباس پہنتے اور کبھی سپاہیانہ لباس  زیب تن کرتے، دراصل سوانہ کے سادات میں سے تھے، طلب حق کے لیے سوانہ سے چل کر جونپور آئے جہاں درویشوں کی خدمت کی اور پھر شیخ بہاؤالدین جونپوری کے مرید ہوگئے، مخصوص مقبولیت اور مخصوص حالت نصیب ہوگئی، رزق کے دروازے آپ پر کھل گئے۔ آپ کی چار بیویاں تھیں، اور اکثر لوگوں کو وظیفے دیا کرتے تھے، اپنی آمدنی میں سے نصف اپنی بیویوں کو دیتے، اور باقی نصف کو غریبوں محتاجوں پر خرچ کردیا کرتے، آپ کی آمدنی مسلسل جاری رہی کبھی بند نہیں ہوئی۔ آپ نے چالیس برس تک کسی خادِم سے کام کرنے کو نہیں کہا، ایک رات آپ سوگئے تھے کہ یکایک آنکھ کھلی پیاس کا غلبہ تھا، جو آدمی ہمیشہ آپ کے لیے پانی رکھا ک۔۔۔

مزید

(سیدنا) حباب (رضی اللہ عنہ)

  ابن عبداللہ بن ابی بن سلول۔ ان کا نام حباب تھا اور ان کے والد کی کنیت انھیں کے نام پر تھی (یعنی ابو حباب) مگر جب یہ اسلام لائے تو نبی ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔ ان کا ذکر ان شاء اللہ تعالی عبداللہ کے نام میں پورا کیا جائے گا یہی ہیں جنھوں نے رسول خدا ﷺ سے اپنے باپ کے قتل کی اجازت مانگی تھی جب کہ ان سے نفاق کی باتیں ظاہر ہوئیں مگر حضرت نے ان کو اجازت نہیں دی۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

حضرت سید علاءالدین

آپ عالی نسب سید اور صاحب ذوق و حال بزرگ تھے، فن موسیقی میں بھی ماہر تھے، شاعری بھی کرتے تھے، ندا نم آں گل خنداں چہ رنگ و بودارد کہ مرغ ہر چمنے گفتگوئے اودارد ترجمہ (نہ معلوم اس گل خنداں کی کیسی رنگ و بو ہے کہ ہر باغیچہ کا مرغ اس کی گفتگو میں مصروف ہے) بجستجوئے نیابد کسے مراد دلی! کسے مراد بباید کہ جستجو دارد ترجمہ (محض جستجو سے کوئی اپنے دل کا مقصد حاصل نہیں کرسکتا کہ مگر وہ جو اس تلاش میں ہوں) نشاط بادہ پرستاں بامنتہی برسید ہنوز ساقی ما بادہ در سبو دارد ترجمہ (سرمستان شراب اپنے عروج پر پہنچ گئے حالانکہ اب تک ساقی کے پاس سبو میں شراب موجود ہے) حدیث عشق تو تنہا نہ من ہمی گویم کہ ہر ہست ازیں گو نہ گفتگو دارد ترجمہ (آپ کے عشق کی باتیں صرف میں نہیں کرتا بلکہ ہر شخص اس گفتگو میں حصہ لے رہا ہے) متاع دل بکف دلبرے بدہ توعلاء کہ ایں متاع  گرا نمایہ و انکو  دارد ترجمہ (سامانِ دل کو کس۔۔۔

مزید