ابن مالک بن قیس عوذ بن جابر بن عبد مناف بن شجع بن عامر بن لیث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ کنانی لیثی معروف بہ ابن برصائ۔ برصاء ان کی والدہ تھیں اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کی دادی تھیں نام ان کا ریطہ بنت ربیعہ بن رباح بن ذی البردین تھا۔ ہلال بن عامر کے خاندان سے تھیں وہ اہل حجاز میں سے تھے مکہ میں رہتے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کوفہ میں رہتے تھے ان سے ابن جریج نے اور شعبی نے روایت کی ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام مالک بن حارث ہے مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ میں ابراہیم بن محمد وغیرہ نے اپنی سن سے محمد بن عیسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمدبن بشار نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن سعید نے زکریا بن ابی زائدہ سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے حارث بن مالک بن برصاء سے روایت کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فتح مکہ کے دن فرماتے تھے آج کے بعد سے قیامت تک قریش سے شرعی جہاد ک۔۔۔
مزید
ابن مالک بن قیس عوذ بن جابر بن عبد مناف بن شجع بن عامر بن لیث بن بکر بن عبد مناہ بن کنانہ کنانی لیثی معروف بہ ابن برصائ۔ برصاء ان کی والدہ تھیں اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کی دادی تھیں نام ان کا ریطہ بنت ربیعہ بن رباح بن ذی البردین تھا۔ ہلال بن عامر کے خاندان سے تھیں وہ اہل حجاز میں سے تھے مکہ میں رہتے تھے اور بعض لوگ کہتے ہیں کوفہ میں رہتے تھے ان سے ابن جریج نے اور شعبی نے روایت کی ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام مالک بن حارث ہے مگر پہلا ہی قول صحیح ہے۔ میں ابراہیم بن محمد وغیرہ نے اپنی سن سے محمد بن عیسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں محمدبن بشار نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن سعید نے زکریا بن ابی زائدہ سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے حارث بن مالک بن برصاء سے روایت کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فتح مکہ کے دن فرماتے تھے آج کے بعد سے قیامت تک قریش سے شرعی جہاد ک۔۔۔
مزید
ابن مالک طائی۔ عدی بن حاتم کے ہمراہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کے پاس قبیلہ طے کا صدقہ لے کے آئے تھے اس کے متعلق ان کا ایک شعر بھی ہے۔ اس کو ابن دباغ نے وثیمہ سے نقل کیا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن کلدہ بن عمرو بن علاج بن ابی سلمہ بن عبد العزی بن غیرۃ بن عوف بن ثقیف۔ ثقفی۔ عرب کے طبیب تھے۔ ابوبکرہ کے خاندانی آقا تھے۔ ان کے صحابی ہونے میں اختلف ہے۔ ابن اسحاق نے بواسطہ ایسے لوگوںکے جو متہم نہ تھے عبداللہ بن بکرم سے انھوں نے قبیلہ ثقیف کے ایک شخص سے روایت کی ہے کہ جب اہل طائف اسلام لائے تو ان میں سے کچھ لوگوں نے ان غلاموں کی بابت گفتگو کی جو محاصرہ طائف کے وقت رسول خدا ﷺ کے پاس آگئے تھے اور مسلمان ہوگئے تھے منجملہ ان کے ابوبکرہ بھی تھے رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ یہ لوگ خدا کے آزاد کئے ہوئے ہیں (اب یہ غلام نہیں بنائے جاسکتے) جن لوگوں نے ان غلاموں کی بابت گفتگو کی تھی ان میں حارث بن کلدہ بھی تھے۔ اور ابن اسحاق نے اسماعیل بن محمد بن سعد ابی وقاص سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ سعد بیمار ہوئے اور وہ حج الوداع میں رسول خدا ھ کے ہمراہ تھے رسول خدا ﷺ ان کی عیادت کو تشریف لے گئے۔۔۔
مزید
آپ سید جلال الدین بخاری بزرگ کی اولاد میں سے تھے جو مخدوم جہانیاں کے دادا تھے، سید جلال الدین بخاری کے دو بیٹے تھے ایک کانام سید محمود تھا، جن کے سید جلال الدین مخدوم جہانیاں بیٹےتھے اور دوسرے بیٹے کا نام سید احمد بزرگ تھا انہی کی اولاد میں سے شیخ عبدالوہاب تھے جو بہت بزرگ اور علم و عمل، حال و محبت میں کامل تھے، سلوک کے ابتدائی زمانے میں آپ اپنے شیخ استاد اور خسرمولوی صدرالدین بخاری کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے فرمایااس وقت دنیا میں دونعمتیں ہیں جو تمام نعمتوں سے افضل و اعلیٰ ہیں لیکن لوگ ان کی قدرومنزلت نہیں جانتے اور ان کے حصول سے بھی غافل ہیں۔ نعمت اول تویہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مدینہ منورہ میں بہ صفتِ حیات موجود ہے اور لوگ اس سعادت سے فائدہ نہیں اٹھاتے، دوسری نعمت قرآن کریم ہے جو اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بغیر کسی واسطہ کے اپنی مخلوق سے ۔۔۔
مزید
ابن کعب جاہلی۔ عبدان نے کہا ہے کہ میں نے احمد بن سیار سے سنا وہ کہتے تھے کہ یہ حارث جاہلی ہیں انھوں نے خود اپنا حال بیان کیا ہے کہ ان کی عمر ایک سو ساٹھ برس کی ہوچکی تھی۔ یہ بھی بیان کیا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹوں کو بہت عمدہ عمدہ باتوں کی نصیحت کی تھی جس سے ان کا مسلمان ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن حباب بن منذر۔ محمد بن عبداللہ حضرمی مطین نے صحابہ میں ان کا ذکر لکھا ہے۔ اور کہا ہے کہ عبید اللہ بن ابی رافع کی (کتاب) سیر میں ان صہابہ کے نام میں جو حضرت علی بن ابیطالبک ے ہمراہ جنگ صفین میں شریکت ھے جبیر بن حباب بن منذی نام بھی ہے اس کے علوہ نہ ان کا کہیں ذکر ہے نہ ان کی کوئی روایت ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن بحینہ۔ بحینہ ان کیو الدہ کا نام ہے اور ان کے والد کا نام مالک ہے۔ قرش ہیں بنی نوفل بن عبد مناف سے۔ انک ا صحابی ہونا ثابت ہے جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابن مندہ اور ابو نعیمنے یی لکھا ہے کہ یہ بنی نوفل بن عبد مناف سے ہیں جو کوئی اس کو دیکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ان کا نسب اسی خاندان سے ہے حالانکہ خود ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کے بھائی عبداللہ بن بحینہ کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ یہ بنی مطلب بن عبد مناف کے حلیف تھے (اس وجہ سے انکی طرف منسوب ہوگئے نہ یہ کہ ان کا نسب اس خاندان میں ہے) اس سے ابو عمرکے قول کو تصحیح ہوتی ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ماں کی طرف ان کو ہم نے اس وجہے منسوب کیا کہ یہ بہ نسبت باپ کی نسبتکے ماںکی نسبتس ے زیادہ مشہور ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ایاس بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق بن عامر بن زریق انصاری خزرجی زرقی۔ بدر میں اور احد میں شریک تھے یہ ابن اسحاق اور موسی بن عقبہ اور واقدی اور ابو معشر کا قول ہے۔ اور عبداللہ بن محمد بن عمارہ نے کہا ہے کہ ان کا نام جبر ہے بیٹِہیں ایاس کے اور یہ جبیر ذکوان بن عبد قیس بن خلدہ کے چچازاد بھائی ہیں۔ خلدہ یسکون لام ہے اور مخلد بضم میم و فتح خاء و لام مشدد ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ربیعہ خارث۔ ان کا ذکر ہشام بن عروہ کی حدیث میں ہے جو انھوں نے بواسطہ اپنے والد کے (ام المومنین) عائشہ رضی اللہ عنہا سے رویت کی ہے کہ وہ کہتی تھیں جبیب بن حارث رسول خدا ﷺ کے حضور میں آئے اور انھوںنے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں ایک شخص ہوں کہ بے حد گناہ کرتا ہوں حضرت نے فرمایا تو اے حبیب اللہ عزوجل کے سامنے توبہ (٭توبہ کے معنی رجوع کرنا دل میں یہ ارادہ کر کے کہ اب میں اس گناہ کو کبھی نہ کروں گا اس کا اظہار بعجز والجاع جناب باری عز کے بارگاہ میں کرنا توبہ ہے۔ پھر چاہے گناہ کر لے مگر س وت ارادہ نہ ہو۔ صحابہ کے قلوب کا پاک ہونا اس رویت اور اس کیمثل اور روایتوں سے معلوم ہوتا ہے جہاں ان سے کوئی لغزش ہوئی فورا ان کو تنبہگ ہوت تھا دل چونکہ آئینہ کی طرف صاف تھے اس لئے ذرا سا بھی غبار موجب تکدر ہو جاتا تھا حضرت اغر رضی اللہ کا بھی قصہ اسی کے قریب قریب ہے کہ ان سے زنا صادر ہوگئی تھی بعد ک۔۔۔
مزید