امام حافظ ابو عبداللہ محمد بن ابی
نصر حمیدی
نام : محمد
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : حمیدی
ولادت
حافظ حمیدی کی ولادت بقول حمیدی ولدت قبل
سنة عشرين واربع مائة میں ۴۲۰ھ سے
پہلے پیدا ہوا۔
آپ کا آبائی وطن رصافہ (قرطبہ) تھا مگر آپ
کے والد نے ترک وطن کر کے میورقہ میں سکونت اختیار کی جہاںآپ آخر عمر میں بغداد چلے آئے تھے اور اسے اپنا وطن بنا لیا تھا۔ (تذکرہ
ج ۴ ص ۱۷)
نسب:
محمد بن ابی نصر
فتوح بن عبداللہ بن فتوح بن حمید بن یصل۔
تحصیل علم:
حافظ حمیدی نے علمی
گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ قبول علم کی صلاحیت ورثہ میں ملی تھی۔ وہ نہایت ذکی،
ذہین اور قبولِ علم کی صلاحیت سے مالامال تھے ان کا بیان ہے کہ "كنت احمل
للسماع على الكتف سنة خمس وعشرين واربع مائة فاول ما سمعت من الفقيه اصبغ بن راشد
وكنت افهم ما يقرأ عليه" ۴۲۵ھ
میں مجھے سماعِ حدیث کے لیے کندھے پر اٹھا کر حلقۂ درس میں لایا جاتا تھا سب سے
پہلے میں نے فقیہ اصبغ بن راشد سے سماع کیا اس وقت ان کے سامنے جو کچھ پڑھا جاتا
تھا میں اس کے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ (ایضاً)
بڑے ہو کر انہوں
نے اپنے وطن کے شیوخ ہی سے کسبِ علم پر اکتفا نہ کیا بلکہ طلبِ علم کا شوق ان کو
دور دراز اسلامی شہروں اور ملکوں تک لے گیا اس طرح انہوں نے اندلس، عراق، قیروان،
مکہ، مدینہ، شام، افریقہ اور مصر کے علماء اور اساطینِ حدیث سے علوم وفنون کی تحصیل
کی۔
ابنِ خلکان لکھتے
ہیں: "رحل
الى المشرق سنة ثمان واربعين واربع مائة فحج وسمع بمكة حرسها الله تعالى
وبالافريقية وبالاندلس ومصر والشام والعراق واستوطن بغداد" ۴۸۴ھ میں اندلس سے مشرقی بلاد کا رخ کیا۔ حج کی
سعادت حاصل کی مکہ میں سماعِ حدیث کیا اور پھر افریقہ، اندلس، شام، مصر، عراق کے شیوخ
سے سماعِ حدیث کیا اور بغداد میں سکونت گزیں ہوئے۔ (وفیات
الاعیان ج ۲ ص ۳۶۵)
شیوخ :
امام ابنِ حزم،
ابو عبد اللہ قضاعی، ابو عمر بن عبد البر، ابو زیا عبد الرحیم بخاری، ابو القاسم
حنائی دمشقی، عبد الصمد بن مامون، حافظ ابو بکر خطیب، ابو جعفر بن مسلمہ، ابو غالب
بن بشران، ابو الحسن عبد الدائم بن حسن ہلالی، عبد العزیز بن احمد کتانی، ابو محمد
عبد العزیز بن حسن ضراب، ابو محمد بن حزم، علی بن احمد، ابو تمام علی بن محمد واسطی۔
(تذکرۃ المحدثین ج
۲ ص ۳۲۵)
علم و فضل:
حمیدی نے اپنے وقت
کے جلیل القدر فقہاء اور محدثین سے کسبِ علم کر کے علمی دنیا میں شہرتِ دوام حاصل
کر لی۔ ان کی رفیع الشان علمی واخلاقی شخصیت کو بڑے بڑے علماء نے خراجِ عقیدت پیش
کیا ہے۔
ابراہیم سلماسی: "لم تر
عيناى مثل الحميدى فى فضله ونبله وغزارة علمه وحرصه على نشر العلم"
"فضیلت، وسعتِ علم، حق پسندی اور اشاعتِ علم کی حرص میں میری آنکھوں نے امام
حمیدی جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
(تذکرہ ج ۴ ص ۱۸)
ابن ماکولا آپ کی علمی و روحانی شخصیت اور
اشتغال بالعلم کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں۔
"لم ار مثل صديقنا
الحميدى فى نزاهته وعفته وتشاغله بالعلم" میں نے نزاہت،عفت اور پرہیزگاری
اور علمی مصروفیت میں اپنے دوست حمیدی جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
ابراہیم سلماسی: "كان ورعاً
ثقة اماماً فى الحديث وعلله ورائه متحققاًفى علم التحقيق والاصول على مذهب اصحاب
الحديث بموافقة الكتاب والسنة فصيح العبارة متبحراً فى علم الادب والعربية والترسل"
تورع اور ثقاہت
میں
اونچا مقام رکھتے تھے حدیث، عللِ حدیث اور رواتِ حدیث کی چھان بین میں امامت کے
درجہ
پر
فائز تھے اختلافی مسائل میں علماءِ حدیث کی طرح کتاب و سنت کے مطابق انتہائی تحقیق
سے کام
لیتے
تھے آپ کا کلام فصاحت و بلاغت کا آئینہ دار تھا علمِ ادب عربیت اور فنِ خط و کتابت
میں بحرِ نا پیداکنار تھے۔ (ایضاً)
علماء اور تذکرہ نگاروں نے آپ کے وفورِ علم
اور جامعیت کا اعتراف کھلے دل سے کیا ہے
علمِ حدیث اور دوسرے علوم وفنون میں آپ کے
تبحر کا تذکرہ ابو عامر حیدری اس طرح کرتے ہیں ۔
"لا يرى مثله قط وعن
مثله لا يسئل جمع بين الفقه والحديث والادب و راى علماء الاندلس وكان حافظاً" ان جیسا
آدمی کبھی دیکھنے میں نہیں آئے گا اور نہ ان جیسے انسان کے
متعلق سوال کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ حقیقی معنی میں حافظِ حدیث تھے اور علمِ فقہ، فنِ
حدیث
اور
علمِ لغت وادب کے جامع تھے علماءِ اندلس کے قیاسی اور اختلافی مسائل سے بھی خوب
آگاہ تھے۔
ابن طرخان کہتے ہیں۔
"میں نے امام حمیدی
سے سنا ہے فرماتے تھے علومِ حدیث میں سے تین قسم کی کتابیں زیادہ توجہ طلب ہیں (۱) عللِ حدیث سے بحث کرنے والی کتابیں ان میں
سب سے بہتر کتاب امام دارقطنی کی کتاب العلل ہے (۲) مؤتلف
اور مختلف پر تصنیف کردہ کتابیں ان میں سب سے اچھی اور بہتر امیر ابن ماکولا کی
تصنیف 'الاکمال' ہے (۳) وفیات المشائخ سے
بحث کرنے والی کتابیں لیکن اس موضوع پر ابھی تک کوئی کتاب تصنیف نہیں ہوئی اس
موضوع پر لکھنے کا میرا خیال تھا میرے معاصر امیر ابن ماکولا نے مشورہ دیا کہ اسے
حروفِ معجم کی ترتیب پر سنین وار لکھو۔ ابن طرخان کہتے ہیں آپ نے اس طریقے کے
مطابق صحیحین پر لکھنے کا کام شروع کیا تھا موت نے مہلت نہ دی اور یہ کام ابتدائی
مراحل ہی میں ناتمام رہ گیا۔
(تذکرہ
ج ۴ ص ۱۹)
حافظ شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں "میں
نے امیر ابن ماکولا کا مشورہ قبول کر لیا ہے اور ان کے تجویز کردہ طریقہ پر اپنی
کتاب "تاریخِ اسلام" تصنیف کر دی ہے۔
فقہ:
حدیث کے ساتھ فقہ
میں بھی آپ کو کامل عبور حاصل تھا۔ آپ نے فقہ، فقیہ ابو محمد بن زید سے حاصل کی تھی۔
ان سے انہوں نے الرسالہ و مختصر مدونہ کی روایت بھی کی ہے ابو عامر کا بیان ہے کہ
"جمع
بین الفقہ والحدیث" وہ فقہ و حدیث دونوں میں جامع تھے۔ (ایضاً)
حدیث و فقہ کے علاوہ عربیت، ادب، شعر و سخن
اور سیر و تاریخ میں بھی مہارت رکھتے تھے۔
تلامذہ:
حافظ حمیدی نے جس
انہماک اور دیدہ ریزی سے علم حاصل کیا اور پوری عمر انہیں علم و فن کا شغف رہا اسی
طرح انہوں نے اپنے علم کے خزانے کو تقسیم کرنے اور طالبانِ علم کو دولتِ علم سے
بہرہ مند کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ان کے فیضِ علم سے بیشمار لوگ مالا مال
ہوئے۔
زاہد یوسف بن ایوب
نہرانی، محمد بن طرخان، ابو عامر حمیدی، اسماعیل بن محمد طلحی، محمد بن علی خلال،
حسین بن حسن مقدسی، ابو عبد اللہ حسین بن نصر بن محمد بن خمش، حافظ محمد بن ناصر،
اسماعیل بن سمرقندی، صدیق بن عثمان بریری، ابو اسحاق بن نبہان غنوی، ابو الفتح
محمد بن بطی، آپ کے شیخ خطیب بغدادی۔ (ایضاً)
تصانیف:
حافظ حمیدی بلند پایہ مصنف بھی تھے حدیث،
فقہ ، سیرت و تاریخ اور رجال پر ان کی گراں قدر کتابیں یادگار ہیں ان کی فہرست یہ
ہے۔
(۱) کتاب الجمع بین الصحیحین
(۲) کتاب تاریخ اندلس
(۳) کتاب الامانی الصادقہ
(۴) کتاب تسہیل السبیل الی علم الترسل
(۵) کتاب ما جاء من النصوص والاخبار فی حفظ
الجار
(۶) کتاب ذم النمیمہ
(۷) کتاب الذھب المسبوک فی وعظ الملوک
(۸) کتاب
الترسل
(۹) جمل تاریخ الاسلام یا تاریخ الاسلام
(۱۰) کتاب مخاطبات الاصدقاء فی المکاتبات
واللقاء
(۱۱) کتاب
من ادعی الامان فی امل الایمان۔
کتاب الجمع بین الصحیحین:
یہ حافظ حمیدی کی
شہرہ آفاق کتاب ہے جس میں صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیثوں کو مسانید صحابہ کے
مطابق مرتب کیا ہے اور فضائل کے لحاظ سے ان کو مقدم و موخر کیا چنانچہ سب سے پہلے
خلفاء راشدین پھر عشرہ مبشرہ کی حدیثیں ہیں اور اس کے بعد دیگر صحابہ کی مرویات ان
کے مراتب کے اعتبار سے درج کیا ہے۔ یہ حمیدی کی بڑی مستند اور معتبر کتاب ہے علامہ
ابن اثیر رقمطراز ہیں۔
"واعتمدت فی النقل من
الصحیحین علی ماجمعہ الحمیدی فی کتابہ فانہ احسن فی ذکر طرقہ واستقصیٰ فی ایراد
رواتہ والیہ المنتہیٰ فی جمع ھذین الکتابین" میں نے صحیحین
کی حدیثیں (اپنی کتاب جامع الاصول میں) نقل کرنے میں حمیدی کی کتاب پر اعتماد کیا
ہے کیوں کہ انہوں نے روات کے طرق بیان کرنے میں بڑی خوبی سے کام لیا اور روات کا
بھی نہایت استقصاء سے ذکر کیا ہے پس ان دونوں کتابوں کے بارے میں یہی کتاب اصل
مرجع ہے۔ اس کتاب کی متعدد شرحیں بھی لکھی گئیں جو کتاب کی مقبولیت کی دلیل ہیں۔
تاریخ اندلس:
شاہ عبدالعزیز
صاحب لکھتے ہیں "یہ مشہور کتاب ہے اس کا پورا نام جذوة المقتبس فی تاریخ
علماء اندلس ہے"
(بستان
المحدثین ص ۱۴۴)
زہد و ورع:
آپ نہایت متقی،
پرہیزگار، جاہ ومنصب، دولت وثروت سے دور رہنے والے بزرگ تھے دنیا اور اس کی رعنائیوں
سے دور رہتے۔ وہ نہایت ہی سادہ زندگی بسر کرتے، قناعت وتوکل شیوہ حیات تھا
وصال :
حافظ حمیدی کا
وصال ۴۸۸ ھ کو ہوا۔
تدفین :
ا ٓپ کی وصیت کے
مطابق آپ کو صوفی بشر حافی کے پاس آپ کی تدفین کی گئی ۔
ماخذ مراجع،
محدثین عظام حیات و خدمات
